اردو دنیا،ستمبر 2026:
بیسویں صدی میں ترجمے کی دنیا کا ایک اہم اورنمایاں نام بشیشور پرشاد منور لکھنوی کاہے۔ انھوں نے ایک طرف شاعری کی شکل میں بیش قیمتی سرمایہ چھوڑا ہے تو دوسری طرف ان کی ایک اہم پہچان ان کے ذریعے مختلف زبانوں سے کیے گئے اردو ترجمے ہیں۔ ان کو کئی زبانوں پر یکساں دسترس حاصل تھی، جن میں اردو، ہندی، سنسکرت، فارسی، عربی اور انگریزی زبانیں شامل ہیں۔ منور لکھنوی نے منظوم و منثور دونوں طرح کے ترجمے کیے ہیں۔ ترجمے کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا۔ ان کے بیان کے مطابق انھوں نے تیرہ سال کی عمر میں انگریزی کی ایک کتاب ’’snow drop‘‘ کا ترجمہ اردو میں کیا تھا۔ انھوں نے ترجمے کی شکل میں اردو ادب کو جو سرمایہ دیا ہے ،اردو دنیا اسے کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتی۔ یہاں ان کے سبھی تراجم کے متعلق گفتگو نہ کرکے صرف سنسکرت زبان سے کیے گئے اردو تراجم پربحث کی جائے گی۔منور لکھنوی نے سنسکرت زبان میں تحریر کی گئی ادبی اور مذہبی کتابوں کا ترجمہ کرکے سنسکرت زبان سے ناواقف لوگوں کے لیے اہم کارنامہ انجام دیا ہے تاکہ اس زبان سے ناواقف لوگ بھی ہندو مذہب کو سمجھ سکیں اور سنسکرت ادب کی اہم تصانیف سے مستفید ہو سکیں۔ سنسکرت سرزمین ہند کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ زبان ہزاروں سالوں سے ارتقا کی منزلیں طے کرتی چلی آرہی ہے۔ سنسکرت زبان اپنے اندر قدیم ہندوستانی تہذیب و تمدن کا بہت بڑا ذخیرہ سمیٹے ہوئے ہے اور ویدک دور سے دور حاضر تک اس زبان میں ادبی تخلیقات کا سلسلہ جاری ہے، گرچہ دور حاضر میں اس زبان کے قارئین کم ہیں مگر اس زبان کا ادب ترجمے کی شکل میں دیگر زبانوں کے قارئین تک بآسانی پہنچ رہا ہے۔ان مترجمین کی صف میں ایک اہم نام منور لکھنوی کا بھی ہے جنھوں نے سنسکرت سے اردو ترجمہ کرکے اردو ادب کے سرمائے میں بیش بہا اضافہ کیا ہے۔منور لکھنوی نے سنسکرت زبان کی مذہبی اور ادبی تصانیف ملاکر کل 18 کتابوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ یہاں موصوف کی ترجمہ کردہ کچھ اہم کتابوں پر روشنی ڈالنے کی سعی کی گئی ہے۔
بھگوت گیتا موسومہ نسیم عرفاں: بھگوت گیتا کا شمار ان صحیفوں میں ہوتا ہے، جن کا ترجمہ کم و بیش دنیا کی ہر زبان میں ہو چکا ہے۔اردو زبان میں بھی بھگوت گیتا کے منظوم و منثور کئی ترجمے ہوچکے ہیں،جن میں سب سے قدیم ترجمہ منشی کنہیا لال عرف الکھ دھاری کا ہے۔ منور لکھنوی نے بھی گیتا کی افادیت اور اس کے عالم امن کے پیغام کو سمجھا اور اس سے متاثر ہوکر اس صحیفے کو اردو کا جامہ پہنایا۔ اس کتاب کا نام منور لکھنوی نے ــ’’نسیم عرفاں‘‘ رکھا۔ یہ ترجمہ منظوم صورت میں پہلی بار 1936 میں منظر عام پر آیا۔ گیتا کے اب تک جتنے ترجمے ہوئے ہیں ،ان میں اس ترجمے یعنی نسیم عرفاں کا ایک اہم مقام ہے۔ یہ ترجمہ اصل موضوع سے قریب تر ہے۔ منور لکھنوی نے مشکل پسندی سے اجتناب کرتے ہوئے گیتا کے پیغام کو بہت سادہ اور سلیس انداز میں اردو قارئین تک پہنچایا ہے۔ شارب رودولوی نے منور لکھنوی کے اس ترجمے کو پڑھنے کے بعد اس کے متعلق جو فرمایا ہے اسے یہاں درج کر دینا بے جا نہ ہوگا:
’’یہ ترجمہ اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ مترجم نے ترجمہ کرتے وقت فصاحت و بلاغت کی ان اعلی قدروں کو نگاہ میں رکھا ہے جو کسی فنی و شعری تخلیق کو تاریخ ادب میں بلند مقام دیتی ہے۔‘‘ 1
رامائن بالمیکی: یہ مہرشی بالمیک کی لافانی سنسکرت تخلیق ہے، جسے ہندو مذہب میں ایک مقدس کتاب کا درجہ حاصل ہے۔ منور لکھنوی نے اس کتاب کا منثور ترجمہ کیا ہے، جسے سردار سنگھ سچدیو اینڈ سنز لاہور ناشران کتب نے 1931 میں شائع کیا۔اس ترجمے کی ابتدا سے پہلے منور لکھنوی نے مہرشی بالمیک کو ایک نظم کی صورت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کے دیباچے میں رامائن اور اس کے مصنف کے متعلق منور نے ضروری اطلاعات فراہم کی ہیں، جن سے قاری کو پس منظر سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی ہے۔یہ ترجمہ منور کے تمام مطبوعہ تراجم میں پہلا نثری ترجمہ ہے۔ منور لکھنوی نے دیباچے میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ ترجمہ آسان، سادہ، سلیس اور روزمرہ کی زبان میں کیا گیا ہے لیکن جب ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ دعویٰ پوری طرح سے درست نہیں ثابت ہوتا ہے البتہ ترجمے کی زبان با محاورہ ہے۔ اس ترجمے کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ انھوں نے ترجمے کے درمیان میں جگہ جگہ اشعار کا استعمال بھی کیا ہے بلکہ ہر نئے باب کا آغاز منور نے خود کے کسی شعر یا دیگر شعرا کے شعر سے کیا ہے، جن میں غالب کا نام قابل ذکر ہے۔ مجموعی طور پر ’’رامائن بالمیکی‘‘ کا یہ ترجمہ اردو ادب کے قارئین کی پسند اور دل چسپی کوبرقرارکھتا ہے۔ اس ترجمے کے ذریعے ہی سنسکرت زبان سے ناواقف اردو داں طبقہ ہندو مذہب کی اس اہم تخلیق سے واقف ہو سکا ہے۔
ترجمے کی فہرست میں منور لکھنوی کا کالی داس کے مشہورزمانہ ڈرامے ’’ابھگیان شکنتلا‘‘ کا ترجمہ بہت اہم ہے۔ یہ ترجمہ اصل متن سے بہت قریب ہے۔ ’’ابھگیان شکنتلا‘‘ کے اب تک جتنے تراجم ہوئے ہیں، ان سب سے یہ ترجمہ ذرا مختلف ہے۔ اس ترجمے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اصل متن کے مطابق جو حصہ منظوم شکل میں ہے، اس کا ترجمہ منظوم کیا گیا ہے اور جو حصہ منثور ہے وہ منثور رکھا گیا ہے۔ اس ترجمے کا آغاز منور لکھنوی نے 2 مئی 1962 کو دہلی میں کیا اور 18 جون 1963 کو بنارس میںیہ ترجمہ مکمل ہوا۔ اس کی اشاعت 1963 میں کوہ نور پریس، دہلی سے ہوئی ہے۔ مذکورہ ڈرامے کا یہ اردو ترجمہ اس وقت کے نائب صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب کی نظروں سے بھی گزرا اور اس پر انھوں نے اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ۔ خط کے ذریعے ترجمے پر کیے گئے ان کے اظہار خیال کا ایک اقتباس یہاں پیش کرنا ضروری ہے کیوں کہ اس چھوٹے سے اقتباس ہی سے ہمیں سنسکرت ادب کے اردو تراجم کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے، ساتھ ہی ’’ابھگیان شکنتلا‘‘کے اردو تراجم کی اہمیت وافادیت کا بھی علم ہو گا۔ وہ لکھتے ہیں:
’’سچ تو یہ ہے کہ آپ نے اپنے تراجم سے اردو کی بڑی خدمت کی ہے اور صرف ادبی خدمت نہیں کی ہے بلکہ ایک قابل قدر قومی خدمت بھی۔ افکار عالیہ اور جذبات لطیفہ کا جو خزانہ سنسکرت میں ہونے کی وجہ سے اردو پڑھنے والوں کی دسترس سے باہر ہے، اسے آپ نے ان تک پہنچا دیا۔ اور کس خوبی سے پہنچایا ہے۔ سب ترجمے میں نے پڑھے جن میں ابھگیان شکنتلا بھی ہے اور کہیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ ایک با کمال اردو شاعر کا کلام نہیں ہے۔ سنسکرت جانتا نہیں ہوں اس لیے مقابلہ تو نہیں کر سکا مگر ترجموں کی روانی کہتی ہے کہ اصل کا دامن ہاتھ سے چھوٹا نہیں ہے۔‘‘2
ذاکر حسین کی اس گراںقدرآراسے منور لکھنوی کے اس ترجمے کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، ساتھ ہی اس ترجمے کو ادبی دنیا میں خوب سراہا بھی گیا۔اس کتاب کے مطالعے کے دوران قاری بو جھل پن کا شکار نہیں ہوتا بلکہ وہ بہت روانی کے ساتھ پڑھتا اور کہانی کے ساتھ جڑتا چلا جاتا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ ترجمے کا اصل قصے سے قریب تر ہونا اور لفظوں کا انتخاب ہے، جس میں منور لکھنوی کوبہت مہارت حاصل تھی۔
مدراراکشس موسومہ سیاسی داؤ پیچ: یہ وشاکھا دت کا ڈراما ہے،جس کا اردو ترجمہ منور لکھنوی نے کیا ہے۔ اس پر تاریخ اشاعت درج نہیں ہے ۔اس کتاب کو انجمن ترقی اردو(ہند) علی گڑھ نے شائع کیا ہے۔ اس کا شمار تاریخی ڈرامے میں ہوتا ہے جو کہ تاریخی حقائق و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے۔منور لکھنوی اس ترجمے کو اصل متن سے قریب رکھنے میں بہت حدتک کامیاب ہیں۔ڈرامے کی ابتدا سے پہلے منور نے اس ڈرامے کا پس منظر درج کر دیا ہے تاکہ قارئین اس ڈرامے سے اچھی طرح لطف اندوز ہو سکیں۔ دوران ترجمہ منور لکھنوی نے اصل متن کے علاوہ اس ڈرامے کے ہندی اور انگریزی تراجم سے بھی خوب استفادہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے بعض تراجم کی طرح اس میں بھی نثری حصے کا منثور ترجمہ اور شعری حصے کا منظوم ترجمہ کیا ہے۔ترجمے کا منظوم حصہ زیادہ تر مقفیٰ ہے۔اس ترجمے کے ذریعے منور لکھنوی کے ساتھ ساتھ اس ڈرامے کے اصل مصنف وشاکھا دت کو بھی شہرت نصیب ہوئی اور اردو دنیا ان سے واقف ہو سکی۔
کمار سمبھو: یہ کالی داس کی ایک طویل نظم ہے۔ منور لکھنوی نے اس کا ترجمہ بڑی دلجمعی سے کیا ہے، جو 1952 میں شائع ہوا۔اس کا تعارف ’بام عرش‘ سے کے عنوان سے عرش ملسیانی نے لکھا ہے۔ اس کا مقدمہ ’فسانۂ آزاد‘ کے نام سے جگن ناتھ آزاد نے تحریر کیا ہے۔کمار سمبھو کے اصل متن میں کل 18 باب ہیں مگر منور لکھنوی کا یہ ترجمہ صرف سات ابواب پر مشتمل ہے یعنی شیو جی اور پاروتی کی شادی کے قصے تک کا بیان ملتا ہے۔ کالی داس کے اس شاہکار کا اردو ترجمہ کرنے والے منور لکھنوی پہلے مترجم ہیں، جنھوں نے اس کی اہمیت کو سمجھا اور اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔منور اس سے متعلق رقمطراز ہیں:
’’شاید قدرت ہی کو منظور تھا کہ سنسکرت زبان کے زندہ جاوید شاعر کالی داس کے شاہکار کمار سمبھو کا منظوم ترجمہ اردو میں میرے ذریعے پیش ہو۔مگر سالہا سال سے میری خود بھی یہ خواہش تھی کہ فردوس شاعری کے اس باغبان لافانی کی گلکاریوں کا مترنم عکس ادب اردو کے شیشے میں اتاروں یہ خواہش پوری ہو کر رہی اور ستمبر 1939 میں دوسری عالمگیر جنگ کے ساتھ کمار سمبھو کا یہ ترجمہ شروع ہو کر اسی جنگ کے خاتمہ کے ساتھ ہی ساتھ 1945 میں پورا ہو گیا۔‘‘3
یہ ترجمہ شائع ہونے سے قبل ہی اردو دنیا میں کافی شہرت پا چکا تھا۔اشاعت سے پہلے ہی اس کا کچھ حصہ الہ آباد سے نکلنے والے رسالہ ـــ’مانسروور‘ میں شائع ہو چکا تھا۔دیا نارائن نگم منور کے خاص رفیقوں میں تھے اور اس ترجمے کے شیدائی بھی تھے۔ انھوں نے اس ترجمے کا کچھ حصہ اپنے زیر نگرانی شائع ہونے والے رسالہ’ زمانہ‘ میں بھی شائع کیا تھا۔منور لکھنوی نے یہ ترجمہ کرتے وقت اصل خیال کو بکھرنے نہیں دیا ہے۔ یہ ترجمہ اتنی احتیاط اور چابکدستی سے کیا گیا ہے کہ کہیں بھی قاری اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا ہے۔ فراق گورکھپوری اس ترجمے پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ:
ــ’’حضرت منور کی قوت نظم کا سب کو قائل ہونا پڑے گا۔ یہ ترجمہ ایک مستقل تصنیف کی حیثیت رکھتا ہے۔ سنسکرت شاعری کی روح،اس کی فضا، اس کا نظریہ، اس کی وجدانیت اور رنگارنگ خوبیاں اس منظوم ترجمے میں اس طرح جھلک رہی ہیں جیسے صبح کے آئینہ خانے میں شبنمستاں جلوہ گر ہو۔‘‘4
لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ منور لکھنوی نے فن ترجمہ نگاری میں مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے اردو کے قارئین کے لیے اس شاہکار کو اور بھی دلکش بنا کر پیش کر دیا ہے۔
مالویکا گن متر: یہ کالی داس کا پہلا ڈراما ہے۔اس کا پہلا اردو ترجمہ کرنے کا شرف منور لکھنوی کو حاصل ہے۔اس کتاب کی اشاعت 1973 میں ہوئی۔اس ترجمے کو اتر پردیش اردو اکادمی نے انعام سے بھی نوازا ہے۔ اس ڈرامے میںرومانی فضا غالب ہے۔پلاٹ بھی سیدھا اور سپاٹ ہے۔منور لکھنوی نے نثری مکالمے کا ترجمہ نثر میں اور سنسکرت اشلوکوں کا ترجمہ پابند یا آزاد نظم کی شکل میں کیا ہے۔مجموعی طور پر ترجمہ لائق تحسین ہے۔
اودھوت کا ترانہ یعنی نغمہ قلندری: یہ شری شنکر اچاریہ کی سنسکرت تصنیف ’چرپٹ پنجر یک‘ کا ترجمہ ہے۔ یہ کتاب جون 1958 میں منظر عام پر آئی۔اس کی حیثیت ایک مذہبی صحیفے کی ہے۔ یہ ترجمہ منظوم ہے اور اس کی ہیئت ترجیع بندہے۔اس میں کل 81بند ہیں۔یہ ایک ایسی نظم ہے جو اس دنیاوی سفر کو ایک مایا جال قرار دیتی ہے۔منور لکھنوی کے اس ترجمے سے اردو کے قارئین بالخصوص وہ قارئین زیادہ محظوظ ہوں گے جن کو روحانیت میں دلچسپی ہے۔
درگا سپت شتی موسومہ درگا پاٹھ: یہ سنسکرت اشلوکوں پر مشتمل ایک طویل منظوم منقبت ہے۔ اس ترجمے کی ابتدا منور لکھنوی نے 1946 میں کی تھی۔ اس کتاب میں اصل موضوع سے پہلے انھوں نے ایک دعائیہ نظم’ وندنا‘ کے عنوان سے شامل کی ہے۔ یہ ترجمہ کیوں کہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے اس لیے روح پرور اور پر اثر ہے۔یہ نظم کل 13 ابواب پر مشتمل ہے۔ترجمہ نہایت صاف اور سلیس زبان میں ہے۔بحر کا انتخاب بھی موزوں اور مترنم ہے۔اس ترجمے کی بدولت سنسکرت ادب کے اردو تراجم میں ایک اہم اضافہ ہوا ہے۔
آریہ ابھِ ونے یا پرماتما کے دربار میں:یہ آریہ سماج کے بانی مہرشی سوامی دیا نند سرسوتی کی تصنیف ہے۔ اس منظوم ترجمے کی اشاعت 1968 میں ہوئی۔ اس ترجمے کو ہم خالص اردو ترجمہ نہیں کہہ سکتے ہیں کیوں کہ بعض جگہ منور لکھنوی نے اپنی بات بہتر ڈھنگ سے قارئین تک پہنچانے کے لیے یا اوزان و بحور کی پابندی کی وجہ سے ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کا استعمال کیا ہے،جن سے ترجمے کے حسن میں کمی آنے کے بجائے ترجمہ اور دلکش اور پر اثر ہو گیا ہے۔یہ ترجمہ مقفٰی ہے اور بہترین شاعری کی بہت سی خوبیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
اس کے علاوہ منور لکھنوی نے سنسکرت زبان کی متعدد کتابوں کو اردو کے قالب میں بہترین ڈھنگ سے ڈھالا ہے، جن میں ونے پترکا، روحانی مکالمہ، گجیندر موکش، رمبھا شک سمواد، وکرم اروشئم، مالتی مادھو، کند مالا یا سیتا بن باس، مفلسں کا عشق یا چارو دت وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
مندرجہ بالا سبھی تصانیف جن کے تراجم منور لکھنوی نے اردو میں کیے ہیں، سنسکرت ادب کا قیمتی سرمایہ تو ہیں ہی ساتھ ہی اردو زبان میں جو تراجم ہوئے ہیں، وہ بھی اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ان تراجم کی بدولت ہی اردو ادب کے وہ قارئین جو سنسکرت زبان سے نا واقف ہیں یا واقفیت رکھتے بھی ہیں تو اس حد تک نہیں کہ وہ سنسکرت ادب کو براہ راست پڑھ کرمحظوظ ومستفیض ہو سکیں۔ان کے لیے یہ تراجم کسی نعمت سے کم نہیں ہیں کیوں کہ وہ ان تراجم کی بدولت ہی سنسکرت زبان کے کلاسیکی متون اور ہندو مذہب کے مقدس صحیفوں سے آشنائی حاصل کر سکتے ہیں۔
حوالے:
1۔ راز،راج نرائن ،منور لکھنوی شخصیت اور شاعری، 1970، ص219
2۔ منور لکھنوی ،ابھگیان شکنتلا، کوہ نور پریس، دہلی، 1963، ص 4-3
3۔ منور لکھنوی،کمار سمبھو، ناشرانجمن ترقی اردو بک ڈپو، اردوبازار،دہلی، 1952، ص 20
4۔ ایضاً،ص7
Muhmmad Asajad
Research Scholar
Centre for Indian Langaueges
Jawaharlal Nehru University
New Delhi-110067
Mob. 7897666694
Email: ma6364635@gmail.com