مہر نیم روز : ضلع بجنور میں اردو صحافت کا امام – پرویز عادل ماحی
ہندوستان میں مطبوعہ اردو صحافت کی تاریخ 199 برس پرانی ہے۔مولوی محمد باقر کے دہلی ارد و اخبار کو بیشتر حضرات نے اردو کا اولین اخبار تسلیم کیا ہے۔کثرت
ہندوستان میں مطبوعہ اردو صحافت کی تاریخ 199 برس پرانی ہے۔مولوی محمد باقر کے دہلی ارد و اخبار کو بیشتر حضرات نے اردو کا اولین اخبار تسلیم کیا ہے۔کثرت
پریم چند (31 جولائی 1880-8 اکتوبر 1936) ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ انھیں زندگی کے مختلف شعبوں سے دلچسپی تھی۔اپنے وقت کے سماجی، سیاسی اور تعلیمی حالات اور اس
جموں وکشمیر ہمیشہ علم وادب کی آبیاری کرتا رہا ہے۔ یہ وادی جس طرح حسین اورخوبصورت ہے ٹھیک اسی طرح یہاں کے ادیبوں کے قلم سے حسین اور دل
یوں تو زندگی کے ہر شعبے میں خواتین نے اپنی نمائندگی کو یقینی بنایا ہے لیکن ادب سے ان کی دلچسپی اس لیے زیادہ رہی ہے کہ ادب
بہار میں اردو افسانہ نگاری کاپہلا دور 1936سے شروع ہوتا ہے۔ بہار میں اردو کے پہلے افسانہ نگار مسلم عظیم آبادی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے
بیسویں صدی میں اردو فکشن کے جن علم برداروں نے اسے نئے خدوخال اور نئی وسعتوں سے ہمکنار کرایا اور زندگی کے مختلف اقدار کو سمجھنے اور اسے
اردو ادب کے مراکز ہمیشہ سے ہی لکھنؤ اور دہلی گردانے جاتے رہے ہیں مگر اس زبانِ شیریں کی ترقی میں جتنا اہم رول خطۂ
جامعہ عثمانیہ حیدرآباد ایسی عظیم مادر علمیہ ہے جس نے زندگی کے تمام شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے کئی انمول رتن پیدا کیے۔ شعبۂ
ٹی ایس ایلیٹ اپنی شاہ کار نظم کی ابتدا میں کہتا ہے :April is the cruelest monthیاد رہے ہر فن مولا عزیز احمد نے اس شاہ کار نظم کا
نیا سورج کا تحفہ دے رہا ہوں زمانہ خواب سے بیدار بھی ہے شائق مظفر پوری نے 1983 میں اپنے پہلے شعری مجموعے ’نیا سورج ‘ کے انتساب میں