اردو دنیا، ستمبر 2026:
انگریزی زبان میں عام طور پر ا ستعمال ہونے والی اصطلاح فلم کے لیے ایک اور لفظ سنیما کا استعمال بھی ہوتا ہے۔ عام طور پر کسی پردہ پر جب تصویریں متحرک حیثیت سے کام کرنے لگیں اور ان تصویروں کے ساتھ آوازوں کو بھی شامل کرلیاجائے تو ایسی متحرک تصویریں بولتی اور چلتی پھرتی زندگی کی موثر نمائندگی کرنے لگتی ہیں، جسے فلم یا سنیما کہا جاتاہے۔عام زبان میں بولتی اور چلتی پھرتی تصویروں کو فلم کہنے کا طریقہ رائج ہے۔ کیمرے کی ایجاد نے انسان کی تصویر اتارنے کے فن کو آسان کردیا ۔دنیا میں موجودات کی ہر حرکت اور ہر منظر کو تصویر کے ذریعے نمایاں کرنا، کیمرہ کی وجہ سے بہت آسان ہوگیا ہے جسے بلاشبہ کیمرے کی کارستانی قرار دیا جائے گا۔ دنیا میں ایجاد ہونے والے کیمرے آنِ واحدمیں ادا ہونے والی حرکت کو تصویر میں قیدکرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ کسی زمانے میںچلنے پھرنے کے عمل کو کیمرے کے ذریعہ دکھانا سخت دشوار تھا۔جب فلمی کیمرہ کی ایجاد ہوئی تو ہر قسم کی چلتی پھرتی تصویر کو کیمرے میں قید کرلینا اور اسے دوبارہ دکھانا آسان ہوگیا۔دنیا کی تہذیب اور ثقافت میں اہم تبدیلی اس وقت محسوس کی گئی جب کہ فلمی کیمرے کے ذریعے ڈاکیومینٹری فلم بنائی گئی۔ 28 ڈسمبر 1885 کو پیرس کے مقام پر گرانڈ کیفے کی نچلی منزل میں لومیری برادران نے انتہائی عجیب و غریب فوٹو گرافی کا تجربہ کیا۔ جس میں ساکن تصویروں کو متحرک بتایا گیا تھا۔ اسی دور سے یورپی دنیا میں متحرک تصویروں یعنی فلم کا آغاز ہوا۔ ان فلموں میں صرف تصویریں متحرک ہوتی تھیں، لیکن تصویروں کے ساتھ آواز یا گفتگو کو پیش کرنا ممکن نہ تھا۔ اس قسم کی فلموں کو خاموش فلم Silent Picture کا نام دیا گیا۔ اس زمانے میں لفظ پکچر کا استعمال بھی تصویروں کے لیے ہوتا تھا۔ یورپی ممالک جیسے جرمنی، پیرس، انگلینڈ اور امریکہ میں سب سے پہلے خاموش فلموں کا رواج ہوا۔ یہ فلمیں چونکہ یورپی زبانوں میں بنائی جاتی تھیں، اس لیے انھیں دیکھ کر لطف اندوز ہونا ہندوستانیوں کے لیے ممکن نہیں تھا۔ ہندوستان کے بڑے شہروں میں یورپی فلمیں دکھائی جاتی تھیں، جنھیں انگریز قوم بڑے شوق سے دیکھا کرتی تھی۔ ہندوستانی قومیں چونکہ یورپی زبانوں سے نابلد تھیں۔ اس لیے ان کے دل میں یہ جذبہ فروغ پانے لگا کہ کیوں نہ خاموش فلموں کو ہندوستانی زبانوں میں پیش کرنے کا تجربہ کیا جائے۔ ہندوستان جیسے وسیع اور عریض ملک میں کئی اہم شہر موجود تھے جہاں تجارت، ادب، صحافت، تہذیب اور مذہب کے فروغ کے کام انجام دیے جارہے تھے۔ یہ وہی دور تھا جب کہ سارے ملک پر انگریزوں کا قبضہ تھا اور کوئی بھی شہر کسی بھی ریاست کی نمائندگی نہیں کرتا تھا۔ انگریزوں کے زمانے سے ہی ممبئی شہر کو تجارتی مرکز اور ایک اچھی سمندری بندرگاہ کا مقام حاصل تھا۔ جو انگریزوں کے قبضہ میں رہنے کی وجہ سے ممبئی پروینس کے نام سے مشہور تھا۔ اسی شہر ممبئی سے تعلق رکھنے والے شخص دادا صاحب پھالکے نے جرمنی سے فلم کی تکنیک سیکھی اور ہندوستان لوٹنے کے بعد انھوں نے ناسک کے مقام پر فلم اسٹوڈیو کی بنیاد رکھی۔اسی دور میں کولہا پور کے دو بھائی بابو راؤ پینٹر اور آنند راؤ پینٹر نے انگریزی خاموش فلموں سے تحریک حاصل کرکے ایک مووی (متحرک )کیمرہ بنانے میں کامیابی حاصل کی اور اس کیمرے سے انھوں نے کانگریس کے سالانہ اجلاس کی ایک ڈاکیومینٹری تیار کی‘ جسے انھوں نے اپنے قوم کے نام منسوب کردیا۔ ان دونوں بھائیوں نے ذاتی خرچہ سے یورپی فلم خریدی اور اسے ڈاکیومینٹری میں تبدیل کر دیا ۔ یہ کارنامہ سب سے پہلے بمبئی جیسے علاقے میں پیش آیا۔ جس کے سارے علاقہ پر انگریزوں کا تصرف اور تسلط تھا۔ جہاں سب سے پہلے انگریزی ایجادات کا استعمال ہوتا تھا۔ آزادی کے بعد اس سارے علاقے کو ریاست مہاراشٹرا قرار دیا گیا۔ اس طرح ہندوستان میں سب سے پہلے فلم ریل اور اس کے استعمال سے ڈاکیومینٹری کی تیاری اور بعد میں خاموش فلمیں بنانے کا آغاز مہاراشٹرا کے علاقے سے ہوا۔ اسی مہاراشٹرا میں سب سے پہلے 1912 تک غیر ملکی خاموش فلموں کی نمائش ہوتی رہی۔ فلم بنانے اور اس کو ہندوستانی انداز سے پیش کرنے کا سب سے پہلا تجربہ سنسکرت کے مشہور عالم دادا صاحب پھالکے نے انجام دیا۔ انھیں فلم بنانے کا شوق ہی نہیں تھا بلکہ مصوری، موسیقی اور اداکاری سے بھی کافی دلچسپی تھی۔ چنانچہ انھوں نے 1912 میں 21اشرفیوں کو فروخت کرکے ایک فلمی کیمرہ خریدا اور فلم بنانے کے لیے فائی نانسرسے رابطہ قائم کیا۔ جب یہ تمام چیزیں انھیں حاصل ہوگئیں تو انھو ں نے ہندوستان کی پہلی خاموش فلم ’’راجہ ہریش چندر‘‘ بنانے کا اعلان کیا۔ جس کے پروڈیوسر اور ڈائرکٹر خود دادا صاحب پھالکے تھے اور اس فلم کے مرکزی کردار کی حیثیت سے ڈی ڈی دابکے اور فلم کی واحد خاتون اداکارہ منداکنی تھی جو دادا صاحب پھالکے کی بیٹی تھی۔ یہ فلم 3700فٹ لمبی تھی اور اس کی نمائش کا آغاز بمبئی کے کارونیشن تھیٹر میں 1913 میں ہوا۔ اس طرح دادا صاحب پھالکے ہندوستان کے پہلے خاموش فلم کے موجد قرار پائے، جنھوں نے 1913 میں پہلی ہندوستانی خاموش فلم ’’راجہ ہریش چندر ‘‘پیش کرکے ہندوستانی فلموں کی تاریخ میں خاموش فلم کی بنیاد رکھی۔بمبئی کو فلمی شہر کا مقام حاصل ہوگیا اور 1913 سے لے کر 20 برسوں تک اس ملک میں خاموش فلمیں بنتی رہیں۔ ان ابتدائی 20سالوں کے درمیان تقریباً200 خاموش فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔اس دور میں فلموں کی سچویشن کے مطابق سازندے الگ الگ موسیقی دیا کرتے تھے اور ہر منظر کے لیے ایک شخص کھڑا ہوکر فلم کی کہانی سنایا کرتا تھا۔ دادا صاحب پھالکے کی زیادہ تر بنائی ہوئی فلمیں دھارمک انداز کی تھیں، جو مکمل طور پر خاموش فلموں میں شمار کی جاتی تھیں، کیونکہ ان کے ساتھ آواز اور مکالمے پیش کرنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔
فلم کے شائقین 1930 تک خاموش فلمیں دیکھتے دیکھتے اکتاہٹ کا شکار ہوگئے کیونکہ ہر وقت دھارمک فلم میں موجود یکسانیت انھیں تکلیف دہ محسوس ہونے لگی۔ اس یکسانیت کا خاتمہ اس انداز سے ہوا کہ 1931 میں پہلی متکلم فلم ’’عالم آرا ‘‘پیش کی گئی جس میں تصاویر کے ساتھ آواز بھی شامل تھی۔ اس فلم کے مرکزی کردار کی حیثیت سے ماسٹر وٹھل اور مس رانی زبیدہ نے کردار نبھایا تھا۔فلم کے پروڈیوسر آردسیر ایرانی نے اس فلم میں گیتوں کو بھی شامل کیا تھا۔ گیتوں میں مردانی آواز ڈبلیو ایم خان اور زنانی آواز رانی زبیدہ نے دی تھی۔ ہندوستان میں پہلی بولتی فلم ’’عالم آرا‘‘14مارچ 1931کو ریلیز ہوئی، جس میں سنگیت شامل تھے۔ اس زمانے میں فلم کی تکمیل پر 40000روپے کا خرچہ آیا تھا اور یہ فلم 10500 فٹ طویل تھی۔’’عالم آرا ‘‘کی پیش کش کے دوران اسی سال یعنی1931 میں دادا صاحب پھالکے کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلم سازوں نے 22متکلم فلمیں نمائش کے لیے پیش کیں۔ 1933 کا سال ختم ہونے تک بولتی فلموں کی تعداد 75 تک پہنچ گئی۔ اس طرح بولتی فلمیں بنانے کی رفتار میں تیزی آنے لگی۔ 1939 تک 171 متکلم فلمیں نمائش کے لیے منظر عام پر آگئیں۔ غرض 1931 کی تاریخ کو ہندوستانی سنیما میں اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ اسی سال سے آہستہ آہستہ خاموش فلموں کا دور ختم ہوا اور متکلم فلموں کے دور کا آغازہوا۔ہندوستانی فلموں میں آردسیر ایرانی کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ وہ پہلے فلم ساز ہیں جنھوں نے گونگے کرداروں کو زبان عطا کی۔اس طرح سنیما کو عوامی رابطے کا موقف حاصل ہوگیا۔اب فلمیں متحرک تصویروں کے ساتھ ساتھ آواز یعنی گفتگو کو بھی پیش کرنے کا ذریعہ بن گئیں۔ اس طرح ہندوستانی فلموں پر خاموشی کے سائے ختم ہوئے اور بولتی فلموں کا ایک ایسا طویل سلسلہ شروع ہوا کہ جس سے عوام کی دلچسپیاں بھی بڑھتی گئیں۔ اس دور تک فلمیں بنانے کے لیے ایک ہی رنگ اختیار کیا جاتا تھا جسے ’’بلیک اینڈ وائٹ فلم‘‘ کا درجہ حاصل تھا۔ اس دور میں رنگین تصویروں کے ذریعے متحرک فلم بنانا ہر حال میں دن میں خواب دیکھنے کے مترادف تھا۔ اس دور تک یورپی دنیا میں بھی بلیک اینڈ وائٹ فلم رائج تھے اور رنگین فلم کا کوئی تصور ہی نہیں تھا ۔ ساری دنیا میں موجود انسان شوق کی تکمیل کے لیے فلم کی نمائش کے دوران صرف اور صرف بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کے ذریعے لطف اندوز ہوتے تھے۔ سب سے پہلے بلیک اینڈ وائٹ فلم کے بجائے ٹیکنی کلر فلم کی بنیاد پڑی۔ اس سے قبل جو فلمیں ایک ہی رنگ میں دکھائی جانے لگی تھیں‘ انھیں گیوا کلر کا نام دیا گیا تھا۔ ہندوستان میں پہلی گیوا کلر کی فلم ’’شاہجہاں ‘‘ کے نام سے بنائی گئی۔جس کے بعد ملک کی پہلی ٹیکنی کلر فلم ’’آن‘‘ بنائی گئی، جسے کافی شہرت حاصل ہوئی۔ ہندوستان کی پہلی فلم جس کا پریمیر شو غیر ممالک میں ہوا اور ساری دنیا میں اس کی نمائش ہوئی ۔اس فلم کا نام ’’لائٹ آف ایشیا‘‘ تھا ۔جسے ہمانشو رائے نے بنایا تھا۔ ہندوستانی فلمو ںمیں سب سے پہلے کسی ایک کردار کے ڈبل رول کی پیش کشی کو ساہومورک نے اپنی فلم ’’آوارہ شہزادہ‘‘ میں پیش کیا۔گرودت نے سب سے پہلے سنیما اسکوپ فلم ’’کاغذ کے پھول‘‘ تیار کی ۔’’آوارہ شہزادہ‘‘1933 میں تیار کی گئی۔ 1934 میں پہلی بار موسیقار آرسی یورانی نے فلم ’’چندی داس‘‘تیار کی، جس میں پہلی مرتبہ بیک گرائونڈ موسیقی دی گئی تھی۔اسی سال یعنی 1934 میں پلے بیک گلوکاری کا چلن عام ہوا۔جس کی نمائندگی فلم ’’دھوپ چھاؤں‘‘سے ہوتی ہے۔ اس طرح جب پہلی بولتی فلم 1931 میں شروع ہوئی اور صرف 4سال کے دوران فلمی دنیا میںکئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جس کی وجہ سے فلم کی تکنیک میں بھی تبدیلی لائی گئی۔اس دور میں فلم دیکھنے والوں کی دلچسپی میں بھی اضـافہ ہوتا گیا ۔ ہندوستان کی آزادی سے پہلے ہی بولتی فلموں کے ساتھ ساتھ کئی قسم کے رنگوں کی نمائندگی کرنے والی فلموں کا آغاز ہوچکا تھا۔
فلم کی دنیا کے فروغ میں دو اہم وسیلوںکی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سب سے پہلے فلم کی تیاری کے لیے اسٹوڈیو کو بنیادی ضرورت کا درجہ حاصل ہے ۔ اداکاروں، موسیقی اور مناظر کے علاوہ ہدایت کاری سے مالامال فلم کو جب تک شائقین کے روبرو پیش نہ کیا جائے، فلم کی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ اس طرح فلم دیکھنے کے لیے تھیٹر یا سنیما گھر بھی ضروری ہے۔ ہندوستانی فلموں کی تیاری کے لیے ممبئی کو مرکزی مقام کادرجہ حاصل ہوگیا ۔جہاں کئی فلم سازوں کے اسٹوڈیو قائم ہوگئے۔ ممبئی کے بعد مدراس اور کولکاتہ کے علاوہ حیدرآباد میں بھی اسٹوڈیو قائم کرنے کا سلسلہ چل پڑا۔ غرض ہندوستان میں پیش ہونے والی بیشترفلموں کا تعلق اسٹوڈیو شوٹنگ سے تھا۔یعنی تمام تر فلمیں اسٹوڈیو کے اندر ہی فلمائی جاتی تھیں ۔اسٹوڈیو کے باہر کے مناظر کی شوٹنگ کو ہندوستان کی ابتدائی فلموں میں کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی۔لیکن رفتہ رفتہ فلمی دنیا میں آوٹ ڈور شوٹنگ کا رواج عام ہونے لگا۔خوبصورت مناظر اور قدرت کی فیاضی کو فلموں میں دکھانے کے لیے ابتدائی طور پر ملک کے اہم مقامات پر فلم کی شوٹنگ کے یونٹ قائم ہونے لگے۔فلم سازوں کی ابتدائی نظر کشمیر کی وادیوں اور اس کے نظاروں کی جانب مرکوز ہوئی۔ جس کے بعد اوٹی، شملہ اور ملک کے دوسرے اہم مقامات کے تاریخی آثار سے استفادہ کرتے ہوئے ان مقامات پر فلموں کی شوٹنگ کو رواج دیا جانے لگا۔ اس طرح اسٹوڈیو کے باہر بھی فلمی شوٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ جسے آوٹ ڈور شوٹنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ ہندوستانی فلموں میں ابتدائی طور پر اپنے ملک کے مناظر کو ہی آوٹ ڈور شوٹنگ میں شامل کیا گیا۔ لیکن بڑھتی ہوئی ترقی اور شائقین کی دلچسپی کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے فلم سازوں نے بیرونی ممالک کے اہم مقامات پر فلمی شوٹنگ کی طرف خصوصی توجہ دی۔ چنانچہ پیرس، لندن، سنگاپور، ٹوکیو، سوئٹزرلینڈ اور دوسرے کئی اہم عالمی اعتبار سے تفریحی مقامات پر فلم یونٹ لے جا کر فلم سازوں نے آوٹ ڈور شوٹنگ کے بین الاقوامی تصور کو عام کیا ۔ ملک کے اندرونی مناظر کی شوٹنگ کی نمائندگی کرنے والی فلموں میں ’’کشمیر کی کلی‘‘اور’’ ایک مسافر، ایک حسینہ‘‘ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بیرونی ممالک کی شوٹنگ کو نمائندگی دینے والی فلموں میں ’’لوان ٹوکیو‘‘اور ’’ان ایوننگ ان پیرس‘‘ شامل ہیں جن میں شامل مناظربڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس طرح فلموں میں انڈور شوٹنگ یعنی اسٹوڈیو کے اندر کے مناظر کے علاوہ آوٹ ڈور شوٹنگ یعنی ہندوستان کے بیرونی مقامات کے مناظر اور اس کے علاوہ دنیا کے مشہور مقامات کے مناظر کو بھی فلمی دنیا میں اہم مقام حاصل ہوگیا۔ غرض فلم سازوں نے فلم بنانے کے لیے اسٹوڈیو کی مختصر دنیا کے حدود سے اپنے آپ کو نکال کر عالمی سطح پر موجود مشہور مقامات پر شوٹنگ کے مناظر فلماکر فلمی دنیا کی وسعت کو نمایاں کیا۔اس طرح ہندوستانی فلمیں اسٹوڈیو کی تاریکی سے باہر نکل کر آوٹ ڈور شوٹنگ کی وسعتوں کو قابو میں کرنے میں کامیاب ہوگئیں ۔جس سے شائقین کی دلچسپیوں میں اضافہ ہوا۔
ہندوستان میں بنائی جانے والی ابتدائی فلموں کی مجبوری یہ تھی کہ 1931 کے بعد تک بھی فلمی دنیا پر ’’دھارمک فلموں‘‘ کا غلبہ رہا۔ فلم کی کہانی میں دیوؤں اور دیوتاؤںکے کردار اور انہونے واقعات کے ذریعے خدا اور خدائی عظمت کو ثابت کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا اور اسے کہانی کے روپ میں فلموںکے ذریعے پیش کیا گیا۔ اسے دھارمک فلم کا نام دیا گیا۔ ہندوستانی سماج میں ترقیات سے قبل داستانوی دور کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ جن میں جادو ٹونے کے علاوہ جن، پری اور راکشس کے ذریعہ کہانی میں ندرت پیدا کی جاتی تھی۔ اسی کا اثر ابتدائی فلموں پر غالب رہا۔ہندو مذہب کے تحت سادھوئوں‘رشیوں اور ان کے اعتقادات کی روشنی میں جو فلمیں بنائی گئیں وہی، دھارمک فلم کے نام سے مشہور ہوئیں۔ہندوستانی فلموں پر اپنے ابتدائی 10سال تک دھارمک فلموں کا غلبہ رہا۔ایسی فلمیں دیکھ کر شائقین اکتاہٹ کا شکار ہونے لگے۔ فلمی دنیا سے دلچسپی رکھنے والوں کی اکتاہٹ کو ختم کرنے کے لیے ہندوستانی فلم سازوں نے ’’نیم تاریخی فلموں‘‘کی طرف توجہ دی۔ ایسی فلمیں جن میں فلم ساز تاریخ سے کسی واقعے کو منتخب کرکے اس میں خیالی قصے کہانی کی بنیادوں کو کام میں لایا جاتا رہا۔ جس کی وجہ سے کسی تاریخی واقعہ کی صداقت افسانوی قصے میں گم ہوجاتی تھی اور اس کا تعلق تاریخ سے باقی نہیں رہتا تھا بلکہ خیالی کہانی توجہ کا مرکز بن جاتی تھی۔ ایسی فلمیں جب بنائی جانے لگیں تو ان میں کسی حد تک تاریخ کے جزو کو شامل رکھا جاتا تھا۔تاہم سارا قصہ خیالی طور پرمن گڑھت انداز کی نمائندگی تھا۔ اس لیے ایسی فلموں کو ’’نیم تاریخی فلموں‘‘ کا نام دیا گیا۔ ہندوستانی فلموں میں ’’جہانگیر‘‘ اور ’’شاہجہاں‘‘ جیسی فلموں کے ذریعے نیم تاریخی فلموں کا آغاز ہوا، جس کا سلسلہ فلم ’’انار کلی‘‘اور ’’ مغل ِ آعظم‘‘ سے ہوتے ہوئے ’’نور جہاں ‘‘ تک دراز ہوتا چلاجاتا ہے۔اس قسم کی بے شمار فلمیں ہندوستان کے پردہ ِ اسکرین پر دکھائی گئیں‘ جنھیں شائقین نے حد درجہ پسند کیا ۔اس طرح ہندوستانی فلمی دنیا پر پہلے ’’دھارمک فلمیں‘‘ اور پھر اس کے بعد ’’نیم تاریخی فلموں‘‘ کا تسلط قائم رہا۔ہندوستانی فلم کی صنعت میں فلم سازوں نے ایسی فلمیں بنا کر شائقین کے دل موہ لینے کا کارنامہ انجام دیا۔
فلم کے موضوعات میں وقت کے لحاظ سے تبدیلیاں بھی آتی گئیں۔ فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں نے ایک ہی قسم کے موضوعات پر فلم بنانے سے گریز برتتے ہوئے نئے نئے موضوعات پر فلمیں بنانے کی طرف توجہ دی ۔ ابھی تک فلمی دنیا میں دھارمک اور نیم تاریخی موضوعات پر فلم بنانے کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن فلم سازوں نے محسوس کیا کہ حب الوطنی اور گھر گھرہستی کے مسائل کی طرف بھی توجہ دی جانی چاہیے۔جس کی وجہ سے ’’سن آف انڈیا‘‘ کے علاوہ ’’مدر انڈیا‘‘ جیسی فلمیں وجود میں آئیں۔ ’’میں سہاگن ہوں‘‘، ’’دادی ماں‘‘، ’’پھاگن‘‘ اور ’’خاندان‘‘ جیسی فلموں میں بھی گھر گھرہستی کے مسائل کی بھر پور نمائندگی موجود ہے۔انیسویں صدی کی پانچویںدہائی تک ہندو ستانی فلموں میں چار موضوعات کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ جن میں دھارمک فلم ‘ نیم تاریخی فلم، پیٹریاٹک فلم اور گھر گھرہستی کے موضوعات سے وابستہ فلموں کو عروج حاصل ہوا۔ اسی زمانے میں فلمی دنیا کے ذریعہ ایک نئے انداز کا آغاز ہوا جسے ’’مار دھاڑ ‘‘ کی فلم کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔’’استادوں کے استاد‘‘ اور ’’ہم سب استاد ہیں‘‘ سے لے کر فلم ’’راکا‘‘ کے شائقین نے یہ بھی دیکھا کہ ماردھاڑ کی فلموں کو ایک اہم موضوع کی حیثیت سے فلمی دنیامیں مقام حاصل ہونے لگا ۔ہندوستان کے فلم سازوں نے تفریحی فلموں کی بنیاد بھی رکھی۔ فلم سازوں نے ہندوستان کی کئی زبانوں میں فلمیں بنائیں۔ ان تمام فلموں میں عورت اور مرد کی محبت کے قصے کو بڑی اہمیت حاصل ہوئی۔ مرد و عورت کے مثالی عشق کو فلموں میں شامل کیا جانے لگا۔ ایسی فلمیں ہندوستان کی ’’رومانی فلموں‘‘ کی حیثیت سے مقبول ہونے لگیں۔ ایسی فلموں میں ’’شیریں فرہاد ‘‘ اور ’’لیلیٰ مجنوں‘‘ سے لے کر فلم ’’دو بدن‘‘ تک بیشتر پیش ہونے والی ہندوستانی فلموں میں رومانیت کا اثر غالب رہا۔ اس طرح ہندوستانی فلموں میں رومانی فلم کو بھی ایک اہم موضوع کا درجہ حاصل ہے۔ جرائم اور جاسوسی کو بنیاد بناکر کئی فلمیں تیار کی گئیں ۔’’جیول تھیف‘‘ اور ’’وکٹوریہ نمبر 300‘‘ اور ’’لومیریج ‘‘جیسی فلموں کا شمار جرائم اور جاسوسی کی فلموں میں ہوتا ہے۔ ہندوستان کے فلم سازوںنے فلم بینوں کی دلچسپی کے لیے صرف فلمی موضوعات پر ہی توجہ نہیں دی بلکہ فلمی دنیا میں ناچ گانے، موسیقی، مکالمے اور مناظر کی ہمہ جہتی کو نمایاں کرکے فلم کی شان میں اضافہ کیا ۔فلمی گیتوں کی موسیقی کے علاوہ بیک گراؤنڈ موسیقی کے ذریعے عمدہ تاثرات کی موثرنمائندگی پر توجہ دی گئی۔اس طرح ہندوستانی فلمی دنیا کو اہم موضوعات سے وابستہ کرکے فلم سازوں نے دلچسپی کا سامان فراہم کیا۔ ہندوستانی فلمی دنیامیں اگرچہ کئی موڑ آئے لیکن ’’شعلے‘‘ فلم بننے کے بعد انڈر ورلڈ کی سرگرمیوں اور سیاسی لیڈروں کی بے ضابطگیوں کے علاوہ رشوت ستانی، بلیک میلنگ اور غنڈہ عناصر کی سرگرمیوں کو بھی فلمی موضوعات میں شامل کیا گیا۔ اس طرح ہندوستانی فلموں کے ذریعے کئی موضوعات کی نشاندہی ہوتی رہی۔ فلمی دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت ایسی فلموں کو حاصل ہے جو ’’آرٹ فلم‘‘ کہلاتی ہے۔ہر دور میں کسی نہ کسی فلم ساز نے آرٹ فلم کی نمائندگی کی طرف توجہ دی۔ فلم’’ کاغذ کی ناؤ‘‘ سے لے کر ’’تارے زمین پر‘‘ جیسی پیش کردہ فلموں کو ہندوستان کی آرٹ فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس طرح اپنے آغاز سے لے کر 100 سال کی مدت کے خاتمے کے دوران ہندوستانی فلم سازی کئی اہم موضوعات پر فلم بنانے کے تجربے سے آراستہ ہوئی۔ ان کے بنائے ہوئے فلم نہ صرف یادگار کا درجہ رکھتے ہیں بلکہ انھیں ملکی اور عالمی سطح کے اہم ایوارڈ بھی حاصل ہوچکے ہیں۔ جس سے ہندوستانی فلموں کی اہمیت اور ترقی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہندی فلموں کے علاوہ پنجابی، مراٹھی، تلگو، کنڑی، بنگالی اور گجراتی جیسی زبانوں میں ہندوستانی فلمیں پیش کی گئیں۔ ہر ریاست کی علاحدہ علاحدہ زبانوں میں فلمیں بنانے کے باوجود بھی سارے ہندوستان میں ہندی فلموں کا غلبہ رہا۔ ہندی کے نام پر بنائی جانے والی بیشتر فلموں کی زبان اردو ہوتی ہے، جسے عوام پسند کرتے ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے ایسی فلموں کو بھی ہندی کا سرٹیفیکٹ دیا جاتا ہے۔ مکمل اردو کی نمائندگی کرنے والی فلمیں جیسے ’’مغل ِ آعظم‘‘، ’’تاج محل‘‘، ’’صاحب بی بی اور غلام‘‘، ’’ میرے محبوب‘‘ اور ایسی ہی بیشمار فلمیں جن کا تمام تر ماحول اردو تہذیب سے وابستہ ہے، لیکن حکومت نے ایسی فلموں کو بھی ہندی سرٹیفیکٹ دے کر ہندی زبان کی اہمیت اور اردو زبان سے سوتیلے سلوک کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ان تمام شہادتوں کے باوجود ہندوستانی فلموں میں مکالمے، گیت اور موسیقی کے علاوہ ان کی پیش کش کے انداز پر اردو تہذیب کا غلبہ ہے۔عصر حاضر میں گینگ وار اور انسانی زندگیوں کی بے اعتدالیوں کو بنیاد بنا کر فلم ساز ی کی جارہی ہے، جس کی وجہ سے ہندوستانی فلم بھی مکمل طور پر یورپی فلموں سے نظر یں ملا کر فروغ پانے کی علمبردار قرار پارہی ہیں اور ان فلموں سے شائقین کے ذوق میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ٹی وی کلچر کی وجہ سے فلموں پر برا اثر پڑا ہے۔ بیشتر سنیما گھر بند ہوئے اور گھر میں ٹی وی کے ذریعے فلمیں دیکھنے کا چلن عام ہونے کی وجہ سے فلموں کو تھیٹر کے پردے پر دیکھنے کے شائقین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔جسے فلمی دنیا کے بڑے پردے پر پیش ہونے کی رکاوٹ سے تعبیر کیا جائے گا۔
Prof. Majeed Bedar
(Retd.) Professor Department of Urdu
University College of Osmania University
Add.: H. No. 9-4-135, Raghava Colony Hyderabad-500008
Mob.: 9441697072
Email: majeedbedar@gmail.com