وارث علوی اور افسانہ کی تنقید ،مضمون نگار:تنویر احمد

September 8, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،ستمبر 2026:

وارث علوی جدید اردو تنقید میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ شاعری اور فکشن دونوں کے حوالے سے ان کے تنقیدی کارنامے موجود ہیں۔ لیکن وہ بنیادی طور پر اردو فکشن کے اہم اور منفرد نقاد ہیں۔
وارث علوی نے ادبی فن پاروں اور تخلیقات پر تنقید کرتے ہوئے ا دبی اصولوں کوہمیشہ پیش نظر رکھا ہے۔ ان کی تنقید کلاسیکی ادب سے لے کر جدید دور تک تمام فنی وجمالیاتی اور نظریاتی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ اسی واسطے سے ان کی تنقید ی تحریروں میں روایت، رجحانات اور اجتہاد ات کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کی خوبیوں اور خامیوں کے حوالے بھی موجود ہیں۔ وہ ادب کو ترجمانی اور تشریحی زاویے سے نہیں دیکھتے۔ ان کے نزدیک فن اور ادب میں زبان و بیان سے زیادہ انسانی زندگی کے تجربات و مشاہدات کا تخیلی اظہار اہمیت رکھتا ہے ۔حقیقت پسند جارحانہ لہجہ اور جرت مندی ان کی تنقید کے بنیادی اوصاف ہیں ۔ وہ کبھی کسی کی غلطیوں کی پردہ پوشی نہیں کرتے ،انھیں جہاں ادبی یا تنقیدی لحاظ سے کوئی نکتہ کمزور نظر آتا ہے وہ بڑی بیباکی اور جرت مندی کے ساتھ اس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ ان کی یہ حقیقت پسندانہ جرت تاعمر قائم رہی۔
جدید تنقید میں جہاں شاعری پر عظیم تنقیدی کارنامے سرانجام دیے گئے وہیں اردو فکشن پربھی خاطر خواہ توجہ کی گئی اور اچھی خاصی معیاری تنقید ہوئی۔جدید ناقدین میں ممتاز شیریں، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، وارث علوی ،وہاب اشرفی وغیرہ نے فکشن تنقید پر خوب لکھا ہے، وارث علوی ان سب میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ’’جدید افسانہ اور اس کے مسائل‘‘ وارث علوی کی فکشن تنقید پر پہلی کتاب ہے۔جو 1990 میں دہلی سے شائع ہوئی تھی۔ کتاب کل چار مضامین پر مشتمل ہے۔
بظاہر اس کتاب میں چار مختلف ابواب ہیں لیکن ذرا غور کریں تو یہ ابواب مربوط و ہم آہنگ نظر آتے ہیں،جیسے ’’اجتہاد روایت کی روشنی میں‘‘ میں موصوف نے جدید رجحانات کو روایت کی روشنی میں پیش کیا ہے۔’’ افسانے کے اسلوب‘‘ میں علوی نے جدیدیت میں اسلوب کے بدلتے رویے کو بیان کیا ہے۔وہ جدید افسانے کے اسلوب کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے، جدید افسانے میں علامت،تجرید اور ابہام کی بھرمار مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ وہ افسانے میں اسلوب کو خاصی اہمیت دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جدید افسانے میں علامتی اسلوب کے نام پر جو فیشن ہو چلا ہے وہ فکشن کی شعریات کے منافی ہے۔وہ علامتی اسلوب کو خوبی نہیں بلکہ خامی سمجھتے تھے۔اس سلسلے میں ایک جگہ یوں رقم طراز ہیں۔
’’ہر جدید افسانہ علامتی ہے اور تنقید میں علامتی اظہار کی اتنی دھوم دھام ہے جتنی مارکس کی تنقید میں اشتراکی حقیقت نگاری کی تھی۔آپ کہیے ایک افسانہ مشکل مبہم یا مہمل ہے تو جواب ملے گا ہو گا کیونکہ علامتی ہے۔ آپ کہیے کہ افسانہ بو رہے تو جواب ملے گا میں تو علامتی کہانیاں لکھتا ہوں دلچسپ کہانیاں نانی اماں سے سنیے۔علامت گویا اونچی ایڑی کا وہ جوتا ہے جس سے ہر بدزیب بدصورت بونا اپنا قد اونچا کرنا چاہتا ہو۔‘‘
(جدید افسانہ اور اس کے مسائل۔ص34)
’’استعارہ اور نرا لفظ‘‘ میں وہ جدید افسانے میں علامتی اور تجریدی پہلوؤں کو موضوع بحث بناتے ہیں اور’’ افسانہ نگاراور قاری‘‘ کے ذیل میں انھوں نے افسانہ نگار اور قاری کے تعلق پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے اس تنقیدی مقدمے میں جدید اردو افسانہ کے مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے۔وارث بنیادی طورفکشن میں علامتی اسلوب اور تشبیہات و استعارات کے انکاری نہیں ہیں بلکہ انھوں نے علامتی اسلوب کے صحیح استعمال سے جدید افسانہ نگاروں کی ناواقفیت کو موضوع بحث بنایا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ جدید افسانہ تکنیک، علامت، استعارہ اور تجرید وغیرہ کی بحث میں اتنا الجھ گیا ہے کہ فکشن کے ضروری عناصر جیسے پلاٹ کہانی، کردار اور زبان وغیرہ پس پشت چلے گئے ہیں۔ وارث کا یہ خیال بالکل درست ہے جدید افسانے میں ایک وقت ایسا آیا تھا جب افسانہ نگار صرف علامت، استعارہ اور تجرید وغیرہ پرزیادہ توجہ کر رہے تھے اور پلاٹ، کہانی اور کردار کوحاشیہ پر ڈھکیل دیا تھا،لیکن بہت جلد فنکاروں اور ناقدین ادب کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اردو افسانہ کی شعریات کے اہم عناصر سے پہلو نہیں بچایا جاسکتا۔ وارث علوی اردو فکشن کی شعریات سے مکمل آگاہی رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کبھی بھی جدید افسانے میں اسلوب اور فارم کے نام پر ہو رہے نئے نئے تجربات کو تسلیم نہیں کیا اور افسانہ نگاری کی اصل شعریات کوہمیشہ پیش نظر رکھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وارث سرے سے ہی جدید افسانہ نگاروں کے مخالف نہیں رہے ہیں بلکہ نئے لکھنے والوں میں جس کے یہاں بھی انھیں توازن و ترتیب نظر آئی، انھوں نے کھلے دل سے اس کا اعتراف کیا اور سراہا بھی، جیسے اسلوب کی خوبی کی بنیاد پر بلراج مینرا، سریندر پرکاش اور انور سجاد وغیرہ کے افسانوں کو سراہا ہے۔ حالانکہ ان کے خیال میں محض اسلوب کی بنیاد پر اچھے افسانے وجود میں نہیں آتے، اس کے باوجود مذکورہ افسانہ نگاروں کے اسلوب کی غنائیت اور علامتی طرز کے بہترین استعمال کو داد دیتے ہیں ،اس سلسلے میں ان کا بیان دیکھیں۔
’’علامتی طریقہ کار کا سب سے زیادہ اور سب سے کامیاب استعمال سریندر پرکاش نے کیا ہے۔ بلراج مینرا اور انور سجاد نے تجریدیت کو اپنایا اور روایتی افسانہ کے عناصر مثلاً کردار ،واقعات ،کہانی سے کم سے کم کام لیا، لیکن ان عناصر سے پیدا ہونے والے خلا کو انھوں نے علامتی ٹکسچر یابافت سے پرکرنے کے بجائے اسلوب کی غنائیت یا زیادہ موزوں الفاظ میں خطابت سے پر کیا ہے‘‘
(جدید افسانہ اور اس کے مسائل۔ص48)
وارث علوی حقیقت پسند افسانے کے قائل ہیں ان کا ماننا ہے کہ حقیقت پسند افسانہ ہی انسانی زندگی کے خارجی و داخلی تمام پہلوئوں کا احاطہ کر سکتا ہے۔ان کی نظر میں جدیدیت کے رجحان میں افسانہ اپنی اصل اور حقیقت پسندی سے کافی دور ہو گیا تھا ،وہ جدیدیت کے رجحان میں فن افسانہ کے تعلق سے پروان چڑھنے والے اکثر تصورات کو غیر ادبی سمجھتے ہیں اور اسی واسطے سے جدیدیت کے حامی ناقدین ادب سے بھی خاصا اختلاف رکھتے ہیں۔ جدید افسانہ نگاروں سے علوی کو شکایت ہے کہ وہ تبدیلی اور نئے نئے تجربات کی دھن میں فکشن کی اصلی روح سے دور ہوتے گئے یہی وجہ ہے کہ وہ نہ تو روایتی افسانے میں کوئی سود مند اضافہ کر سکے اور نہ ہی کوئی نیا فارم تشکیل کر پائے۔ جدیدیت کے رجحان میں افسانے میں پلاٹ وغیرہ سے انحراف برتا گیا اور کہانی اور کردار کی حیثیت پر سوالیہ نشان لگائے گئے، وارث علوی ان تمام تصورات کو سرے سے خارج کرتے ہیں اورفکشن کے لیے کہانی، واقعہ ،پلاٹ اور کردار کو ضروی قرار دیتے ہیں، وہ فکشن میں زبان و بیان کے فنی و جمالیاتی استعمال پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مبہم اور غیر واضح بیانیہ جدید افسانے کی بڑی کمزوری ہے۔ان کے خیال میں جدید افسانہ نگار علامتی اسلوب کوصحیح برتنے سے ناواقف ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اسلوب میں علامت کے درست برتائو میں ناکام رہا ہے۔
وارث علوی کی کتاب’’ فکشن تنقید کا المیہ‘‘ اردو افسانے کی تنقید میں شاہکار کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ کتاب دراصل فاروقی کی مشہور کتاب’’ اردو افسانے کی حمایت میں‘‘ کا جوابی مقدمہ ہے۔اردو افسانہ کی نظریاتی تنقید کی جانب پہلی بڑی پیش رفت فاروقی نے ہی کی تھی۔ ’’اردو افسانے کی حمایت میں ‘‘لکھ کر فاروقی نے اردو افسانے کی نظریاتی تنقید میں ایک نئے دور کا آغاز کیا، جس میں فکشن بالخصوص افسانے کی شعریات کو موضوع بحث بنایا گیا اورفکشن تنقید کے نظریاتی وعملی دونوں پہلوئوں پر خاطر خواہ توجہ مرکوز کی گئی۔ وارث علوی کی یہ کتاب’’ٍ فکشن تنقید کا المیہ‘‘ بھی افسانے کی نظریاتی تنقید میں ایک بڑے اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں علوی نے افسانے کے تعلق سے فاروقی کے تنقیدی نظریات و تصورات کو پوری طرح سے چیلنج کیا ہے اور دلائل کے ساتھ اپنا موقف واضح کیا ہے حالانکہ کئی جگہوں پر موصوف کی جانب سے پیش کی گئی دلیلیں کمزور نظر آتی ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ قابل تحسین تنقیدی مقدمہ ہے۔ موصوف نے بڑی محنت و مشقت کے ساتھ فکشن نگاروں کی تخلیقات کا فنی و جمالیاتی مطالعہ کر کے ادبی تنقید کے اصولوں کی روشنی میں اپنی بات پیش کی ہے۔ کلاسیک سے لے کر جدید دور تک تمام معتبر افسانہ نگاروں کے فکر و فن پر جامع اور مدلل مضامین لکھے ہیں۔ وارث علوی فاروقی کے ان تمام خیالات سے اختلاف کرتے ہیں جن میں فاروقی افسانے کو ایک کم درجے کی صنف قرار دیتے ہیں اور افسانے کے تعلق سے دیگر خامیوں کا تذکرہ کرتے ہیں مثلاً کوئی بڑا فنکار صرف افسانے کی بنیاد پر بڑا نہیں ہے،افسانہ وقت کے چوکھٹے میں قید ہے ،اس کا کینوس بہت محدود ہے اور غزل وغیرہ کے سامنے افسانے کی حیثیت بہت معمولی ہے وغیرہ وغیرہ۔ وارث علوی اپنی اس کتاب میں فاروقی کے تمام نکات کو سلسلہ وار خارج کرتے ہیں اور مثالوں کے ساتھ اپنا موقف واضح کرتے ہیں۔
اسی کتاب میں وارث علوی نے فکشن میں تخیل کی کارفرمائی اور تخلیقی نثر کے اوصاف پر مبسوط اظہار خیال کیا ہے۔ ان کے خیال میں نثر ونظم دونوں میں تخیل یکساں کارفرما ہوتا ہے۔ وہ شاعری کی طرح نثری اصناف میں بھی تخیل کی کارفرمائی کو اہم قرار دیتے ہیں۔ان کی نظر میں شاعری کی طرح تخلیقی نثر میں بھی تشبیہ، استعارہ، سمبل اور امیج ضروری ہیں، دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح یہ تمام عناصر شاعری میں استعمال ہوتے ہیں اور اہمیت رکھتے ہیں اسی طرح تخلیقی نثر میں بھی ان کی خاص اہمیت ہے۔ نظم و نثر میں استعارے کے تعلق سے ایک جگہ اس طرح لکھتے ہیں۔
’’استعارہ تو زبان کی اور تخلیقی عمل کی صفت ہے یہ نہ سمجھو کہ استعارہ صرف شاعری کا اجارہ ہے۔اس کا استعمال تو تخلیقی نثر میں بھی اتنا ہی ہوتا ہے جتنا نظم میں۔ نثر میں اس کا حسن الگ ہے اور نظم میں الگ،نظم میں استعارہ ابھرا ہوا ہوتا ہے نثر میں قدرے پھیلا ہوا‘‘
(فکشن کی تنقید کا المیہ۔ ص 10)
وارث علوی نے منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کی فکشن نگاری کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور دونوں کی افسانہ نگاری پر بہترین تنقیدی مضامین لکھے ہیں منٹو کے حوالے سے رائج بہت ساری غلط فہمیاں دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بیدی کے بہت سارے نظر انداز کیے جا چکے افسانوں کا تنقیدی جائزہ لے کر ادبی دنیا میں ان کی قدر و قیمت متعین کی ہے۔ان کے نزدیک بیدی کے افسانوں میں شاعری اور حقیقت کا خوبصورت امتزاج ہے جس کی وجہ بیدی کے افسانوں کی خلاقانہ زبان اور اسطوری و حقیقت پسند تخیل کا توازن ہے۔ موصوف نے اردو افسانے کے بڑے فنکاروں کے ساتھ ساتھ ان افسانہ نگاروں کے فن و ادب کو بھی موضوع بحث بنایا جنھیں خاطر خواہ توجہ نہیں مل رہی تھی بالخصوص اقبال مجید،غیاث احمد گدی، ترنم ریاض، سلام بن رزاق اور خالد جاوید وغیرہ کی افسانہ نگاری پر مضامین لکھ کر ان کی ادبی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کی وارث علوی چونکہ حقیقت پسند افسانوں کے مداح ہیں اس لیے انھوں نے ہر اس افسانہ نگار یا تخلیق پر بات کی ہے جس میں انھیں حقیقت نگاری نظر آئی ہے۔ وارث علوی فکشن یعنی ناول اور افسانے کی ساخت اور ترتیب کی تکنیک پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ فکشن میں واقعات، پلاٹ، کردار، زبان و بیان اور دیگر لوازمات پر مربوط گفتگو کی ہے۔افسانے کے ساتھ ناول کے فن سے علوی کو خاصی انسیت ہے۔ان کے خیال میں ناول میں انکشاف کی کیفیت ضروری ہے،صداقت اور حقیقت کے عناصر بھی ناول میں اہمیت رکھتے ہیں۔علوی کے نزدیک افسانے اور ناول میں انسانی زندگی کو بہتر انداز میں بصیرت افروز اور معنی خیز انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ ناول کے تعلق سے ان کا مضمون بعنوان ’’ناول بن جینا بھی کوئی جینا ہے‘‘ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔
وارث علوی اردو تنقید کی روایت میں ایک خاص مقام و مرتبہ کے مالک ہیں۔عصری تنقید میں بالخصوص فکشن کی تنقید کے حوالے سے وارث علوی کو اعتبار حاصل ہے، حالانکہ انھوں نے شاعری کی تنقید بھی لکھی لیکن فکشن کی تنقید ان کا میدان خاص ہے۔ انھوں نے فکشن کے بنیادی مسائل پرمدلل گفتگو کی ہے۔ بالخصوص اردو افسانے پر ان کی تنقیدی تحریریں اردو تنقید کی روایت میں قیمتی سرمایے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وارث علوی کی تنقید کااختصاص یہ ہے کہ انھوں نے روایتی طرز سے ہٹ کر اپنے منفرد لب و لہجے اور اسلوب کے ذریعہ تنقید جیسی خشک صنف ادب کو دلچسپی سے پڑھنے کے قابل بنایا۔ ان کی تنقید میں مدلل مداحی اور بے جا عیب جوئی جیسے غیر ادبی و غیر تنقیدی عناصر بہت کم ہیں۔ موصوف نے بغیر کسی رجحان یا خاص تصور کی پابندی کے خالص ادبی اصول و نظریات کی روشنی میں نظری و عملی دونوں زاویوں سے اردو فکشن کی تنقید میں بیش بہا اضافہ کیا ہے۔

Dr. Tanveer Ahmed
Fatehpur, Rajouri,
Jammu & Kashmir-185131
Mob. 6006499352
Email: tanvirdu52@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

حسین الحق کی ناول نگاری ،مضمون نگار:زبیدہ نسیم

اردو دنیا، مارچ 2026: جدیداردو ناول نگاروں میں حسین الحق ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار 1960 کے بعدآنے والے فکشن نگاروں کی صف میں ہوتاہے۔ انھوں نے

شمس الرحمن فاروقی کے افسانے : ہند ایرانی تہذیب کابیانیہ ، مضمون نگار: محمد ارشد

اردو دنیا،نومبر 2025 شمس الرحمن فاروقی نے ادبی دنیا میں نقاد اور جدیدیت کے بنیاد گزار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ افسانے اور ناول کی شکل میں

دورِ حاضر میں پریم چند کی معنویت وافادیت،مضمون نگار:صغیر افراہیم

اردو دنیا، جولائی 2026: پریم چندکی افسانوی شخصیت قدیم و جدید افکار و نظریات کا سنگم تھی۔ ایک طرف وہ ان صحت مند روایات و اقدار اور تہذیب و تمدن