جدید غزل کا معتبر نام فضا ابن فیضی: آفتاب احمد منیری
ادب فی نفسہ تنقید حیات کا نام ہے۔ جس کا مقصد تخلیق گم شدہ انسانیت کی تلاش ہے۔ یہ تلاش جب صحیح سمت اختیار کرتی ہے تو میر غالب اور
ادب فی نفسہ تنقید حیات کا نام ہے۔ جس کا مقصد تخلیق گم شدہ انسانیت کی تلاش ہے۔ یہ تلاش جب صحیح سمت اختیار کرتی ہے تو میر غالب اور
زبیر شفائی کااصل نام زبیر احمد قریشی تھا۔ وہ 10دسمبر 1944کو کانپورمیں پیدا ہوئے۔ کم وبیش پچاس سال کی مشق سخن کے بعد ان کا انتقال 27فروری 2008 کو
داراشکوہ کسی ناخواندہ شہزادے کا نام نہیں ہے بلکہ علم و معرفت کے حوالے سے آل تیمور میں کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ اس کی تصنیفات اس کے علم
اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ تذکرے ہماری ادبی اور تنقیدی روایت کا بیش قیمت حصہ اور اثاثہ ہیں۔ تذکروں کے بغیر نہ توہم ادب کی تخلیق اور
’تانیثی تنقید‘ کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے بعد کے دور کو مانا جاتاہے۔عالمی سطح پر بیسویں صدی کے وسط سے ’تانیثیت کی تحریک‘کا فروغ ہونے
نفس ہے وہم و گمان اور یقین نفس ہے انسان کی فطرت کا امین نفس نہ ہو تو مقدر ہے شکست نفس کی قید میں ہے فتح مبین اس میں
ہماری زندگی کا ناگزیر عمل بن چکا ہے۔ زندگی کے مختلف اوقات میں ہم مختلف طرح کا سفر کرتے ہیں۔ کبھی یہ مختصر ہوتا ہے اور کبھی طویل۔ اس میں
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں معروف شاعر و ادیب امیر احمد خاں امیر نہٹوری کی کتاب’اربابِ ادب‘ کا کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر
ممتاز صحافی، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، کالم نویس، فلم ساز، ہدایت کار، منظر نامہ نگار، مکالمہ نگار، خواجہ احمد عباس 7جون 1916 کو پانی پت میں پیدا