غالب۔۔۔۔حیات نو کا استعارہ،مضمون نگار:ریاض احمد

September 9, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،ستمبر2026:

قطرے کے گہر ہونے کا سفر، عناصر میں اعتدال کا نہ ہونا یا رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے یاہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے۔ یہ تمام زندگی کے مختلف مراحل ہیں جن سے گزر کر انسانی زندگی کی مسافت طے ہوتی ہے۔ انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی ان حالات و واقعات اور حوادث سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ ان سوالات پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری و ساری ہے غالب اس موضوع سے کیسے چشم پوشی کر سکتے ہیں، انھوں نے اپنی شاعری میں حیات انسانی کے کسی بھی پہلو کو نہیں چھوڑا ہے۔ بقول عبد الرحمان بجنوری:
’’لوح سے تمت تک مشکل سے سو صفحے ہیں لیکن کیا ہے جو یاں حاضر نہیں کون سا نغمہ ہے جو اس سازِ زندگی کے تاروں میں بیدار یا خوابیدہ موجود نہیں‘‘1
وہ زندگی کے نباض ہیں۔ انھوں نے ہمیں زندگی جینے کا سلیقہ سکھایا خواہشات کے سہارے زندگیوں کو منور کرنے کی ترغیب دے کر زندگی کی منزل کا تعین خود کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ وہ راہِ زندگی کے رہرو نظر آتے ہیں۔ ان کے خیال میں زندگی حادثوں سے تو بھری ہوئی ہوتی ہے مگر پے در پے حادثات کے باوجود بھی انسانی زندگی میں لاکھوں تمنائیں دائم الحبس کی صورت میں دل کے نہاں خانہ میں پوشدہ ہیں۔ اس لیے دل میں آرزو کا سفر ختم نہیں ہوتا۔ ایک آرزو پوری ہو جائے تو دوسری آرزو کی منزل روشنی کے مینار کی طرح دور سے دکھائی دے۔ جس کی طرف انسان بڑھتا رہے، کیونکہ دل ہمیشہ تمناؤں کی نئی منزلوں کا خواہاں رہتا ہے، وہ دائمی حرکت چاہتا ہے۔ غالب دریافت کرتے ہیں کہ جب دشت امکان نقش پا کے مثل ہیں تو اب دیکھو تمنا اپنا دوسرا قدم کدھر اٹھاتی ہے کیونکہ ہر انسان اپنی فطرت کی تکمیل کے لیے ضروری سمجھتا ہے کہ نئے نئے مقاصد پیدا کرتا رہے۔ اس طرح وہ انسان کو کشمکش کائنات میں بے بس دیکھنا نہیں چاہتا، بلکہ نت نئے تجربوں سے آشنا کرنے کی کوشش میں ہے۔ تمنّا کی آزادی کا ایک وصف یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنی طرف سے پہل کرنے کا موقع فراہم کر دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ خوب سے خوب ترکی تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔ اس کے سفر کی جو منزلیں طے ہو چکیں وہ طے ہو چکیں اب وہ پلٹ کر ان کی طرف نہیں دیکھنا چاہتا۔ جب کہ انھیںماضی سے بے حد لگائو تھا۔ماضی کی شاندار روایات اور اقدار ان کے لہو میں بسی ہوئی ہیں، وہ تہذیب رفتہ کے ماتم گسار بھی ہیں اور ان کو رنگارنگ بزم آرائیاں اور بادہ شبانہ کی سرمستیاں یاد بھی ہیں۔لیکن وہ کبھی بھی جذباتی نہیں ہونے پاتے۔ ماضی کی تاریخ سے بھی اپنا رشتہ منقطع نہیں کر سکتا کیونکہ ماضی حال کا زینہ ہوتاہے۔ ہر زمانے میں انسان نے اپنی ذات سے ماورا ہو کر نئے احوال کی تخلیق کی ہے اگر ایسا نہ ہو تو زندگی قطعی طور پر ہمیشہ کے لیے پابند ہو جاتی ہے اور انسان عالم تکوین کے مذاق کا تختہ مشق بن جاتا ہے اور وہ وہاں ہرگز نہ پہنچ سکتا جہاں آج ہم اس کو دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے غالب انسان کو ایسے ایسے حیرت انگیز بیابانوں میں لے جانے کے لیے سرگرداں رہتا ہے، جن کے راستوں کو خود تحیر نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے کیونکہ کائنات کا ہر ذرہ تبدیلی اور انقلاب کی حالت میں ہے جو کچھ ہوتا ہے وہ قانون قدرت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے انسان کو ہر وقت اپنے آپ کو زمانے کے مطابق ڈھالنا چاہیے کیونکہ یہاں کسی شے کو ثبات نہیں بقول غالب
خوشی خوشی کو نہ کہہ ‘غم کو غم نہ جان اسد
قرار داخل اجزائے کائنات نہیں
قرار داخل اجزائے کائنات یا عمر طبیعی سے بہتر ہی سہی لیکن اس کا کیا اعتبار کہ میں عمر طبیعی کو ضرور پہنچ جاؤں گا غالب زندگی کی آفات و حوادث کو مدنظر رکھتے ہوئے بنی نوع انسان کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا، نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا کے باوجود بھی انسان کو اپنی زندگی میں مقصد کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ :
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے ادھر ہوتا کاش کہ مقام اپنا
غالب اصل میں انسان کی منزل مقصود کی طلب کو بڑھاوا دینے میں خار دار راہوں سے آشکار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ راہ کو پرخار دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ زندگی میں مختلف حیرت انگیز بیابانوں سے گزرنا پڑتا ہے لیکن مقاصد کی لگن یا آرزو مندی کی نیرنگِ تمنا ہی ان تمام کیفیتوں کو اپنے حلقہ دام میں لے سکتی ہیں جو زندان میں بھی صحرا نوردی سے باز نہیں رکھتا، لیلا کے اشاروں پر مجنوں کو بیابان نوردی پر آمادہ کرتی ہے۔ میخانے میں ساغر کو گردش میں رکھ رہی ہے۔ دل کے ہر حصے کو تمنا کا گھائل بنا دیتی ہے،جس سے اس کے ریشے ریشے میں حرکت دائمی نظر آتی ہے، کیونکہ اس آفت کے ٹکڑے کو عافیت سے نفرت اور دائمی آوارگی سے محبت ہے۔ وہ زندگی میں طوفانوں سے پنجہ کشی کرنے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ باد مخالف کشتی بے لنگر اور ناخدا غفلت کی حالت میں اپنی ذات کے وسائل پر بھروسہ کر کے راستے کا سراغ لگانے پر آمادہ کرتی ہے۔ گردش ساغر کو صدجلوئہ رنگیں میں متبدل کر دیتا ہے۔ وہ دنیا کی ہر شے کو تمنا کی حوصلہ مندی اور ہمت عالی سے خریدنے کی کوشش کرتا ہے اور خود ان کا کسی قیمت پر سودا کرنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسانی تمنائوں سے ہی شور ہستی برپا ہے۔ گویا خود محشر قیامت اس مشت خاک کے اندر پنہاں ہے۔ غالب کے نزدیک انسان کا سینہ تخلیق آرزو اور تخلیق مقاصد کی شعاعوں سے منور ہے۔ کائنات میں انسان کی تخلیق کا ایک خاص مقصد ہے۔ اس راز کو کائنات کے قرب و جوار میں آشکار کرنے کے لیے بلند مقاصد اور جرأت و ہمت کی اشد ضرورت ہے تاکہ زندگی کا قافلہ آگے بڑھتا رہے۔ وہ ذوق طلب اور سوزِ آرزو کو اولیں مقصد گردانتے ہیں۔ دریائوں کو عبور کرنا کوہِ گراں اور طلسم زمان ومکاں کی حدبندی کے حصاروں کو توڑ کر جہان بے نمود میں بیشمار نئے عالم آشکار کی تلاش میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک حقیقی زندگی کی اصل جستجو اور آرزو میں پوشیدہ ہے وہ اس عالم رنگ و بو کی گہما گہمی’چہل پہل‘ ترقی کے سارے منازل اور تمام اسباب و علل کو اسی کے بدولت معرض وجود میں گردانتے ہیں۔ وہ اس سے ہمیں تاروں پر کمند ڈالنا سکھاتے ہیں اور زندگی کو حرکت و اضطراب کا ضامن بنا دیتے ہیں۔ ان کے یہاں جو سکون و ثبات نظر آتا ہے یہ تودھوکے کے سوائے کچھ نہیں، اس لیے کہ فی الواقع حرکت ہی حقیقی زندگی ہے۔ لیکن امر واقع یہ ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اضطراب سے دوچار ہے اور حرکت سے ہی انسانی وجود متحرک رہتا ہے اور مختلف جہتوں سے ہم کنار رہتا ہے۔ اے انسان تو اب بھی زندگی کو ایک ایسا راز تصور کرتا ہے جبکہ زندگی تو بلند پروازی اور عروج و ارتقا سے عبارت ہے اس میں پست وبلند بہت آتے ہیں مگر اس سے تو منزل تک رسائی سے زیادہ سفر اور گردش پسند ہے جہاں تک سفر کا تعلق ہے سو وہ زندگی کو متحرک اور بر سر عمل رکھنے کا دوسرا نام ہے، اس لیے سفر کو ایک حقیقت بھی تصور کر لینا چاہیے اور مجاز بھی۔سفر کی دونوں صورتیں زندگی کے لیے بلا شبہ دورخ ہیں۔ ان دونوں رویوں میں زندگی علاج درد میں بھی درد کی لذت کا ساماں مہیا کرتی ہے۔ جس سے زندگی میں پلٹنا جھپٹنا اور بھڑکنے کا کاروان زندہ وتا بندہ رہتا ہے۔ یہ زمانے کے دھارے کو اپنے آپ میں گم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ستم زدہ موجوں کے تھپیڑوں کو سہنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ غالب اسی حرکت و عمل‘مسلسل جہدِ عمل سے جہاں بینمود کی تخلیق کا راز جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ یم زندگی اور رم زندگی میں اس حقیقت کو پا لیتا ہے۔ وہ انسان کو اس عالم رنگ و بو جس کی حدیں ردائے نیلگوں تک نظر آتی ہیں پر قناعت کرنے کے بجائے جہاں اور کی تلاش میں سرگرداں دیکھنا چاہتا ہے۔ چونکہ اس فضا میں سینکڑوں کارواں کی طناب کا سراغ مل رہا ہے جو وقتاً فوقتاً ابھرتی اور مٹتی جا رہی تھی۔ اس لیے انسان کو زندگی کے سفر میں کوئی نشیمن میں مستقل طور پر تعمیر نہیں کرنا چاہیے یہاں زندگی روز و شب اور صبح و شام سے تعبیر ہے۔
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب وروز ماہ و سال کہاں
اس جہاں میں جنبش ازل سے ہی شہب زمانہ کی طرف دوڑتا رہتا ہے۔ جس کا آغاز ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں کی تشکک پسندی میں ہے، جس کی حقیقت خاراشگافی اور سخت کوشی میں چھپا ہوئی ہے۔ جہاں چھالوں میں کانٹے لگے ہوئے ہیں زندگی تگاپوئے د مادم کی دلیل ہے، جو حقیقت زندگی کا راز ہے۔ اس ذوق میں وہ راحت طلبی اپنے لیے مضر رساں تصور کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جنت کو بھی عافیت اور دلکشی کے لیے در خور اعتنا نہیں سمجھتے دوزخ میں ڈال دو کوئی لیکر بہشت کو ’سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی یا کشاکش ہستی سے کرے کیا سعی آزادی‘ ہوئی زنجیریں موجِ آب کو فرصت روانی کے مصداق ہیں۔ غالب اسی مسلسل کشاکش کو زندگی کا ثمر آور پوداسمجھتے ہیں، جس سے گلستاں میں نئے گل بوٹے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کی حیثیت چمن میں باغبان جیسی ہے جو ہر روز اس گلستان میں رنگ بہ رنگ پھولوں کے جھرمٹ دیکھنے کا خواہاں رہتا ہے یہ خواہش ہر روز ایک نئی آن بان کے ساتھ نظر آتی ہے:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
حسرت بھری دنیا میں انسان کی زندگی امتحان گاہ ہے۔یہاں کسی بھی منزل کا حد آخر نہیں ہوتا ہے۔ ازل سے ابد تک، لحد سے مہد تک وقوع پذیر کا سفر جاری و ساری ہے۔ غالب کشمکش زندگی میں عرش سے کاش کہ ہوتا مکاں اپنا یا لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند کے متقاضی ہیں۔ کیونکہ کائنات کا ہر ذرہ مسلسل تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ رات دن گردش میں ہیں سات آسماں، یا آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز ہی قلزم ہستی کا اصل راز ہے۔ اس حلقہ دام خیال میں انسانی زندگی کی گردش ساقی کوثر کے باغ میں سوئے زن کا حکم رکھتی ہے۔ وہ دوران سفر کسی مقام کو اپنا منزل قرار نہیں دیتے ہر مقام ان کے لیے چاہے وہ مقام کعبہ ہی کیوں نہ ہو،نقش پائے رواں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ پارینہ یا کہن نو کے اس سفر میں وہ بنی آدم کو ہمت، عزم، قوت، صبر، استقلال، یقین محکم اور عمل پیہم کی دعوت دیتا ہے ان کی نگاہیں دونوں تہذیب پر جمی ہوئی تھیں وہ مسلسل کوشش کی طرف اپنے قاری کو متوجہ کرتا ہے کیونکہ دمادم کن فیکوں یا کل یوم ہوفی شان کی صورت نمود پر مشتمل ہے۔ غالب زمانے کے بدلتے ہوئے انداز کو صورتِ شمشیر پر دم نکلنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ اسی لیے غالب ان بکھرے ہوئے حالات میں انسان کو تغیر و تبدیلی سے آشنا ہونے کی تلقین کر رہے ہیں۔ کیونکہ دنیا کی ہر شے انقلاب پذیر ہے ہر چیز ’ہر لمحہ ‘ہر گھڑی تبدیلی ہو رہی ہے جو صورت کل تھی وہ آج نہیں جو آج ہے کل نہ ہوگی کسی چیز کو ثبات نہیں۔ اگر ثبات ہے تو فقط تبدیلی کو۔ وہ آزاد کے بجائے جدوجہد کی پرزور تلقین کرتا ہے۔ تعمیر میں تخریب کا پہلو مضمر ہونا یا عروج و بلندی میں پستی کا پہلو چھپا رہنا قانون قدرت ہے۔کائنات میں زندگی جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش سے گزر رہے ہیں’ غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار کی آزمائش ابر آلودکی طرح سر پر دکھ رہی ہے۔ رنگارنگ بزم آرائیوں میں نقش طاق نسیاں بھی موجود ہیں۔ سینہ پرخوں کا زنداں خانہ بن چکا ہے طوفان حوادث از مکتب کی صورت میں موجود ہیں‘ کارفرما دو دچراغ اختیار کر چکا ہے۔ زمانے کی ستم ظریفی نے داغ دل کو سر و چراغاں بنا دیا ہے یہاں تک کہ ایک ذرا چھیڑیے تو دیکھئے کیا ہوتا کا عالم چار سو میں نظر آتا ہے۔ غالب ان تمام حالات میں سفرِ زندگی کو جینے کا فن سکھاتا ہے۔ ایک طرف دنیا کو تفکر کا سبق سکھانا اور دوسری طرف خندہ پیشانی سے طوفانِ حوادث کا تماشا دیکھنا ان کی شخصیت کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے شب و روز کے نئے کھیل ان کے لیے بازیچہ اطفال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
انسان غموں کے بوجھ تلے اپنے قیمتی متاع کو نظر فریب کا شکار بننے کا عادی بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مرگ ناگہاں کا تصور نکتہ سنج دماغ میں جاناں یار کی صورت میں زانوئے ادب تہہ کر کے ہمت و استقلال کا عامل چھوڑ آتے ہیں۔ جب کہ کار گہہ حیات میں حسین جیساجذبہ اور حیدر کرار کی ہمت کا ہونا لازمی ہے کیونکہ غم اور خوشی انسانی نفسیات کا جزو لاینفک ہیں اور ان دونوں کا تاثر زندگی میں پانی کے بلبلے کی مانند ہے۔ خوشی کا تاثر انسانی زندگی کو کہیں حد تک کابل اور جفاکشی سے محروم کرتا ہے جب کہ غم زندگی کے رگ و پے میں رگ جان کے مانند ہے مرد آزاد منش غالب کے نزدیک غم کا تصور انسانی ذہن میں برق کی روشنی سے ایک لمحے بھی زیادہ نہیں ہوتا۔
غم نہیں ہوتا ہے ا ٓزادوں کو بیش اذ یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن، شمع ماتم خانہ ہم
غالب کائنات کے ہر ذرہ کو آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز سے تعبیر کرتا ہے، جس میں ذوق وشوق چھپا ہوا ہے۔ وہ بنی نوع انسان کی زیست کو مقدس بنانے کی تلاش میں ہے۔جس طرح نیطشے نے اپنی کتاب المیے کی تخلیق میں لکھا ہے کہ فن کا کمال یہ ہے کہ وہ زیست(existance)کا اقرار کرے اس کو بارحمت تصور کرے اور زیست کو مقدس بنائے۔ غالب نے ہمیشہ کلی انسانی موقف (total human situation)کو اپنے پیش نظر رکھا اس لیے بلندیوں سے پستی اور پستی سے بلندیوں تک سرگرم سفر نظر آتا ہے۔ وہ کائنات کو دام تمنا میں اسیر کر لینا چاہتا ہے ان کے دام تمنا میں وہ بھی اک صید زبوں کی طرح ہیں کیونکہ زیست کے ہر لمحہ میں موت پنہاں ہے۔ اس لیے یہ کائنات انھیں ناقص دکھ رہی ہے جس میں عشق کا کمال ممکن نہیں۔عشق ہی زیست کے بے معنی صحرا میں امید کے چراغ روشن کرتا ہے اور زندگی کی بے معنویت میں معانی کی تخلیق کرتا اور وحشت کدہ عالم میں سکون کا سامان فراہم کرتا ہے۔اس لئے مضمحل ہوگئے قوی غالب کہ عناصر میں اعتدال نہیں ہونے کے باوجودبھی ان کا احتجاج یہ ہے۔
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر ومینا مرے آگے
حواشی :
1- یادگارِ غالب، الطاف حسین حالی
2- محاسن کلام غالب، عبدالرحمان بجنوری
3- بیان غالب، آغا محمد باقر
4- غالب شخص اور شاعر، مجنوں گورکھ پوری
5- ماہنامہ نقوش کا غالب نمبر، محمد طفیل یادگار کمیٹی ہند کی پیشکش

Dr. Riyaz Ahmed
(Lecturer), Department of Urdu,
University of Kashmir-190006
Email: drriyazkumar04@gmail.com
Mob: :6006855004

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

دلت ادب اور پریم چند ، مضمون نگار: نامور سنگھ، مترجم، شیوپرکاش

اردو دنیا،نومبر 2025 پریم چند کے سیاق میں دلتوں کے مسائل پر بحث ہوتی رہی ہے، آج بھی ہورہی ہے۔ لیکن دلت ادب کے سیاق و سباق میں پریم چند

ہندستانی تہذیب و ثقافت اور اردو ادب،مضمون نگار:محمد علی جوہر

اردو دنیا،جون 2026: زبان و ادب کا تعلق تہذیب و ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے،یہ گہرائی دونوں کو دوام بخشتی ہے۔اردو زبان و ادب کی تشکیل ہندستانی تہذیب و

ولی کی زبان/عبدالستار صدیقی

عبدالستار صدیقی زبان ہمیشہ بدلتی رہتی ہے لفظوں کی جو صورتیں، جو ترکیبیں آج سے سو پچاس برس اُدھر عام تھیں، آج ان میں سے بہت سی ایسی ہیں کہ