عربی فکشن کے ارتقامیں ترجمے کا کردار:مضمون نگار:شمس کما ل انجم

September 10, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص
عربی میں کہانیوں کا وجود تھا۔زمانۂ جاہلیت کے لوگ کہانیوں سے حظ اٹھاتے تھے۔ بازاروں میں، چوپالوں میں اور نکڑوں پربیٹھ کر کہانیاں کہتے، سنتے اور لطف اندوزہوتے تھے۔ ظہور اسلام کے بعد قرآن کریم نے بھی قوم عادو ثمود اور مختلف نبیوں کی کہانیاں بیان کی ہیں۔ عباسی دور میں’الف لیلہ ولیلہ، سندباد، علی بابا‘ جیسی کہانیاں منظر عام پر آئیں۔ ’مقامات‘ کے ایک نئے اسلوب میں بھی مختصر کہانیاں وجود پذیر ہوئیں لیکن جدید دور کے فنی اسلوب میں فکشن نویسی کا انیسویں صدی کے پہلے عشرے تک فقدان تھا مگر1798 میں مصر پرفرانسیسی جرنیل نپولین کے قبضے کے بعد جب عرب ادیبوں کا یورپ سے رابطہ ہوا۔ مغرب میں لکھی جانے والی مختلف انداز کی کہانیوں یعنی ناولوں، ڈراموں اور افسانوں کا انھو ں نے مشاہدہ کیا تووہ اس سے بہت متاثر ہوئے۔ انھوں نے مختلف کہانیوں کو عربی میں ترجمہ کرکے عالم عرب کو ان سے روشناس کرایا اورپھر آہستہ آہستہ عین یورپی اور مغربی طرز پر عربی میں فکشن نویسی کی کامیاب کوششیں شروع ہوئیں۔ ناول، افسانے اور ڈرامے معرض وجود میں آئے۔عربی فکشن ترقی کی اس بلندی پر پہنچ گیا کہ عربی ناولوں، ڈراموں اور افسانوں کا یورپی زبانوں میں ترجمہ کیاگیا۔ بہت ساری کہانیوں کو فلمایابھی گیا۔ فکشن کے ان تینوں اقسام کے فنی ارتقا میں مغربی کہانیوں کے ترجموں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ زیر نظر مقالے میں اسی کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔
کلیدی الفاظ
کہانی، فکشن، ناول، ڈرامہ، افسانہ،ترجمہ، نشونما، ارتقا، ادیب، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، تھیٹر، اسٹیج۔
————
عربی شعر وسخن کی معلوم تاریخ کا آغاز بعثت محمدیہ سے سوا سو برس قبل تاجدار سخن امرؤ القیس (حندج بن حجر الکندی، 540-500 عیسوی) کے قصیدوں سے ہوتا ہے۔امرؤ القیس کے عہد سے لے کر بعثت محمدی (610عیسوی) تک کے عرصے کوزمانۂ جاہلیت یا العصر الجاہلی کہا جاتا ہے۔ بعثت محمدی سے لے کر حضرت علیؓ کی شہادت سنہ 40 ھ/661 عیسوی تک کے عرصے کو اسلامی دورکہا جاتا ہے جب کہ سنہ 40ھ میں حضرت معاویہؓ کے تخت خلافت پر متمکن ہونے سے لے کر سنہ132ھ / 750 عیسوی تک کے عرصے کو عصر بنی امیہ یا اموی دور کہاجاتا ہے۔ڈاکٹر شوقی ضیف نے ظہور اسلام سے لے کر بنی امیہ کے سقوط تک کے زمانے کو اسلامی دور سے تعبیر کیا ہے۔ 1؎
132ھ میں بنی امیہ کے سقوط اور بنی عباس کے تخت خلافت پر متمکن ہونے سے لے کر 656ھ / 1258 عیسوی تک کے عرصے کو عباسی دور یا العصر العباسی کہا جاتا ہے۔ بعض مورخین نے عصر عباسی کے اس طویل عرصے کو دیگر مختلف ادوار میں بھی تقسیم کیا ہے۔2؎، 656ھ میں سقوط بغداد سے لے کر سنہ1220ھ/ 1805عیسوی میں ترکی جرنیل محمد علی پاشا کے مصر کی مسند حکومت پر براجمان ہونے تک کے طویل وعریض عرصے کو مورخین نے عہد انحطاط وزوال سے تعبیر کیا ہے۔احمد حسن زیات نے اسے ترکی دور سے موسوم کیا ہے۔3؎ عمر فروخ نے 648 ھ سے لے کر 923ھ تک کے زمانے کو مملوکی دور سے موسوم کیا ہے۔4؎ اس عرصے میں مصر وشام سے فاطمیوں کا خاتمہ ہوا اور ایوبیوں نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ان سے مملوکیوں یا خاندان غلاماں نے حکومت چھینی پھر عثمانیوں نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ 1220ھ/ 1805عیسوی میں محمد علی پاشا کے تخت حکومت پر متمکن ہونے کے بعد سے لے کر موجودہ زمانے تک کے عرصے کو جدید دور یا عہد النہضۃ یا عصر جدید کہاجاتا ہے۔ 5؎
جاہلیت کے زمانے میں شعر وسخن کا بڑا زور تھا۔بڑے بڑے شعرا منصہ شہود پر جلوہ گر تھے۔انھیں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس زمانے کے لوگوں نے سات 6؎ شاہکار قصیدوں کا انتخاب کرکے انھیں سونے کے پانی سے لکھ کر کعبۂ مشرفہ کے دروازے پر لٹکایااسی لیے انھیں’معلقات سبعہ‘ کہا گیاجس سے اس زمانے میں شعر وسخن کی عظمت کا انداز ہ ہوتا ہے۔
اسلامی دور میں’ قرآن کریم‘ کی صورت میں پہلی ایسی کتاب منظر عام پر آئی جسے کتاب ہدایت کے ساتھ ساتھ عربی ادب کا سب سے عظیم الشان شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس عہد میں قرآن کریم کے زیر اثر شاعری کا زور نسبۃً کم رہاالبتہ بنی امیہ کے زمانے میں شعر وسخن کے ساتھ ساتھ مختلف علوم وفنون کے میدانوں میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے کو ملی۔
بنی امیہ کے بعد عباسی دور تو شعر وسخن اور علم وادب کا زریں دور کہلایا۔ اس عہد میں شعر وسخن کے ساتھ مختلف علوم وفنون نے بھی خوب ترقی کی۔ ان کے گلشن میں باد بہاری چلتی رہی۔ عقل وخردپربھی سان چڑھتی رہی۔ علوم وفنون نے ارتقا کی ریشمی حدوں کو پھلانگ لیا تھا لیکن سقوط بغداد کے بعد پانچ چھ صدیوں کے طویل عرصے میںشعر وسخن جمود وانحطاط اور زوال کاشکار ہوگئے۔ علوم وفنون کا دم ٹوٹتا ہوا نظر آیا۔
ہلاکو کی قیادت میںتاتاریوں نے سقوط بغداد کے بعدعربی واسلامی میراث پر قہر ڈھایا۔ زبان وادب کو زندہ درگور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر فاطمیوں اور ایوبیوں کے عہد میںاسلامی تہذیب وتمدن کا ارتقاجاری رہا۔ مملوکی سلاطین کے عہد میں بڑے بلند پایہ علما پیدا ہوئے۔ انھوں نے اسلامی اور عربی میراث کوایسی بڑی بڑی کتابوں میں مرتب کیا جنھیں ہم ’انسائیکلوپیڈیا‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ قلقشندی کی صبح الاعشی، نویری کی نہایۃ الارب اور ابن منظور کی لسان العرب اس کی بہترین مثال ہیں۔اس عہد میں بھی تلعفری، الشاب الظریف، بوصیری، ابن حجہ الحموی، ابن نباتہ اور عائشہ باعونیہ جیسے شعرا وشاعرات اور نویری، قلقشندی،صفی الدین حِلّی، ابن مالک، ابن منظور، ابن کثیر،ابن ہشام اور فیروزآبادی جیسے ادبا اورزبان عربی کی باریکیوں کے عباقرہ پیدا ہوئے مگر اس دور کی شاعری صنائع بدائع کی بیڑیوں میں جکڑی رہی۔
جب عثمانیوں نے مصر پر قبضہ کیا تو قسطنطنیہ کو دار الحکومت بنا دیا۔ عربی کے بجائے ترکی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیااور عربی زبان کمزور پڑتی گئی۔ اسلوب بیان لچر اور صنائع بدائع کی بھول بھلیوں میں گم ہوگیا۔ عصر عباسی اور مملوکی عہد میں تالیف شدہ کتابوں سے جامعہ ازہر کارابطہ منقطع ہوگیا۔ مصرکی فکری وادبی زندگی جمود وتعطل کا شکار ہوگئی۔ ایسا کوئی شاعریا ادیب نظر نہیں آتاتھا جس کی کسی تخلیق کوپڑھ کر قلب ونظر کو سکون میسر ہو۔ علم بدیع کی صنعتوں کے بہ تکلف اہتمام کی وجہ سے شعر وسخن فکر وخیال سے خالی اور جذبات سے عاری ہوگئے۔ شاعری ہی کی طرح نثر بھی سجع سے بھرپور اور رکاکت کا پلندہ بن گئی۔7؎
مصر کے مشہور مورخ اور ادیب ڈاکٹر شوقی ضیف کی درج ذیل تحریر پڑھیں تو آپ کواندازہ ہو گا کہ گزشتہ عرصے میں علم وادب، فکر وفن اور شعر وادب کن حالات سے دوچار ہوئے۔ آپ لکھتے ہیں:
’’جب عثمانیوں کا قہر اہل مصر پر نازل ہواتواس نے تمام علمی و فکری سرگرمیوں کو جمود وتعطل کا شکار بنا دیا۔ پورے مصر پرجمود کی کیفیت طاری ہو گئی۔ ذہنی وفکری ارتقانے اپنے قدم پیچھے ہٹالیے۔صحنِ ازہرمیںصرف ایسی تلخیصات ومتون کے درس وتدریس اور مطالعے باقی رہ گئے تھے جن کا ازہریوں کے ذریعے اعادہ ہوتا رہتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ و ہ ان کی ’شرح یا شرح الشرح‘ کرتے یا ان پر’حاشیہ آرائی‘ کرتے۔ لیکن ان سے علوم وفنون کی رونق میں کوئی قابل ذکر اضافہ ہونے والا نہ تھا۔ انھوں نے متن کی شرح اور اس کی حاشیہ آرائی اور تعلیقات سے علم کو مشکل بنا کر رکھ دیا تھا۔ ان میں انھوںنے اتنی پہیلیاں بھر دی تھیں کہ عبارتیں ایسی چیستاںبن کر رہ گئی تھیں جن کو حل کرنا علماکا مقصد بن گیا تھاجب کہ ان معموں کے حل کرنے سے علم میں کوئی اضافہ ہونا ممکن نہ تھا بلکہ یہ زبان کی خرابی میں اضافے کا باعث ہوتا۔
اس طرح ازہر کے علمااور عصر عباسی بلکہ ماضی قریب کے زمانے یعنی مملوکی دور میںبھی لکھی گئی علمی کتابوںسے رابطہ ٹوٹ چکا تھا۔ مشکل سے کوئی ایسا شخص نظرآتا جسے امام شافعی جیسے ائمہ، فارابی جیسے فلاسفہ یا ابن خلدون جیسے معاشرتی مفکرین کی کتابوں کا علم ہو۔تمام علوم وفنون شیخ زکریا انصاری کی’متن المَنہَج‘ جیسی کتابوں میں سمٹ کر رہ گئے تھے جس میں مؤلف نے فقہ شافعی کے تمام مسائل کو جمع کر دیا تھا۔ازہری علما ایسے متون کے مجموعوں کو حفظ کرنے میں مشغول تھے جن میں عربی علوم اکٹھا کردیے گئے ہوںیا انھیں شعر یا نثرکے مبہم ومغلق جملوں کی شکل دے دی گئی ہوتاکہ انھیں یاد کرنے اور سنانے میں آسانی ہو۔ گویا کہ علمائے وقت کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اب کوئی چیز کہنے اور لکھنے کے لیے باقی بچی ہی نہیں ہے۔ ہر عالم کا یہی مقصد ہوتا کہ وہ ایسے کسی متن پر کام کرے جو کسی علم یا فن کی تلخیص ہو یا بہ الفاظ دیگر اس علم کو پہیلی کی شکل میں پیش کیا گیا ہو تاکہ ا س کو حل کیا جائے۔ کبھی وہ اس متن کے حل کے لیے مبہم شرح لکھتا جو کسی اعتبار سے اس متن سے بہتر نہیں ہوتی تو کوئی دوسرا عالم اس شرح کے حل کے لیے دوسری شرح لکھتاجسے وہ ’حاشیہ‘ کا نام دیتا۔ پھر کسی تیسرے یا چوتھے عالم کو ایسا لگتا کہ یہ شرح الشرح ناکافی ہے تو اس پر تعلیق چڑھاتا اور اسے ’تقریر‘ کا نام دیتا۔ اس طرح بڑی بڑی اور ضخیم جلدوں میں موجود عربی علوم معمولی شیٔ بن کررہ گئے تھے۔ فکری زندگی میں زبردست جمود طاری ہوچکا تھا اور ایک ایسی عظیم تحریک کی شدید ضرورت محسوس کی جانے لگی تھی جو ہماری فکری زندگی کے سرچشموں کو دور اول کی شاہراہ پر گامزن کرسکے۔
ادبی زندگی کا حال بھی فکری زندگی سے بہتر نہیں تھا۔ عہدِ مملوکی اور اس سے ما قبل ادوار کی وہ سرگرمیاں جن سے ہمیں فنی لذت اور ادبی چاشنی میسر آتی تھی وہ بھی دم توڑ چکی تھیں۔عثمانی دور کے زیر اثر پیدا ہونے والے سیاسی وسماجی بگاڑ کی وجہ سے مصر اب اس قابل ہی نہ تھاکہ اس کے ادبی گلشن میں کلیاں کھل سکیں۔ کیونکہ ادبا کی آزادیوں کو ختم کرکے ان کی خوشحال زندگی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال دی گئی تھیں جن کی وجہ سے ہماری فکری زندگی کی طرح ادبی زندگی بھی تہ وبالا ہوکر رہ گئی تھی۔ معاشرے میں ایسا کوئی شاعر یا ادیب نظر ہی نہ آتا تھا جس کی کسی تخلیق کو پڑھ کر قلب ونظر کو سکون میسر ہو۔ جس طرح فکری زندگی ماضی کی تلخیص بلکہ بگڑی ہوئی شکل بن گئی تھی اسی طرح ادبی زندگی بھی قدیم قصیدوں کی اکتا دینے والی تقلید بن کر رہ گئی تھی۔ علم بدیع کی پر تکلف صنعتوں کے سوا قصیدے میں شاعر کسی شیٔ کا اضافہ کرنے سے قاصر ہوتا۔گویا کہ کسی قصیدے کی تخلیق کا مقصد صرف علم بدیع کی مختلف صنعتوں کو برتنا رہ گیا تھا۔شاعری علم بدیع کی صنعتوں اوررعایت لفظی کا ایسا پشتارہ بن کر رہ گئی تھی جس میں کسی طرح کا کوئی حقیقی جذبہ کار فرما نہیں ہوتا تھا۔ شاعری کی طرح نثر بھی سجع سے بھر پور رکیک جملوں کا مجموعہ بن گئی تھی جس میں علم بیان وبدیع کی مشکل صنعتوں کے علاوہ کسی اور شیٔ کا اظہار نہیں کیا جاتاتھا۔‘‘8؎
عمردسوقی لکھتے ہیں کہ:
’’حالت یہ ہوگئی تھی کہ ’’بہت سارے اہل قلم کے لیے بڑی بڑی لسانی غلطیوں سے اجتناب کرنا ممکن نہ رہا۔ یا کم از کم قابل قبول مفہوم سے آراستہ کوئی تحریر لکھنے پر انھیں قدرت نہ رہی۔ فصیح الفاظ اور کسی قوی اسلوب میں گفتگوان کے لیے اتنی مشکل ہوگئی تھی کہ انھوں نے لفظی آرائش اور محسنات بدیعیہ کا اہتمام شروع کردیا تاکہ وہ اپنے کلام کے سقم کو چھپا سکیں۔انھوں نے لفظی آرائشوں اور علم بدیع کی صنعتوں کااس قدر اہتمام شروع کردیا کہ ان کی تحریر پیچیدہ اور ناقابل فہم ہوگئی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسی بھونڈی تحریر لکھنے لگے کہ اگر اس میں کوئی خوبی نظر بھی آتی تو وہ قدما کے کسی مفہوم کا سرقہ یا چربہ ہوتی۔‘‘ 9؎
آپ مزید لکھتے ہیں کہ :
’’ فرانسیسی سیاح نے اٹھارہویں صدی عیسوی کے اخیر میںمصراور مشرقی عرب کے مختلف ممالک سمیت ترکی کا سفر کیا تو وہاں کی جہالت، ناخواندگی اور زبان وبیان کی خرابی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے اس بارے میں لکھا کہ ’’ان ممالک میں اورترکی کے ماتحت جو ممالک ہیں ان کے ہر طبقے میں ادبیات اور فائن آرٹس تک میں اس قدر جہالت عام ہے کہ کشیدہ کاری جیسے کام بھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ یہاں تک کہ قاہرہ میں آپ کو کوئی گھڑی ساز بھی مشکل سے ملے گا۔ اگر ملے گا بھی تو وہ کوئی غیر ملکی ہوگا۔‘‘10؎
عبد الرحمن جبرتی لکھتے ہیں کہ:
’’جوشاعری منظر عام پر آرہی تھی اگر ہم اسے شاعری کہہ سکیں تو اس کا بھی حال نثر سے اچھا نہیں تھا۔ شاعری بھی لفظی صنعت بن کر رہ گئی تھی۔‘‘11؎
اس سے قاری اندازہ کرسکتے ہیں کہ سقوط بغداد کے بعد سے لے کرجدید دور تک کے طویل عرصے میں علوم وفنون کا کیا حال تھا۔ کس طرح عقل وخرد اور فکر ودانش کا چھتنار خشک ہوگیا تھا۔ شعر وسخن کے گل ولالہ بے رنگ ہوگئے تھے۔ نثر ونظم بے رونق ہوگئے تھے یہاں تک کہ اٹھارویں صدی کے بالکل اخیر میں ایک بہت بڑا حادثہ پیش آیااوروہ حادثہ تھا1213ھ / 1798 عیسوی میں جواں سال فرانسیسی جرنیل نپولین بوناپرٹ (1769-1821) 12؎ کا مصر پرحملہ۔ ابھی تک اہل مصر خواب خرگوش میں سرمست تھے۔جب مصر کی فضاؤں میں فرانسیسی فوجیوں کے جوتوں کی چاپ اور توپوں کی گھن گرج سنائی دی تب وہ بیدار ہوئے۔ مشرق میں ایک پائیدار اور مضبوط شہنشائیت قائم کرنا اس حملے کا مقصدتھا 13؎ لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے نپولین کو جو راستہ نظر آیا وہ تھا’ تعلیم‘ کا راستہ کیونکہ عثمانیوں نے تعلیم پر مکمل قدغن لگادی تھی جس کی وجہ سے یہ شجرخشک ہوگیا تھا۔14؎ لہٰذا تمام آالات حرب وضرب،عسکری طاقت وقوت اورفوجی جاہ وحشم کے ساتھ ادیب، شاعر، طبیب، فلسفی، صنعت گر، ماہرین فن اور سائنس دانوں کو بھی وہ اپنے ساتھ لایا۔اس نے ریاضی کی تحقیق کے مراکز، فلکیاتی رصد گاہیں، کیمیائی تجربہ گاہیں، کارخانے اور کاغذ سازی کا کارخانہ، مصر کے فطری، سماجی، اقتصادی، تاریخی اور ثقافتی حالات کے مطالعے کے لیے ایک علمی مرکز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عربی پریس (چھاپہ خانہ) بھی نصب کیا۔ دو فرانسیسی اخباراور ایک عربی پمفلٹ بھی جاری کیا۔ اداکاری کے لیے ایک تھیٹر بھی بنایا جس میں ہر دس روزمیں فرانسیسی ناولوں کو اسٹیج کیاجاتا۔ فرانسیسیوں کے بچوں کو پڑھانے کے لیے دو اسکول کھولے اورایک پبلک لائبریری قائم کی جس میں فرانس سے لائی ہوئی کتابوں کے ساتھ مصر کی مسجدوں اور زیارت گاہوں سے بھی جمع شدہ کتابوں کو آراستہ کیاگیا۔ ان کتابوں کو دیکھنے اور پڑھنے کے لیے مصریوں کو دعوت دی جاتی۔ فرانسیسی سائنٹفک اکیڈمی کے طرز پر قائم شدہ مصری سائنٹفک اکیڈمی میں وہ سائنسی تجربات کرتے اور ان کے مشاہدے کے لیے مصریوںکو مدعو کرتے تاکہ وہ مصریوں کو سمجھاسکیں کہ وہ ان کی خدمت کے لیے اور مصر کی تعمیر وترقی کے لیے آئے ہوئے ہیں اور وہ اس سلسلے میں کام بھی کررہے ہیں۔ 15؎
ہم یہاں نپولین کی خدمات پر روشنی ڈالنا نہیں چاہتے بلکہ یہ بتاناچاہتے ہیں کہ نپولین نے مصر کے ساکت وجامد علمی وادبی، سیاسی وسماجی اور ثقافتی سمندر میں ایک پتھر پھینک دیا تھاجس سے مصر کی علمی وادبی فضا میں تحریک پیدا ہوئی۔اس نے ارتقا کے ایسے بہت سارے اچھے قدم اٹھائے جنھیں دیکھ کر مصری ششدر تھے۔ انھیں اس بات کا ادراک ہوگیا تھا کہ ان کی دنیا سے الگ کوئی اور دنیا ہے جہاں ارتقا کی باد بہاری چل رہی ہے لیکن وہ فرانسیسیوں کے ظلم وجبر اور ان کی زیادتیوں کا بھی بچشم خویش مشاہدہ کررہے تھے اور انھیں یہ بخوبی سمجھ میں آرہا تھا کہ اس ارتقا کے پس پردہ نپولین کے کچھ اور مقاصد کارفرما ہیںلہٰذاتعمیر وترقی کے ہر قدم کے باوجود انھوں نے نپولین کے خلاف مزاحمت شروع کردی یہاں تک کہ تین برس کے مختصر سے عرصے میں اسے مصر سے بھگاکر دم لیالیکن اب تو مصر میںعلمی، ادبی، سائنسی اور ثقافتی ارتقا کی تخم ریزی ہوچکی تھی۔نپولین کی مصر میں آمدعمومی طور سے مشرق وسطیٰ میں اور خصوصی طور سے مصرمیں تعمیر وترقی کے باب کا آغاز تھا۔16؎
نپولین فرانسیسی جرنیل تھااور مصرمیں بول چال کی زبان عربی تھی۔ لہٰذاوہاں کے لوگوں کے ساتھ رابطے کے لیے ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جو عربی داں ہوں۔ چنانچہ نپولین نے بہت سارے ایسے مستشرقین کو مصر بلایا جوسترہویں صدی میں چودھویںشاہ لوئس کے قائم کردہ ’مدرسۃ اللغات الشرقیۃ‘ کے پروردہ تھے اور طویل عرصے تک سلطنت عثمانیہ کے ماتحت عرب ممالک میں کام کرچکے تھے۔ عربوں کے ساتھ نشست وبرخاست کا انھیں اچھا خاصہ تجربہ تھا۔ ان میںمستشرق مائیکل وینچر (Jean Michel Venture De Paradis) (1739-1799)، مستشرق جوبرٹ (Lurs – Amedee Jaubert) ، مستشرق جین جوزف مارسیل (Jean Joseph Marcel) (ولادت: 1776) مستشرق ڈیگنس ڈیلاپرٹ (Jacques-Denis Delaporte) (1771-1861) مستشرق بیلٹے (Belletete ou Belleteste) (ولادت: 1788) مستشرق ڈیمین براسویچ (Dmien Bracevich ) مستشرق پنہوسن(Panhusen) ، مستشرق لوماگا (Jean-Batiste Santi L’homaga)، مستشرق جین رینو (Jean Renno )مستشرق الیوس پقطر، فادر رافیل ڈی موناکس (Dom Raphael De Monachis) قابل ذکر ہیں۔17؎
یہ بڑے قابل اور تجربے کار ترجمہ نگار تھے۔ان میں مستشرق مائیکل وینچر سب سے سینئر تھے۔ چالیس سال تک قاہرہ، مراکش، تیونس اور جزائر جیسے عرب ممالک میں بحیثیت ڈپلومیٹ کام کرچکے تھے۔بڑے قابل، ذہین اور زیرک تھے۔ انھیں کی سفارش پر نپولین نے لورس جوبرٹ کو مصر بلایا۔یہ گویا نپولین کا مشیر بھی تھا۔ بہت کام کرتا تھا۔ اس نے شریف ادریس کی کتاب’نزہۃ المشتاق فی اختراق الآفاق‘ کافرانسیسی زبان میں ترجمہ بھی کیا۔ جوزف مارسیل کو مخطوطات کا بہت تجربہ تھا۔ اس نے دوہزار سے زیادہ عربی، فارسی، ترکی اور قبطی مخطوطے جمع کیے تھے۔ڈیلاپرٹ کو بہت اچھی عربی آتی تھی۔ یہ نپولین کے مالی امور کا نگراں تھا۔ بیلٹٹ کو بچپن سے عربی کا شوق تھا۔یہ نپولین کی وزارت میں سکریٹری اور مترجم کا کام کرتا تھا۔ڈیمین براسویچ نپولین کے حملے سے قبل طرابلس شام میں ’مترجم اول‘ کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکاتھا۔ نپولین کے حملے کے بعد اس نے اسکندریہ میں قونصلیٹ کے سکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ بعد میں جنرل کلیبر نے اسے سب سے سینئر مترجم کی حیثیت سے فائز کیا۔پنہوسن بھی جنرل کلیبر کا مترجم تھا۔ لوگاما کو بھی ترجمے کی مہارت حاصل تھی۔ رینو فوج میں ترجمہ نگاری کرتا تھا۔
ان سب مستشرقین نے نپولین کے لیے ترجمے کا کام کیا۔یہی لوگ حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا کام کرتے تھے۔سرکاری مستندات اورعلمی کتابوں کا بھی ترجمہ کرتے تھے۔ان مستشرقین کے ساتھ ساتھ کچھ دنوں بعد نپولین نے عرب ترجمہ نگاروں کا بھی اپنے یہاں تقرر کیا۔18؎ نپولین کے مصر سے نکلنے کے بعد 1805میں اہل مصرنے ترکی جرنیل محمد علی پاشا 19؎ کو مصر کا حکمراں بنایا۔20؎ محمد علی پاشا نے مصر کی تعمیر وترقی میں انقلاب پیدا کردیا۔ پرائمری، سکنڈری، فوجی اور صنعتی اسکول قائم کیے۔ میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی۔ ’مدرسۃ الالسن‘کے نام سے اسکول آف لینگویجز قائم کیا۔ ان سب تعلیمی اداروں میں تعلیم دینے والے اساتذہ غیرملکی تھے اس لیے مصریوں کے لیے ناگزیر ہوگیا کہ وہ ان کی زبانیں سیکھیں چنانچہ تعلیمی میدان میں انقلاب لانے کے لیے بہت بڑی تعداد میں طلبہ کویورپ بھیجنا شروع کیاگیاتاکہ وہ مغربی زبانوںمیں مہارت حاصل کرسکیں۔یہیں سے ارتقا کے بند دروازے کھلنا شروع ہوگئے۔21؎
طلبہ کے پہلے وفد کو بھیجنے سے قبل حکومت کو محسوس ہوا کہ ان طلبہ کا ایک نگراں بھی متعین کردیا جائے۔چنانچہ محمد علی پاشا نے جامعہ ازہر کے شیخ حسن عطار(1766-1835) سے ازہر کے کسی ایک عالم کانام طلب کیا جو یہ کام بخوبی انجام دے سکے۔ انھوں نے اپنے ایک شاگرد عالم رفاعہ طہطاوی (1801-1873) کے نام کی سفارش کی۔ ان کا کام تھا یورپ جانے والے طلبہ کی نگرانی، وعظ ونصیحت اور امامت وخطابت وغیرہ۔ لیکن رفاعہ بھی نرے مولوی نہیں تھے۔ انھوں نے فرانس جانے والی کشتی میں سوار ہوتے ہی فرانسیسی زبان سیکھنا شروع کردی۔فرانس جاکر انھوں نے کئی مستشرقین سے رابطہ کیا۔ والٹر، روسو، راسین، مونیٹسکیو وغیرہ کو خوب پڑھا۔علم المعادن، فنون حرب اور ریاضیات کا بھی بخوبی مطالعہ کیا۔ پیرس میں قیام کے ساتھ ہی انھوں نے تالیف وتعریب اور ترجمے کا کام شروع کردیا۔بعض مورخین نے ذکر کیا ہے کہ رفاعہ نے پیرس میں قیام کے دوران تاریخ، جغرافیہ، انجینئرنگ اور میڈیکل وغیرہ میںبارہ کتابوں کے ترجمے کیے۔ رفاعہ جب مصر واپس آئے تو ترجمے کی تحریک میں شامل ہوگئے اورجب 1835میںمحمد علی پاشا نے زبانوں کے اسکول ’مدرسۃ الالسن‘ کی بنیاد رکھی تو رفاعہ کو اس کا ڈائرکٹربنادیا۔ اس میں فرانسیسی، ترکی، فارسی، اطالوی اور انگریزی زبانوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ، ریاضیات، الجبرا، تاریخ، جغرافیا، اسلامیات اور عربی ادبیات کی بھی تعلیم دی جاتی تھی۔22؎
اس کے بعد 1944 میں جب ’شعبۂ ترجمہ‘ قائم کیاگیا تورفاعہ کواس کا صدر بنادیا گیا۔ 23؎ رفاعہ طہطاوی کو یورپ بھیجے جانے والے وفود کی نگرانی اوران کے وعظ وارشاد کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن رفاعہ نے پیرس سے بے انتہا استفادہ کیااور وہاں سے واپس آکرمصر کے لسانی، علمی وادبی ارتقا میں جو بے مثال خدمات انجام دیں اس کی روشنی میں انھیں ’شیخ الترجمۃ وامام النہضۃ الحدیثۃ‘ کے لقب سے ملقب کیاگیا۔ 24؎ حرکۃ الترجمۃ خلال القرن العشرین کے مولف نے صرف محمد علی پاشا کے زمانے میں رفاعہ کی ترجمہ کردہ پچیس کتابوں کی فہرست ذکر کی ہے۔25؎ اس کے بعد اسماعیل پاشا وغیرہ کے زمانے میں بھی رفاعہ نے بہت ساری کتابوں کے ترجمے کیے۔
رفاعہ کے علاوہ جن طالب علموں کو یورپ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا انھوںنے بھی یورپی زبانوں سے ترجمے کا آغاز کرکے مغرب کے علمی ورثے کو عربی میں منتقل کیا۔ انھوں نے اس قدر ترجمے شروع کیے کہ وہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرگیا۔حکومت نے ترجمے پر اس قدر زور دیا کہ بعض علما کے بقول:
’’حکومت نے یورپ سے پڑھ کر آنے والے ہر طالب علم پر مغربی علوم کے ترجمے کو لازم قرار دیا۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ مغربی زبانوں پر عبور حاصل کرلینے والے اور مغربی زبانوں میں بات کرنے والے طلبہ کے ایک وفد کو حکومت نے قید کردیا اور کہا کہ اس قید خانے سے وہی باہر آئے گا جو کسی نہ کسی کتاب کا عربی میں ترجمہ کرے گا۔ کہاجاتا ہے کہ ایک ایک شخص کسی نہ کسی کتاب کا ترجمہ کرتا اور قید سے باہر آجاتا۔ اس طرح سارے کے سارے ایک مہینے میںقید خانے سے باہر آگئے۔‘‘26؎
حرکۃ الترجمۃ کے مولف نے محمد علی پاشااور اسماعیل پاشا کے زمانے میں مستشرقین کے علاوہ ترجمہ کرنے والے عربوں کی بھی ایک فہرست اور ان کی ترجمہ شدہ کتابوں کی تفصیل ذکر کی ہے۔ 27؎جس سے پتہ چلتا ہے کہ محمد علی پاشا کے زمانے میں ترجمے کی جو تحریک شروع ہوئی تھی وہ اسماعیل پاشا کے زمانے میں جاری وساری رہی۔ مولف لکھتے ہیں کہ:
’’اسماعیل پاشا کے زمانے میں منظر عام پر آنے والے ترجمہ نگاروں کی تعداد کم نہیں ہے۔ ان میں سے تو بہت سارے مترجمین اعلی عہدوں پر بھی فائز تھے۔ کچھ مدارس اور مختلف دفاتر میں ملازم تھے۔ان میں سے مشہور مترجم وہ تھے جو1251 سے لے کر 1258عیسوی کے درمیان یعنی محمد علی پاشا کے زمانے میں’مدرسۃ الالسن‘ سے فارغ ہوئے تھے۔‘‘28؎
اس طرح ترجمے کے عمل نے بے انتہا زور پکڑا۔اگر چہ ڈاکٹر شوقی ضیف جیسے معتبر مورخین کا خیال ہے کہ ترجمے کی اس تحریک سے صرف علمی رجحان ہی کو فائدہ ہواکیونکہ تدریس اور ترجمے میں یورپی علوم کو ہی اہمیت دی گئی۔ ادبیات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔29؎
یہی حال سعید پاشا(1822-1863) کے دور حکومت (1854-1863) میں بھی جاری وساری رہا لیکن اسماعیل پاشا (1830-1895) 30؎ کا دورحکومت (1863-1879) آتے آتے مصر یورپی تہذیب وثقافت کی جانب کئی قدم آگے بڑھا چکا تھا۔ یہاں کی ہر شے اپنے آپ کو یورپی تہذیب وتمدن میں ڈھالنے لگی تھی۔سیاسی میدان میں فرانسیسی نظام حکومت کے طرز پر مصر میں بھی پارلیمانی اور عدالتی نظام کا قیام عمل میں آگیاتھا۔ تعلیم وتعلُّم اور درس وتدریس کے میدان میں بھی مختلف کالج، پرائمری اور سکنڈری بوائز اور گرلز اسکول قائم کیے جا چکے تھے۔ ’اوپیرا ہاؤس‘کی بنیاد ڈالی گئی اور ڈراموں کو اسٹیج کیا جانے لگاتھا۔ یعقوب صنوع (1839-1912) نے اسٹیج فنکاروں کا ایک گروپ تیار کیا جس کے لیے وہ ترجمے کرتااور ایسے ڈرامے لکھتاجو عوامی زبان میں ہونے کے باوجود اس بات کا اشارہ دیتے کہ مصر میں تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ نہر سوئزکھول دی گئی۔ ’’دار العلوم‘‘کی بنیاد ڈالی گئی تاکہ زبان وادب کا جو ارتقاجامعہ ازہر میں نہیں ہو سکا وہ یہاں انجام پذیر ہو۔ ان تمام اسباب وعوامل کی وجہ سے عربی زبان اس قابل ہوگئی کہ وہ مغرب کے شاندار علوم وفنون کو اپنے کاندھوں پر اٹھاسکے۔31؎
ڈاکٹراحمدہیکل لکھتے ہیں:
’’اس علمی تحریک کی وجہ سے عربی زبان جدیدعلوم،جدید صحافت،غیر عربی افکاراورباہر سے آنے والے نظام کی زبان بن سکی۔ علمی وفنی اصطلاحات میں وسعت آئی۔زبان میں موضوعیت آئی۔ رکاکت او رتکلف کے خول سے اس نے خود کو نکالا۔گویا یہ ترقی یافتہ جدید عربی زبان کا آغاز تھا۔‘‘32؎
1860 میںلبنانی اور شامی ادیبوں کی ایک جماعت مصر آئی۔33؎ یہ لوگ بڑے پڑھے لکھے اور مغربی ادبیات سے واقف تھے۔ ان لوگوں نے مصریوںکے ساتھ مل کر یورپی ادبیات کے ترجمے کی طرف توجہ مبذول کی۔بقول ڈاکٹر شوقی ضیف ’’ محمد عثمان جلال(1828-1889) اور ان کے علاوہ دیگر مصریوںنے مولیر(Moliere) وغیرہ کے ترجمے کیے۔ نجیب حدّاد (1867-1899) اوردیگر مہاجروںنے مولیر (Moliere)کورنیل(Corneille)اور شیکسپیئر (Shakespeare) جیسے مغربی ادبا کا ترجمہ کیا۔سلیم بستانی (1848-1884) نے ہومر (Homer)کے الیاذہ کااس کی رزمیہ خصوصیات اور عربی بحور کے درمیان امتزاج کے ساتھ ترجمہ کیا۔ اس تحریک سے سیکڑوں مغربی کہانیوں اور ڈراموں کا ترجمہ منظر عام پر آگیا۔‘‘34؎
ترجمے کی تحریک نے اس قدر زور پکڑا کہ ہزاروں کتابیں، ناول، سیاسی اور علمی مضامین کا عربی میں ترجمہ کیاگیا۔ کوئی ایسا ادیب یا شاعر نہیں تھا جس نے یورپی ادبیات سے استفادہ نہ کیا ہو یہاں تک کہ مصطفی لطفی منفلوطی (1876-1924) اور مصطفی صادق رافعی (1880-1937) جیسے ازہر کے وہ علما جو غیر عربی زبانوں سے ناآشنا تھے وہ بھی ترجمے کے ذریعے یورپی ادبیات سے استفادہ کرنے لگے۔35؎کوئی ایسا ادیب نہیں تھا جس نے ترجمے اور تعریب کا کام نہ کیا ہو۔عمر دسوقی لکھتے ہیں کہ ’’ہم نے سیکڑوں کہانیوں کا ترجمہ کیا۔ اس کے بعد ہم ان کی طرح کہانیاں لکھنے کی کوشش کرنے لگے لیکن ابھی بھی ہم لوگ بہت ساری یورپی کہانیوں کو عربی میں ترجمہ کررہے ہیں۔‘‘ 36؎
ڈاکٹر شوقی ضیف ان ترجموں کے اثرات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
’’ان معرَّب ومترجَم ناولوں نے عوام کے ذوق کو بدلا، اسے یورپی ادبیات سے اس طرح مربوط کیاکہ وہ معرَّب ومترجَم ادبی تخلیقات کی طرح تالیفات کے قبول پر بھی آمادہ نظر آنے لگا۔‘‘37؎
یورپ سے رابطے کے بعد اور ترجمے کی تحریک کے زیر اثر عثمانی دور میں زوال کا شکار ہوئے شعر وادب میں تبدیلی آئی۔شعر وسخن کا لہجہ بدلا اور اصناف ادب میں بھی بہت نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔عربی میں کہانیاں تو قدیم زمانے سے موجود تھیں۔ قرآن کریم نے بھی مختلف کہانیاں بیان کی ہیں۔’ الف لیلہ ولیلہ اورمقامات‘ جیسی کہانیاں عربی ادب میں پائی جاتی تھیں لیکن یورپی ادبیات سے رابطے کے بعد فکشن نگاری اور مقالہ نگاری کے میدان میں خاطر خواہ تبدیلی رونما ہوئی۔ ناول کا جنم ہوا۔افسانہ پیدا ہوا۔ ڈرامے کو وجود ملا۔ نظم معری، نثری نظم اور آزاد نظم کی تخلیق ہونے لگی۔1913 38؎ میں محمد حسین ہیکل(1888-1956) 39؎ نے ’زینب‘ نام سے ایک ناول لکھا جسے عربی کا سب سے پہلا ناول تسلیم کیاجاتا ہے۔ناقدین کا اس بات پر اجماع ہے کہ زینب عربی کا سب سے پہلا ناول ہے۔40؎
ہیکل نے اسے پیرس میں بیٹھ کر تخلیق کیا تھا لیکن ’زینب‘ تک پہنچتے پہنچتے طویل کہانی یا ناول نگاری کئی مرحلوں سے گزری۔ناقدین کا خیال ہے کہ رئیس المترجمین رفاعہ طہطاوی نے فینیلون (François Fénelon) کی ’مغامرات تلیماک ‘کا ترجمہ کیا اور اس کا ’مواقع الأفلاک فی وقائع تلیماک ‘نام رکھا۔ بلکہ کہانی میں تصرف کرکے اسے مصری مزاج وآہنگ میں ڈھال کر گویاجدید عہد میں کہانی نگاری کی تخم ریزی کی۔
چنانچہ بہت سارے فرانسیسی، انگریزی، روسی، اطالوی ناولوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ ’اسعد داغر (1860-1935) نے ہنری بورڈو کے ناول کا ’بعد العاصفۃ/ آندھی کے بعد‘ کے نام سے، ادیب اسحاق (1856-1885) نے کونٹس دیش کے ناول کو ’الباریزیۃ الحسناء/پیرس کی حسینہ‘ کے نام سے 1884 میں، نجیب حداد(1867-1899) نے فادراسکندر ڈومس کے ناول کو ’الفرسان الثلاثۃ/ تین بہادر‘ کے نام سے 1888میں، طینیوس عبدہ (1869-1926) نے بونسن ڈی ٹیرے کے ناول کو روکمبول کے نام سے 1906میں عربی میں ترجمہ کیا۔ 41؎
حنا فاخوری کے بقول ’’اگر چہ ان ترجموں کی زبان رکیک تھی لیکن عربی میں ناول نگاری کے ارتقا میں ان کا کردار بہت اہم ہے۔‘‘42؎
مصطفی لطفی منفلوطی ان غیر ملکی کہانیوں کو عربی میں پروسنے والا ایک بہت اہم نام ہے۔ اس نے برنارڈین ڈی سان پییر (Bernardin de Saint-Pierre) کے ناول ’بول وفرجینی، کو ’الفضیلۃ‘ کے نام سے، الفونس کر(Alphonse Karr) کے ناول ’تحت ظلال الزیزفون‘ کو ’مجدولین‘ کے نام سے،اڈمنڈ رسٹنڈ (Edmond Rostand)کے ناول ’سیرانو دی برجراک‘ کو ’الشاعر‘ کے نام سے، فرانسوکوپے (Francoin Coppee) کے ایک منظوم ڈرامے کو ’فی سبیل التاج‘ کے نام سے اتنی آزادی سے عربی کا پیکر عطا کیاکہ ڈاکٹر احمد ہیکل کے بقول:
’’منلفوطی کی ان کوششوں کومصر میں فکشن نگاری کے فن کی بنیاد سمجھاجاتا ہے کیونکہ وہ ایسے پہلے ادیب تھے جنھیں نہ صرف بہت بڑے پیمانے پر قارئین ملے بلکہ انھوں نے فکشن اور ناول کو ادب کا ایسااعلی نمونہ سمجھنے پرلوگوں کو ابھارا جن کی کشش شاعری سے کم نہیں۔اس طرح مصر کے جدید ادب کی تاریخ میں بالعموم اور فکشن نگاری کے فن میں بالخصوص منفلوطی کو ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔‘‘43؎
ان تمام مترجم ومعرَّب کوششوں نے عربی ادیبوں کی ذہن سازی کی۔ لبنانی اور شامی ادیبوں نے مصریوںسے پہلے طبع زاد ناول لکھنے کی کوشش کی۔ 44؎
مصر میںمحمد مویلحی (1858-1930) نے ’حدیث عیسی بن ہشام‘ لکھا۔ حافظ ابراہیم (1872-1932) نے ’لیالی سطیح‘ لکھا۔ محمد لطفی جمعہ(1886-1953) نے ’لیالی الروح الحائر‘ لکھا۔ جرجی زیدان (1861-1914) نے 1891کے بعدسے اسلامی موضوعات کو کہانی کے پیکر میں ڈھالنا شروع کیا اور1931 تک پہنچتے پہنچتے انھوں نے گیارہ تاریخی ناول 45؎لکھے اور انھیں تاریخی ناول نگاری کا قائد تسلیم کیاگیا۔ان کے بعد فرح انطون (1874-1922) نے ’اورشلیم الجدیدۃ (نیویوروشلم)، الدین والعلم والمال‘ جیسے کئی تاریخی ناول لکھے تو محمد فرید ابو حدید (1893-1967) نے ’ابنۃ الملوک‘ جیسی تاریخی کہانیاں لکھنے کی کوشش کی۔نجیب محفوظ (ولادت: 1912) نے ’عبث الاقدار، کفاح طیبۃ، رادوبیس‘ کے نام سے تاریخی کہانیاں لکھیں جنھیں رومانی تاریخی کہانیوں کا آغاز سمجھاگیا۔
اس طرح ناول نگاری ارتقا کے مراحل طے کرتی رہی اوربالکل مغربی نہج پر ناول لکھنے کی کوشش کی گئی۔ محمد حسین ہیکل (1888-1957) کے ناول ’زینب‘ کو فنی اعتبارسے عربی کا سب سے پہلا ناول تسلیم کیاگیا کیونکہ:
’’اس میں کہانی نگاری کے فنی عناصر کی بازگشت محسوس کی جاسکتی ہے۔‘‘46؎
ڈاکٹر شوقی ضیف کے بقول:
’’زینب بالکل ہی نئی تخلیق ہے اور جدید مغربی مفہوم میں کہانی نویسی کی بالکل مکمل کوشش ہے۔‘‘47؎
احمد ہیکل کا خیال ہے کہ:
’’ اس میں پائی جانے والی حقیقت نگاری اور کافی حد تک ناول کے اصولوں کی پاسداری کی وجہ سے ’زینب‘ کو مصر کی جدید ادبی تاریخ کا پہلا ناول تسلیم کیا جاتا ہے۔‘‘48؎
اس طرح ناول نگاری کا آغاز ہوا یہاں تک کہ 1931 کے بعد باضابطہ طور سے طبع زاد ناول لکھے جانے لگے۔49؎ اور پھر محمود تیمور(1894-1973)، توفیق الحکیم (1898-1987)، طہ حسین (1889-1973)، ابراہیم عبد القادر المازنی (1889-1949)، توفیق عواد(1911-1989)، نجیب محفوظ(1912-2006)، محمد عبد الحلیم عبد اللہ (1913-1970) اور عبد الحمید جودۃالسحار (1913-1974) نے ناول و کہانی نگاری کو اپنے عروج پر پہنچادیا۔ نجیب محفوظ کو ان کے ناول ’اولاد حارتنا/ہمارے محلے کے لونڈے ‘پر ادب کا نوبل پرائز بھی دیاگیا۔حقیقت یہی ہے کہ کہانیاں تو عربی میں موجود تھیں لیکن اس طرز پر نہیں جس طرز پر یورپی زبانوںمیں لکھی جارہی تھیںاسی لیے یہ بات بہت واضح ہے کہ غیر ملکی کہانیوں کے ترجمے کے اثرات کے زیر اثر یہ ادبی انقلاب رونما ہوااور عربی میں ناول نگاری کے فن کی نشو ونما ہوئی یہاں تک کہ اسے نوبل پرائز کے ساتھ عالمی سطح پر اعتبار ومقام حاصل ہوگیا۔
عربی ادبیات کے مغربی ترجموں سے ناول کا آغاز ہوا تھا لیکن جب ناول اپنے عروج پر پہنچا تو بہت سارے عربی ناولوں کا غیر عربی زبانوں میں ترجمہ کیاگیا۔ خود عالم عرب میں بہت سارے ناولوں کو فلمایابھی گیا۔
عربی میں کچھ مشہور ناولوں کے نام یہ ہیں:
موسم الہجرۃ الی الشمال از طیب صالح۔ رجال فی الشمس از غسان کنفانی۔ عزازیل از یوسف زیدان،الثلاثیۃ از نجیب محفوظ (اس میں تین ناول ہیں: بین القصرین، قصر الشوق، السکریۃ) رامۃ والتنینی از اداور الخراط،شرف از صنع اللہ ابراہیم۔ مدن الملح از عبدالرحمن منیف(اس میں پانچ ناول ہیں۔ اس لیے اسے خماسیہ بھی کہا جاتا ہے۔ان کے نام یوں ہیں: التیہ، الاخدود، تقاسیم اللیل والنہار، بادیۃ الظلمات ) البحث عن ولید مسعود از جبرا ابراہیم جبرا، الزمن الموحش از حیدر حیدر، الشراع والعاصفۃ از حنا مینا 50؎
جہاں تک افسانے کی بات ہے تویورپ اور یورپی ادبیات سے عربوں کی واقفیت کے بعد اور مغربی کہانیوں کے ترجموں کے زیر اثراس کی بھی نشوونما ہوئی اورنقادوں کے بقول مصر میں زینب کے چار یا پانچ برس(اگر زینب کو لکھنے کی تاریخ 1912 مانی جائے تو پانچ برس، اگر 2013 مانی جائے تو چار برس) بعد محمد تیمور (1892-1921) نے ’فی القطار‘ کے نام سے سب سے پہلا عربی افسانہ لکھا۔یہ افسانہ ’السفور‘ نامی اخبار میں 1917میں شائع ہوا۔51؎
عبد الرحمن کبلوتی کے بقول ’فی القطار‘کے ساتھ افسانہ کا فن جدید مفہوم میں اپنے اوج کمال کو پہنچ گیا۔‘‘ 52؎ اسی لیے محمد تیمور کوعربی افسانے کا بانی کہاجاتا ہے۔
احمد ہیکل کہتے ہیں کہ ’’کم از کم مصر کے حوالے سے یہ بات قابل اطمینان ہے مگر جہاں تک عالم عرب کی بات ہے تو محمد سے قبل 1915 میں میخائیل نعیمہ (1889-1988) نے ’اقرا‘ کے نام سے ایک افسانہ لکھا تھا۔53؎ سلیم بستانی (1847-1884)کا افسانہ’رمیۃٌ من غیرِ رامٍ‘ لبنان میں لکھا جانے والا پہلا افسانہ سمجھا جاتاہے۔ یہ افسانہ لبنان کے مجلہ ’الجنان‘ میں 1870 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد لبیبہ ہاشم (1882-1952) نے ’حسنات الحب‘ کے عنوان سے ایک افسانہ لکھا۔
اس کے بعدمصر میں مصطفی لطفی منفلوطی نے ’نظرات اور عبرات‘ میں افسانے کی صورت میں کچھ کہانیاں شامل کیں۔ہیکل کے بقول افسانہ نگاری کے میدان میں کی جانے والی یہ اولین مگر غیر پختہ کوششیں تھیں۔54؎
محمد تیمورکو مغرب کے قصصی ادب سے گہری واقفیت تھی۔1911 سے 1914 تک وہ پیرس میں قیام کرچکا تھا۔وہاں کے ادب کا اس نے گہرا مطالعہ کیا تھا۔ منفلوطی سے بھی وہ متاثر تھا۔ مشہور روسی ادیب موپاساں (Guy de Maupassant)سے وہ بہت متاثر تھا۔اس سے قبل کہانی کے میدان میں جو کوششیں ہوئی تھیں ان سے بھی وہ واقف تھا اسی لیے اس کی کہانیوں میں منفلوطی، موپاساں وغیرہ کا خاص اثر نظر آتا ہے۔ 55؎
محمد تیمور نے ’فی القطار‘ کے علاوہ بھی کئی افسانے لکھے لیکن 1921 میں اس کے اچانک انتقال کے بعد اس کے چھوٹے بھائی محمود تیمور نے اس کے ادبی پرچم کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کی ادبی میراث کو آگے بڑھاتے ہوئے کئی افسانے لکھے۔محمد تیمور کے افسانوں کا مجموعہ ’ماتراہ العیون/ آنکھ جو دیکھتی ہے‘‘ نام سے شائع کیا۔56؎ بلکہ ’مؤلفات محمد تیمور‘ کے نام سے اس نے محمدتیمور کی تمام باقیات کو مرتب کردیااور اس کا نام ’ومیض الروح‘ رکھا۔اس میں محمود نے محمد کی سوانح بھی تفصیل سے لکھی ہے۔ 57؎
اس کے بعد وہ خود افسانے لکھنے لگا۔ پانچ سال بعد اس نے اپنے افسانوں کے کئی مجموعے ’الشیخ جمعہ وقصص اُخرٰی(شیخ جمعہ اور دیگر کہانیاں)، عَمّ مُتوَلِّی وقَصَص اُخرٰی(چچا متولی اور دیگر کہانیاں)’الشیخ سید العبیط واقاصیص اخری‘شائع کیے۔
اس طرح مصر کے ساتھ عالم عرب میں افسانے کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ اسے عروج اور مقبولیت حاصل ہوئی یہاں تک کہ بیسویں صدی کے تیسرے اور چوتھے عشرے میں طہ حسین (1889-1973)، توفیق الحکیم (1898-1987)، یحی حقی(1905-1992) اور یوسف ادریس (1927-1991) جیسے ادیبوں کی وہ جماعت منظر عام پر آئی جس نے افسانے کو ارتقا کی منزلوں سے آشنا کیا۔یوسف ادریس کو فن افسانہ نگاری کا ’قائد‘ تسلیم کیاگیاکیونکہ وہ ایک کہانی نگار ہی نہیں ایک ڈاکٹر،ادیب، ڈرامہ نگار اور ناول نگار بھی تھا۔ اس نے افسانے کے فن میںایسی جدت طرازی سے کام لیا کہ اس کے افسانے نفسیاتی عمق اور سماجی حقیقت نگاری کے امتزاج کے ساتھ نئے رنگوں سے معمور ہوگئے۔
یوسف ادریس کے ساتھ ساتھ یحییٰ حقی، طیب صالح (1929-2009) اور بہا طاہر (1935-2022) وغیرہ اس فن کے قائد کے طور پر ابھرے اور افسانے کو پورے عالم عرب میں شہرت ومقبولیت کی سند دلائی۔ یحییٰ حقی کو ’عمید القصۃ القصیرۃ‘ کے لقب سے ملقب کیاگیا۔ افسانے کے فن کو مشہور ومقبول کرنے میں اخبارات نے بہت اہم کردار اداکیا کہ انھوں نے افسانہ نگاروں کے لیے اپنے اخبارات میں خصوصی جگہ دینا شروع کیا جس کی وجہ سے عوام تک افسانوں کی ترسیل ممکن ہوئی اور اسے پذیرائی ملی۔
جہاں تک ڈرامہ نگاری کا تعلق ہے توپانچویں صدی قبل مسیح یونان میں ڈرامے کا وجود تھا۔ ہندوستان میں بھی تھا۔ مصر کے فرعونی عہد میںبھی ڈرامے کا وجود تھا۔ ایک عرصے تک ڈرامے کے انحطاط کے بعد یورپ میںڈراموں کی نشاۃ ثانیہ ہوئی۔
عالم عرب میں ڈرامہ تو نہیں پایا جاتاتھا مگر اس کی کچھ صورتیں پائی جاتی تھیں۔ شیعہ حضرات کربلا میں حضرت حسین، ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے والے سانحے کو ڈرامے کی صورت میں پیش کرتے تھے۔ ایوبیوں اور مملوکیوںکے زمانے میں ’خیال الظل‘ کے نام سے ڈرامے کی ایک شکل موجود تھی جس میں گڈے گڑیوں کی شکل میں روشنی کے ذریعے پردے پر ان کی تصویریں متحرک کی جاتی تھیں اور پردے کے پیچھے کہانی پیش کی جاتی تھی۔یہ ڈرامے سماج کے اعلی طبقے کے لیے خاص ہوتے تھے۔عمر دسوقی نے ابن حجۃ کی ’ثمرات الاوراق‘ اور علاء الدین بہائی کی ’مطالع البدور‘ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ صلاح الدین ایوبی اور اس کے وزیر قاضی فاضل بھی خیال الظل کے ڈرامے دیکھا کرتے تھے۔ مصر میں بھی خیال الظل کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ابن دانیال کحال (وفات: 710 ھ) کو خیال الظل کی کہانیاں تخلیق کرنے میں شہر ت حاصل ہوئی۔ عمر دسوقی لکھتے ہیں کہ خیال الظل کے اس فن کا ڈرامے کی شکل اختیار کرنا اور ترقی یافتہ ہونا بہت آسان تھا لیکن مختلف اسباب کی بنا پر ایسا نہیں ہوسکا۔58؎
لیکن عالم عرب میں حقیقی اورفنی مفہوم میںڈرامے کی نشوونماانیسویں صدی کے نصف ثانی میں مغرب سے رابطے کے بعد وہاںپائے جانے والے ڈراموںاور ان کے ترجموں کے زیر اثر ہوئی۔ 1798 میں جب نپولین مصر آیا تو اپنے ساتھ وہ تھیٹر بھی لایاجہاں’’الطمأنینۃ، زیلیس وفلکور / بونابرت فی مصر‘ کے نام سے دو ڈرامے اسٹیج کیے گئے۔ لیکن 1901میں جب وہ مصر سے نکل گیا تو ڈرامے کا باب بند ہوگیا۔ اس کے کچھ خاص اثرات بھی مصر کی سرزمین پر نہیں پڑے۔ 59؎
نپولین کے بعد عباس پاشا اور اس کے بعد کے ادوار میں بھی اس تالاب میں سکوت چھایا رہا یہاں تک کہ اسماعیل پاشا(ولادت : 1830/ حکومت 1863-1879) مسند حکومت پر متمکن ہوا۔اسماعیل پاشا خود طلبہ کے وفود میں تعلیم کے حصول کے لیے یورپ گیا تھا۔ بالکل یورپی ذوق ومزاج میں رنگا ہوا تھا۔ اس لیے اس نے مختلف امور میں یورپ کی نقالی کے ساتھ ساتھ اداکاری، موسیقی اور نغمہ نگاری پر خصوصی توجہ دی۔1868 میں اس نے ’مسرح الکومیدی/کومیڈی تھیٹر‘کی بنیاد ڈالی۔وہاں اٹلی کے منظوم ڈرامے ’ریگلٹو‘کو اسٹیج کیاگیا۔ اس کے بعد 1869 میں نہر سوئزکے افتتاح کے موقعے سے اس نے ’مسرح الاوبرا/ اوپیرا تھیٹر‘قائم کیا وہاں بھی ایک دوسرے منظوم اطالوی ڈرامے ’عایدہ‘ 60؎ کو اسٹیج کیاگیا۔61؎ حامد شوکت کے بقول ان ڈراموں میں یورپ سے لائے گئے اداکاروں نے اداکاری کی۔ 62؎
اس کے بعد اسماعیل پاشا نے اس فن پر مزید توجہ مبذول کی۔ اداکاری اور ڈراموں کی حوصلہ افزائی کی۔ مالی اعانت سے نوازا۔جس کی وجہ سے مصر میں گھریلو تھیٹروںکی تعداد میں اضافہ ہوااور تھیٹر کو ترقی ہوئی یہاں تک کہ شام سے ابو خلیل قبانی(1833-1903)، مارون نقاش (1817-1855) اور سلیم نقاش (وفات:1884) جیسے اداکاروں اوران کے ساتھ کچھ اداکاراؤں کے گروپ مصر آئے جنھوں نے ترجمہ شدہ ڈراموں کو اسٹیج کرنا شروع کیا۔63؎
ان کے بعد یوسف خیاط(ولادت 1927)، سلیمان قرداحی (وفات 1909) جیسے اداکاری کے کئی اور گروپ منظر عام پر آگئے جس کی وجہ سے تھیٹر کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے ناظرین کی بھی تعداد بڑھی۔ کئی اداکار خلیل قبانی کے ساتھ آملے جن میں احمد ابو العدل، قرداحی، سلیمان حداد، مغنیہ لبیبہ، اداکارہ مریم سماط(ولادت: 1870) کے نام قابل ذکر ہیں۔64؎ اس طرح ڈرامہ کے فن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ اسماعیل پاشا نے ’اوبرا ملکیہ/ شاہی اوپیرا‘ کی بنیاد ڈالی۔ بیروت سے 1876 میں ادیب اسحاق اور یوسف خیاط کے ساتھ سلیم نقاش مصر آئے اور شیخ سلامہ حجازی، سید درویش، محمد عزت أفندی وغیرہ کو اپنے ساتھ ملالیا۔ 65؎ ڈرامے کی اسی مقبولیت کے ساتھ مصری اور شامی ڈرامہ نگاروں کی بھی تعداد میں اضافہ ہوا جن میں عثمان جلال کا نام سرفہرست ہے۔
عثمان جلال(1828-1898) نے بہت سارے ڈراموں کا ترجمہ کیا۔ انھیں مصری رنگ وروغن میں ڈھالا۔ کچھ ڈرامے خود بھی لکھے۔جن ڈراموں کا اس نے عربی میں ترجمہ کیا ان میں فرانسیسی شاعر ’راسین‘ کے تین ڈرامے ’استر، افغانیہ، اسکندر الاکبر‘ قابل ذکر ہیں۔ جن ڈراموں کو مصری رنگ وروغن میں ڈھالا ان میں فرانس کے مشہور ڈرامہ نگار ’مولیر‘ کے ’الشیخ متلوف، النساء العالمات، مدرسۃ الازواج، مدرسۃ النسا‘ قابل ذکر ہیں۔عثمان جلال نے ’المخدّمین‘ کے عنوان سے ایک ڈرامہ خود بھی لکھا۔66؎
عثمان جلال کے ان ترجموں اور شام کے اداکاروں کی وجہ سے ڈرامے کا فن عربی میں منتقل ہونا شروع ہوا۔ مارون نقاش نے 1848 میں بیروت میں سب سے پہلا تھیٹر قائم کیا۔67؎ اسی سال اس نے ’البخیل‘ کے عنوان سے عربی میں ایک ڈرامہ لکھا جسے عربی کا سب سے پہلا ڈرامہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اس نے ’ابو الحسن المغفل اور الحسود ‘ کے نام سے دو اور ڈرامے لکھے۔68؎ ابو الحسن المغفل مولیر کے ڈرامے سے ماخوذ تھا۔ مارون نقاش نے اپنے ڈراموں کا دقیق ترجمہ نہیں کیا بلکہ انھیں ایسی عربی میں ڈھالا جو عربی رنگ وآہنگ اور ذوق سے ہم آہنگ ہو۔
مارون نقاش کے بعد اس کے بھتیجے سلیم نقاش نے اپنے چچا سے سیکھے ہوئے ڈرامے کے فن کو آگے بڑھایا۔اس نے مصر میں ان ترجمہ شدہ ڈراموں یا یورپی ڈراموں سے ماخوذ عربی ڈراموں کو اسٹیج کیا جنھیں ازیں قبل مارون نقاش بیروت میں اسٹیج کرچکا تھا۔69؎ ’انڈرومیک اور الظلوم‘ جیسے سلیم نقاش کے اسٹیج کرد ہ ڈرامے فرانسیسی ڈارموں سے ماخوذ تھے اور ایسے اسلوب میں ترجمہ کیے گئے تھے جو رکاکت اور ضعف سے خالی نہیں تھے۔70؎ اسکرپٹ رائٹنگ میں شامی صحافی ادیب اسحاق (1856-1885) اور اس کے بعد یوسف خیاط (ولادت: 1927) سلیم نقاش کی مدد کرتے تھے۔ احمد ہیکل کے بقول ’’اس وقت تک اسٹیج کیے جانے والے بیشتر ڈرامے یا تو ترجمہ شدہ تھے یا مغربی ڈراموں سے ماخوذ تھے یا معرب تھے یا مصری رنگ میں ڈھالے گئے تھے۔ طبع زاد ڈرامے بہت کم تھے۔‘‘71؎
یہاں یعقوب صنوع کا بھی کردار بہت اہم ہے۔ یعقوب صنوع صحافی تھے۔ ’ابو نظارہ‘ کے نام سے اخبار نکالتے تھے۔ اٹلی میں پڑھ چکے تھے۔ وہاں بہت سارے ڈرامے دیکھ چکے تھے۔ چنانچہ انھوں نے 1870 میںقاہرہ میں پہلا عربی تھیٹر قائم کیا۔اسماعیل پاشا نے انھیں ’مولیر مصر‘ کا خطاب دیا۔ اس نے نہ صرف مولیر کے بہت سارے ڈراموں کا ترجمہ کیا بلکہ انھیں مصری رنگ وآہنگ میں ڈھالا۔ ان میں مصری لہجے کا بھی استعمال کیا۔ بلکہ خود بھی بہت سارے مزاحیہ ڈرامے تخلیق کیے۔72؎ اس نے اپنے لکھے ہوئے بتیس ڈرامے یہاں اسٹیج کیے۔کچھ ترجمہ شدہ ڈرامے بھی تھے۔ان کے ڈراموں میں سماجی، اخلاقی وسیاسی مسائل پیش کیے جاتے تھے۔یہ ڈرامے مزاحیہ بھی ہوتے تھے۔ غنائی ڈرامے بھی ہوتے تھے اور عصری بھی۔ اداکار مصری بھی ہوتے تھے اور غیر ملکی بھی۔فنی اعتبار سے یہ ڈرامے بہت سادہ مزاج کے حامل ہوتے تھے۔ زبان بھی عامیانہ ہوتی تھی۔بعض ڈرامے مولیر کے ڈراموں سے ماخوذ ہوتے تھے اسی لیے اسے مولیر مصر کا خطاب دیا گیا۔73؎
اس وقت تک پیش کیے جانے والے طبع زاد ڈراموں کے بارے میں احمد ہیکل لکھتے ہیں کہ:
’’یہ طبع زاد ڈرامے عالمی ڈرامائی ادب کے ہمسر نہیںتھے۔ بس ڈرامہ نویسی کا سادہ سا آغاز تھے۔یہ ایسے ادبی شہ پارے نہیںتھے جن کو پڑھ کر تلذذ حاصل ہو۔اسی لیے باقی اصناف کی طرح ان کا تنقیدی جائزہ بھی نہیں لیا جاسکتا تھا جیسا کہ بعد میں ہم شوقی کے منظوم ڈراموں یا توفیق الحکیم کے ڈراموں میں محسوس کرتے ہیں۔ ان ڈراموں کی زبان رکیک، علم بدیع کی صنعتوں سے آراستہ اور مسجع ومقفع تھی جس میں کہیں کہیں غیر مربوط اشعار بھی شامل ہوتے تھے۔ بعض اوقات ان میں عامی لہجے کا بھی استعمال کیا جاتا تھااسی لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایسی زبان تھی جو ڈراموں کے قابل نہیں تھی۔ لیکن ان تمام عیوب اور فنی خامیوں کے باوجودمصر میں پہلی مرتبہ ڈرامے کے فن کی پیدائش ہوئی اور ڈرامائی ادب کی بنیاد پڑی۔‘‘74؎
اس طرح عربی میںیورپ کے ڈراموں اور ان کے ترجموں کے زیر اثرعربی ڈرامے کے فن کی بنیاد پڑی۔اور پھر آہستہ آہستہ اس فن میں برگ وبار آئے۔اس کے گلشن میں بہار آئی اور احمد شوقی (مصر، 1868-1932) ابو خلیل قبانی (شام، 1833-1903) فرح انطون (لبنان، 1874-1922)،ابراہیم رمزی (مصر،1884-1949)،محمود تیمور (مصر، 1894-1973)، عباس علام(مصر، 1892-1950)،توفیق الحکیم (مصر،1898-1987)، نعمان عاشور (مصر، 1918-1987)، یوسف ادریس(مصر، 1927-1991)، الفریڈ فراگ(مصر، 1929-2005) الطیب الصدیقی (مغرب، 1939-2016) عز الدین المدنی (ٹیونس، ولادت:1938)، سعد اللہ ونوس (شام،1941-1997)اور عبد الکریم یرشید(مغرب، ولادت: 1943) جیسے بڑے بڑے ڈرامہ نویس منظر عام پر آگئے جنھوں نے ڈرامہ کو بالکل اس کے فنی اسلوب میں لکھنے کی کوشش کی یہاں تک کہ عربی میں لکھے گئے بہت سارے ڈراموں کا غیر عربی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ رائد المسرح العربی الحدیث یعنی’جدید عربی ڈرامے کے قائد‘کے لقب سے ملقب کیے جانے والے توفیق الحکیم کے ڈرامے انگریزی، فرانسیسی، جرمن اور اطالوی زبانوں میں ترجمے کیے گئے بلکہ یورپ وامریکہ کے تھیٹروں میں انھیں اسٹیج بھی کیاگیا۔الفریڈ کے بھی کچھ ڈراموں کا انگریزی، فرانسیسی اور جرمن میں ترجمہ کیاگیا۔ احمد شوقی کے منظوم ڈراموں کا بھی انگریزی اور فرانسیسی میں ترجمہ کیاگیا لیکن ان کو خاطر خواہ مقبولیت وپذیرائی نہیں حاصل ہوئی۔
اس طرح وہ کہانی جو مختلف شکل وصورت میں عربی ادب کے مختلف ادوار میں اپنا وجود رکھتی تھی عصر حاضر میں مغربی اور یورپی کہانیوں اور ان کے ترجموں کے زیر اثرجدید فکری وفنی انداز میں لکھی، پڑھی اور اسٹیج کی جانے لگی۔ فکشن کے میدان میں یہ ارتقا عربوں کے اہل مغرب کے ساتھ رابطے، ان کی ادبیات سے روشناسی اور یورپی فکشن کے ترجموں کی مرہون منت ہے اور جب بھی عربی میں فکشن کے نشوونما اور ارتقا کی تاریخ لکھی جائے گی تو مغربی ویورپی زبانوں میں لکھی گئی کہانیوں اور ان کی مختلف شکلوں کے اثرات سے کسی کو انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

حواشی
.1 دیکھیے تاریخ الادب العربی از ڈاکٹرشوقی ضیف 1/14
.2 دیکھیے تاریخ الادب العربی از شوقی ضیف 1/14
.3 دیکھیے تاریخ الادب العربی از احمد حسن زیات ص 6
.4 دیکھیے تاریخ الأدب العربی 3/206
.5 دیکھیے تاریخ الادب العربی از حنا فاخوری 1/39، تاریخ الادب العربی از ڈاکٹر عمر فروخ 1/58، تاریخ الادب العربی از ڈاکٹرشوقی ضیف 1/14، تاریخ الادب العربی از احمد حسن زیات ص 6
.6 اور بعض مورخین کے بقول دس
.7 دیکھیے جدید عربی ادب ص50-51
.8 جدید عربی ادب ص75-77
.9 فی الادب العربی الحدیث1/13-14
.10 فی الادب العربی الحدیث1/41
.11 فی الادب العربی الحدیث 1/41
.12 نپولین 15 اگست 1769 کوپیدا ہوا۔بچپن سے ہی اسے حرب وجنگ کا شوق تھا۔اسی لیے دس برس کی عمر میں فرانس کے آرمی اسکول میں داخل ہوا۔بہت ذہین وفطین تھا۔ فرانسیسی زبان سیکھی۔ ریاضیات میں بہت اچھا تھا۔تاریخ وجغرافیہ سے بھی اسے بہت شغف تھا۔جنگی ہیرو بننا چاہتا تھا۔ 1798 میں مصر وارد ہوا۔ 1801 میں وہاں سے نکل گیا۔ کہاجاتا ہے کسی نے اسے زہر دے دیا تھا جس کی وجہ سے 1821 میںاس کا انتقال ہوگیا لیکن اس کی جائے مدفن کا کسی کو پتہ نہیں۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ معدے کے کینسر کی وجہ سے انتقال ہوا۔ دیکھیے کتاب نابلیون بونابرت، امبراطور فرنسا الذی اکتسح اوربا، ثم وقع فی الفخ الروسی، تالیف دکتور ایمن ابو الروس ص 3
.13 دیکھیے تطور الادب العربی الحدیث از احمد حسین ہیکل ص 25 بحوالۂ تاریخ الحرکۃ القومیۃ 1/66
.14 الادب العربی الحدیث از مسعد بن عید العطوی،ص14
.15 دیکھیے تطور الادب العربی الحدیث از احمد حسین ہیکل ص 25، فی الادب الحدیث ازعمر دسوقی 1/17،الادب العربی الحدیث از عطیوی ص18
.16 دیکھیے محمد علی باشا عودۃ الذاکرۃ المصریہ ص 42
.17 دیکھیے حرکۃ الترجمۃ3/11-21
.18 دیکھیے حرکۃ الترجمۃ3/11-21
.19 محمد علی پاشا کی 1769 میںالبانیا میںولادت ہوئی۔ البانیا اس وقت سلطنت عثمانیہ کے ماتحت تھا۔محمد علی پاشا فوج میں ملازم تھا اور سلطنت عثمانیہ کے ایک فوجی افسر کی حیثیت سے نپولین کو مصر سے نکالنے کے لیے 1801 میں مصر وارد ہوا۔ 1849 میں اس کا انتقال ہوا۔( دیکھیے محمد علی باشا بانی نہضۃ مصر الحدیثۃ ص ۱ وما بعدہ،محمد علی باشا عودۃ الذاکرۃ المصریۃص45 تطور الادب الحدیث از ہیکل ص26
.20 تطور الادب العربی الحدیث از ہیکل ص26
.21 ڈاکٹر احمد ہیکل کاخیال ہے کہ محمد علی پاشامصر میں اپنی شہنشائیت کے قیام کا خواب دیکھ رہا تھا۔ اس نے مصریوں کو دھوکہ دے کر 1805 میں حکومت پر قبضہ کیا۔ حکومت پر قبضہ کرتے ہی اس نے عمر مکرم (1750-1822) جیسے بڑے بڑے مصری لیڈروں کو اپنے ستم کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔بچے کھچے مملوکیوں کوقتل کرادیا۔اپنے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو دبانے کے لیے اس نے ایک بہت بڑی فوج بنانے کا منصوبہ بنایا تاکہ وہ نہ صرف مصری مزاحمت سے اپنا دفاع کرسکے بلکہ ترکی کا باب عالی بھی اسے معزول کرنے کی جرات نہ کرسکے۔نہ ہی انگلینڈ اس کا کچھ بگاڑ سکے۔اسی فوج کی خدمت کے لیے اس نے فوجی اسکول کھولا۔فوجیوں کے علاج کے لیے میڈیکل کالج کھولا۔ فارمیسی کا اسکول قائم کیا۔ بیطری طب، انجینئرنگ کے ساتھ کئی پرائمری اور اعدادی اسکول قائم کیے۔ملک کے لوگ چونکہ یورپی زبانوں سے واقف نہیں تھے اس لیے شامی اور مراکشی مترجمین کی مدد حاصل کی۔ یورپ میں طلبہ کے وفود بھیجنا شروع کیے تاکہ یہ لوگ واپس آکر ان اسکولوں میں پڑھائیں جو فوج کی خدمت کے لیے ہیں۔( تطور الادب العربی الحدیث ص 27)
.22 دیکھیے فی الادب العربی الحدیث 1/29
.23 دیکھیے فی الادب العربی الحدیث 1/24-39، محمد علی باشا، عودۃ الذاکرۃ المصریۃ ص126-128
.24 الوسیط فی الادب العربی ص 274
.25 دیکھیے حرکۃ الترجمۃ خلال القرن العشرین ص55-56
.26 الادب العربی الحدیث از عطیوی ص 18
.27 دیکھیے حرکۃ الترجمۃ ص 53-72
.28 حرکۃ الترجمۃ ص 98
.29 میرا خیال ہے کہ حرکۃ الترجمہ نامی کتاب میں ترجمہ شدہ کتابوں کی فہرست پر نظر ڈالنے سے ڈاکٹر شوقی ضیف کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔
.30 اسماعیل پاشا 1863 میں مصر کا حاکم ہوا۔ یہ بھی ان طالب علموں میں شامل تھا جنھیں محمد علی پاشا نے یورپ پڑھنے کے لیے بھیجا تھا۔ تطور لادب العربی الحدیث ص 45
.31 دیگھیے جدید عربی ادب ص79-80
.32 تطور الروا یۃ العربیۃ ڈاکٹر عبد المحسن بدر ص 21 بحوالۂ تطور الادب العربی الحدیث ص29
.33 تطور الادب العربی الحدیث ص 49
.34 جدید عربی ادب ص81
.35 دیکھیے الوسیط فی الادب العربی ص 270
.36 المسرحیۃ ص 3
.37 جدیدعربی ادب ص79
.38 الادب العربی الحدیث تاریخ کیمبرج ص 324
.39 مصر میں1888 میں پیداہوئے۔905عیسوی میں گریجویشن کیا۔ 1909 میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔سیاسی اقتصادیات میں فرانس سے 1912 میںڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔وہاں سے واپس آنے کے بعد منصورہ میں وکالت کی۔سیاست سے بھی رسم وراہ رکھی اور الااحرار پارٹی کی تاسیس میں حصہ لیا۔1922 میں نکلنے والے اس کے اخبار ’السیاسۃ‘ کی ادارت کا ذمہ سنبھالا۔1927 میں وزیر تعلیم وتربیت مقرر کیاگیا اور بہت ساری اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا۔ 1945 سے 1950 تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔اس کے بعد خود کو تصنیف وتالیف کے لیے وقف کردیا۔زینب کے علاوہ انھوں نے بہت ساری کتابیں لکھیں جن میں حیاۃ محمد (1935) الصدیق ابو بکر(1942) الفاروق عمر دو حصے(1944,1945)، عثمان بن عفان (ان کی وفات کے بعد 1964 میں شائع ہوئی)عشرۃ ایام فی السودان (1837) تراجم مصریہ وغربیہ (1929) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔(دیکھیے قاموس الادب العربی الحدیث ص 666-667، تطور الادب العربی الحدیث ص 198
.40 دیکھیے قاموس الادب العربی الحدیث ص666
.41 الجامع فی تاریخ الادب العربی ص 26
.42 الجامع فی الادب العربی ص 26
.43 تطور الادب العربی الحدیث ص 191-92
.44 تاریخ الادب العربی زیات ص433
.45 ان ناولوں کے نام یہ ہیں:’’فتاۃ غسان، ارمانوسۃ المصریۃ، عذراء قریش، غادۃ کربلا، الحجاج بن یوسف، ابو مسلم الخراسانی، العباسۃ، الامین والمامون، فتاۃ القیروان، فتح الاندلس، عبد الرحمن الناصر‘‘ (تطور الادب العربی الحدیث ص 194
.46 الجامع فی تاریخ الادب العربی ص 26
.47 جدید عربی ادب ص 276
.48 تطور الادب العربی الحدیث ص 198
.49 الادب العربی الحدیث تاریخ کیمبریج ص 330
.50 دیکھیے مضمون نشاۃ الروایۃ العربیۃ وتطورہا از عبد الرحمن محمد 10 مئی 2021 سطور ڈاٹ کام
.51 تطور الادب العربی الحدیث ص 207
.52 القصۃ القصیرۃ فی الادب العربی ص18)اسی لیے محمد تیمور کوعربی افسانے کا بانی کہاجاتا ہے۔
.53 تطور الادب العربی الحدیث ص 206
.54 دیکھیے تطور الادب الحدیث ص 204
.55 دیکھیے تطور الادب العربی الحدیث ص 206
.56 اس میںکل نو افسانے شامل ہیں۔ ان کے عناوین یوں ہیں: فی القطار، عطفۃ المنزل رقم 22، بیت الکرام، حفلۃ طرب، صفارۃ العید،ربی لمن خلقت ہذا النعیم، کان طفلا فصار شابا، العاشق المفتون بالترب والنیاشین، قصۃ الشباب الضائع۔ دیکھیے مولفات محمد تیمور)
.57 اس میں کل چھ فصل ہیں۔ ہر فصل کو کتاب کا نام دیا گیا ہے۔الکتاب الاول: دیوان تیمور،الکتاب الثانی: الوجدان،الکتاب الثالث: الادب والاجتماع،الکتاب الرابع : ما تراہ العیون،الکتاب الخامس : خواطر،الکتاب السادس: مذکرات باریس۔ دیکھیے مولفات محمد تیمور از محمود تیمور)
.58 دیکھیے المسرحیۃ از عمر دسوقی ص 5-14، المسرحیۃ فی شعر شوقی ص5 وما بعدہا
.59 المسرحیۃ فی شعر شوقی ص19
.60 بعد میں اس کوفرانسیسی اور پھرعربی میں ترجمہ کیا گیا۔ المسرحیۃ فی شعر شوقی ص 20
.61 تطورالادب العربی الحدیث ص 82
.62 المسرحیۃ فی شعر شوقی ص 20
.63 المسرحیۃ فی شعر شوقی ص 21
.64 الجامع فی تاریخ الادب العربی حنا فاخوری ص 32
.65 الجامع فی الادب العربی ص 32-33
.66 دیکھیے تطور الاد ب العربی الحدیث فی مصرص 221
.67 ایضا
.68 المسرحیۃ فی شعر شوقی ص21
.69 تطور الادب العربی الحدیث ص 83
.70 المسرحیۃ فی شعر شوقی ص 21
.71 دیکھیے تطور الادب العربی الحدیث فی مصر ص 84
.72 دیکھیے المسرحیۃ فی شعر شوقی ص 22
.73 دیکھیے تطورالادب العربی الحدیث ص 83
.74 دیکھیے تطور لادب العربی الحدیث ص 84
مآخذ و مصادر
.1 الادب العربی الحدیث از عبد العزیز السبیل، ابو بکر باقادر، محمد الشوکانی،النادی العربی الثقافی جدۃ، السعودیۃ،ط1/1423ھ/ 2002
.2 الادب العربی الحدیث، مسعد بن عید العطوی، الالوکۃ، ط 1،2009
.3 الادب العربی وتاریخہ فی عصر الممالیک والعثمانیین والعصر الحدیث، بقلم محمود رزق سلیم،دار الکتاب العربی مصر، 1377ھ/1957
.4 تاریخ الادب العربی، از احمد حسن الزیات، دار نہضۃ مصر للطبع والنشر، القاہرۃ،
.5 تاریخ الادب العربی للدکتور شوقی ضیف، دار المعارف، ط2003
.6 تاریخ الادب العربی للدکتور عمر فروخ،دار العلم للملایین، بیروت لبنان، ط 4،1981
.7 تطور الادب الحدیث فی مصر،من اوائل القرن التاسع عشر الی قیام الحرب الکبری الثانیۃ، تالیف الدکتور احمد ہیکل،دار المعارف، ط 6/1994
.8 الجامع فی تاریخ الادب العربی، حنا فاخوری،دار الجیل بیروت،ط 1/1986
.9 جدید عربی ادب، الادب العربی المعاصر فی مصر ازشوقی ضیف کا اردو ترجمہ از شمس کمال انجم، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی، اشاعت سوم 2020
.10 حرکۃ الترجمۃ بمصر خلال القرن التاسع عشر، جاک تاجر،موسسۃ ہنداوی للتعلیم والثقافۃ، القاہرۃ مصر
.11 فی الادب الحدیث، عمر الدسوقی، دار الفکر العربی
.12 قاموس الادب العربی الحدیث، اشراف حمدی سکوت، القاہرہ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، 2015
.13 القصۃ القصیرۃ فی الادب العربی، علی الدوعاجی، محمود تیمور،از عبد الرحمن الکبلوطی،
.14 محمد علی باشابانی نہضۃ مصر الحدیثۃ، عبد اللہ محمد اسحاق،
.15 محمد علی باشا، عودۃ الذاکرۃ المصریۃ،منیر غبور،احمد عثمان، مکتبۃ مدبولی،القاہرۃ، ط1 /2011
.16 المسرحیۃ فی شعر شوقی، تالیف محمود حامد شوکت،مطبعۃ المقتطف والمقطم،1947
.17 المسرحیۃ نشأتہا وتاریخہا واصولہا، تالیف عمر الدسوقی، مکتبۃ الانجلو المصریۃ، ط1/ 1954
.18 مولفات محمد تیمور، از محمود تیمور، مطبعۃ الاعتماد بشارع حسن الاکبر مصر، ط۱/ 1340ھ/1922
.19 نابلیون بونابرت، امبراطور فرنسا الذی اکستح اوربا ثم وقع فی الفخ الروسی تالیف دکتور ایمن ابو الروس، مکتبۃ الساعی للنشر والتوزیع القاہرہ
.20 الوسیط فی الادب العربی وتاریخہ، تالیف الشیخ احمد الاسکندری، الشیخ مصطفی عنانی، ط 1/ 1919


Dr. Shams Kamal Anjum
Head, Dept of Arabic
Baba Ghulam Shah Badshah University
Rajouri- 185234 (J&K)
Mob.: 9086180380, drskanjum@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی اردو کی گنگا جمنی تہذیب کے آخری سفیر : مضمون نگار معصوم مراد آبادی

  میں پچھلے چالیس پینتالیس برسوں سے دہلی کی شعری اور ادبی زندگی کا مشاہدہ کررہاہوں۔ ایک طالب علم کے طور پراس شہرکے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کو قریب

دیگر اصناف نثر میں خودنوشت سوانح نگاری کے عناصر، مضمون نگار: سید وجاہت مظہر

 فکر و تحقیق، اکتوبر–دسمبر2024 تلخیص روزنامچہ،ڈائری یا یاد داشت بنیادی طور پر ایک ہی چیز ہیں۔اس صنف میں جزئیات نگاری کا وصف ہونے کے ساتھ روزانہ کچھ نہ کچھ تحریر

ورچوئل تدریس میں گوگل کلاس روم کا استعمال – مضمون نگار : مشتاق احمد آئی پٹیل

  تکنالوجی ہماری زندگی کے مختلف شعبوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ تعلیم کے میدان میں اس کے گہرے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف جہاں گوگل ہمیں دنیا