اردو دنیا، ستمبر 2026:
ہندستانی سنیما اور داستانوں کے مابین ایک گہرا رشتہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنیما میں علاقائی، روایتی، دیومالائی اور اساطیری داستانوں کی خصوصی پیش کش دیکھنے کو ملتی ہے۔ سنیما، روایتی کہانیوں اور کرداروں کو وسیع سامعین تک پہنچانے، انھیں تصویری شکل میں محفوظ کرنے اور ان کی باز تخلیق کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر تاہے۔ دراصل عوامی دلچسپی کے پیش نظر اکثر تھیم، کرداراور پیش کش کے لیے مذہبی داستانوں اور لوک کہانیوں کو فلموں میں خصوصی جگہ دی جاتی رہی ہے۔ لوک داستانیں عام طور پر سنیما کے لیے تحریک کا کام کرتی ہیں۔ایسی فلموں میں تہذیب و ثقافت کی موثر پیش کش ہوتی ہے،جس سے سامعین کے ساتھ ایک گہرا ربط قائم ہوتا ہے۔ سنیما کے آغاز سے ہی مذہبی اساطیر ، لوک داستانوں اور ہندو دیو مالائی کہانیوں پر مبنی فلمیں، کثرت سے پردۂ سیمیں کی زینت بنتی رہی ہیں۔ مثلاً دادا صاحب پھالکے کی راجا ہریش چندر (1913)، موہنی بھسما سور (1913)، ستیہ وان ساوتری (1914)، لنکا دہن (1917)اور شری کرشن جنم (1918)، رگھوپتی سوریہ پرکاش کی بھیشم پرتگیا (1921)، جمشید جی فرام جی مدن کی ستیہ وادی راجا ہریش چندر(1917)، وی، شانتا رام کی گوپال کرشن (1929) وغیرہ خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ متکلم فلموں کے دور میں بھی ہندو مائیتھالوجی پر متعدد فلمیں بنائی گئیں۔ جیسے ہومی واڈیا کی سمپورن رامائن (1961)، اے، اے، ناڈیا والا کی مہابھارت (1965)، چتراپو نارائن راؤ کی بھکت پرہلاد (1967)، کمالاکر اکامیشور راؤ کی شری رام بنواس (1977)، اُوپندر جھاکی کرشنا،کرشنا (1986)، دلیپ کنی کاریا کی لَو کُش (1997)، انوراگ کشیپ کی اینی میٹیڈ فلم ریٹرن آف ہنومان (2007)، منی رتنم کی راون (2010) وغیرہ۔
ہندستانی سنیما میں دیومالائی و اساطیری داستانوں سے اخلاقیات،حسنِ سلوک، فرض کی ادائیگی ،غیبی قوت، کائنات کی تخلیق، مقدس شخصیات اور اعتقاد و توہمات جیسے موضوعات کے لیے زرخیز زمین فراہم ہوتی ہے۔ سنیما میں رامائن، مہابھارت اور دیگر دیوی دیوتاؤں پر مبنی لوک داستانوں کو انتہائی دلچسپ انداز میں فلمایا گیا ہے ۔ حالیہ برسوں میں بھی، ہندو مائیتھالوجی یا لوک داستانوں سے لوگوں کی دلچسپی بڑھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی فلموں میں ثقافتی ورثے کو موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جیسے سی، اشونی دت کی فلم کلکی (2024)، اوم راؤت کی ’آدی پروش ‘(2023)، ایان مکھرجی کی’ برہما شتر‘ (2022)، پُشکر گائتری کی فلم ’وکرم ویدھا‘ (2022) اور ایس، ایس، راجامولی کی فلم ’باہوبلی‘ (2015)وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوک داستانوں پر مبنی فلمیں،ماضی اور حال کے درمیان ایک پُل کا کام کرتی ہیں، سامعین کو ان کی ثقافتی جڑوں سے جوڑتی ہیں اور انھیں تخلیقی صلاحیتوں اور اظہار کے نئے افق کی طرف مائل کرتی ہیں۔ اس باہمی رشتے میں، لوک داستان اور سنیما کے مابین ایک ایسی داستانی فضا قائم ہوتی ہے، جس میں ہند و ستانیت کا گہرا عکس نظر آتا ہے ۔
اردو داستانوں اور ہندستانی سنیما میں بھی گہرا ربط رہا ہے۔ اردو میں زیا دہ تر داستانیں فارسی اور عربی زبان سے ترجمہ شدہ ہیں۔کچھ داستانیں سنسکرت سے برج بھاشا میں آئیں اور پھر ان کا اردو میں ترجمہ ہوا۔ ہندستانی سنیما کی ابتدا سے ہی اردو میں مروجہ داستانوں پر مبنی فلمیں بننے لگی تھیں اور یہ سلسلہ خاموش دور سے متکلم دور تک قائم رہا ہے۔ایسی فلموں میں لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، چہار درویش ،علی بابا اور چالیس چور، علاء الدین کا چراغ، حاتم طائی، گل بکاؤلی، گل صنوبر، بیتال پچیسی،ہیر رانجھا ، سوہنی مہیوال، حاتم طائی، رستم و سہراب، الف لیلیٰ اور وامق عذرا وغیرہ کے نام اہم ہیں۔
فلم چار درویش، 1964 میں بنی تھی، جس کی ہدایت ہومی واڈیا نے کی تھی۔فلم کی کہانی سی، ایل، کیوِس نے لکھی تھی۔ اسکرین پلے جے، بی، ایچ، واڈیا نے لکھا تھا۔ اس فلم میں فیروز خان، سعیدہ خان اور بیبی ناز نے اپنی اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اردو اور فارسی میں چار درویش کی داستان کو دور قدیم سے ہی مقبولیت حاصل رہی ہے۔ یہ قرین قیاس ہے کہ فلم چار درویش بناتے وقت داستان ’باغ وبہار ‘ پیش نظر رہی ہو۔ اگرچہ فلم میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ مکمل داستا ن کا احاطہ کیا جا سکے ۔ ہومی واڈیا نے فلم کی ضرورت اور تقاضے کے مطابق ترمیم و اضافے سے کام لیا ہے۔ اس فلم میں چوتھے درویش قمر بخت کی کہانی پیش کی گئی ہے، لیکن بادشاہ اور باقی درویشوں کی کہانی کوبھی اصل کہانی سے مربوط کر دیا گیا ہے۔ فلم چار درویش میں لوک تہذیب، پرستانی دنیا، سمندر کی تہہ میں طلسماتی دنیا، عجائب الچراغ، صبر کی درگاہ، انتہا کامزار، جادوئی انگوٹھی، غیبی جامہ، اڑنے والا غالیچہ، ہوائی گھوڑا، خاک مقدس، بھائیوں کا فریب،سپہ سالاروں کی غداری، شاہی آداب و اطوار، مرادوں کا پورا ہونا وغیرہ کی موثر عکاسی کی گئی ہے۔
فلم ہیرر انجھا، پنجاب کے صوفی شاعر وارث شاہ 1722-1798کی منظوم داستان ’ہیر‘ (1766) پر مبنی ہے۔ وارث شاہ، اٹھارہویں صدی کے ایک پنجابی مسلم صوفی شاعر تھے، جنھیں پنجابی ادب میں گراں قدر خدمات کے لیے مقبولیت حاصل تھی۔انھیں خصوصی طور پر ہیر رانجھا کی عشقیہ داستان کی تخلیق کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پنجاب کی سب سے مشہور المناک عشقیہ داستان ہے۔ ہیر رانجھا،ایک روایتی پنجابی لوک داستان ہے۔یہ پنجاب کی چار مشہور المناک رومانی داستانوں میں سے ایک ہے۔ باقی تین مرزا صاحباں، سوہنی ماہیوال اور سسی پنوں ہیں۔ ہیر رانجھا کی داستان کو کئی شاعروں نے قلم بند کیا ہے، لیکن سب سے زیادہ معروف نسخہ وارث شاہ کا ’ ہیر‘ہے۔
اس فلم میں سیال اور رانجھا قبیلے کے رہن سہن ، خوردونوش، تفریح وتفنن، رسم ورواج، قبائلی تصادم اور تخت ہزارہ ، جھنگ اور دریائے چناب کی وادیوں کی بہترین تصویر کشی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب کی تہذیب وثقافت کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ ہیر رانجھا کی کہانی اس قدر مقبول ہوئی کہ اس موضوع پر متعدد فلمیں بنائی گئیں۔
خاموش دور میں فلم ہیر رانجھا 1928 میں بنی تھی، جس کی ہدایت فاطمہ بیگم نے کی تھی۔ یہ ہندوستان کی پہلی خاتون ہدایت کار تھیں۔اس فلم میں ہیر کا کردار زبیدہ نے انتہائی خوب صورتی کے ساتھ ادا کیا ہے۔ اس دور کی دیگر فلموں میں فلم ہیر سندری(1928) فلم ہیر رانجھا(حورِ پنجاب) 1929 فلم ہیر رانجھا (1932) فلم ہیر (1956) شامل ہیں۔
فلم ہیر رانجھا (1970) کی ہدایت چیتن آنند نے کی اوراس کا اسکرین پلے بھی لکھا۔ فلم کی موسیقی مدن موہن کی ہے۔ کیفی اعظمی نے فلم کے مکالمے اورگیت لکھے ۔ اس فلم کی انفرادیت یہ ہے کہ پوری فلم کے مکالمے منظوم ہیں، جن کو کیفی اعظمی نے شاعرانہ طرز پر لکھا ہے۔ بقول پریم پال اشک:
’’کیفی اعظمی کو چیتن آنند کی شہرۂ آفاق منظوم فلم ہیر رانجھا کا منظوم اسکرپٹ تحریر کرنے کا فخر بھی حاصل ہوا اور ہیر رانجھا ہماری اولین منظوم فلم قرار دی گئی۔‘‘ 1
فلم الف لیلہ(1953) کی ہدایت اور فلم سازی کے امر ناتھ نے کی تھی ۔اس فلم کی کہانی ’ الف لیلہ و لیلہ‘ سے ماخوذ ہے۔ فلم میں نمی (جنی)، آشا ماتھر (شہزادی)، وجے کمار(علاء دین)، پران، مراد، امرت رانا، مایا دیوی، گوپ (رشید)، ہیلن(رقاصہ) وغیرہ نے ادا کاری کی ہے۔ ایم، آر، نواب نے فلم کی کہانی اور اسکرپٹ لکھی ہے۔ ساحر لدھیانوی نے گیت لکھے اور موسیقی شیام سندر نے ترتیب دی ہے۔
قصہ الف لیلہ و لیلہ ،عرب کی مشہور لوک کہانیوں کا مجموعہ ہے ۔ اس میں ایک ہزار ایک کہانیاں درج ہیں۔ اس داستان کا ترجمہ متعدد زبانوں میں کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے انٹوان گلانڈ (Antoine Galland) نے اس کا فرانسیسی زبان میں ‘‘Les Mille et Une Nuits’’ کے نام سے ترجمہ کیا تھا ۔ اینٹوان گلانڈ کو اس کا مخطوطہ 1690 میں ملا تھا، جس کا فرانسیسی ترجمہ 1704 میں 2 جلدوں میں شائع ہوا اور1717 میں مکمل داستان 12 جلدوں میں شائع ہوئی ۔ یہی ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں کے لیے بنیاد بن گیا۔پروفیسر ابوالحسن منصور احمد نے اس داستان کو اردو میں ’’الف لیلہ و لیلہ‘‘ کے نام سے سات جلدوں میں پیش کیا ،جن کی اشاعت انجمن ترقی اردو ہند ، دہلی نے 1940-46 کے درمیان کی تھی ۔
الف لیلہ ولیلہ کے مشہور قصوں میں علاء دین ، علی بابا اور چالیس چور،مچھیرا اور جن، سند باد جہازی، تین سیب، دعوت برمکی ، احمد اور بانو پری، وغیرہ شامل ہیں۔ ان کہانیوں میں جو تاریخی کردار بیان کیے گئے ہیں، ان میں برامکہ، ہارون الرشید، حاتم طائی، خسرو پرویز، شیریں، ابونواس، زبیدہ بنت جعفر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
حاتم طائی کا قصہ ، الف لیلہ و لیلہ کی داستانوں میں سے ایک ہے۔حاتم طائی اگرچہ ایک تاریخی کردار ہے، لیکن اس سے منسوب سات سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے سفر کرنا، ایک فرضی داستان ہے۔ اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اردو میں قصہ حاتم طائی لکھنے کا سہرا حیدر بخش حیدری کو حاصل ہے ۔حیدری کی تصنیف آرائش محفل 1801 میں لکھی گئی، لیکن یہ 1805 میں ہندستانی پریس کلکتہ سے شائع ہوئی اور یہ بات اس کے سرورق سے ظاہر ہوتی ہے ۔قصۂ حاتم طائی کے مرتب اطہر پرویز کے مطابق ’’حیدر بخش حیدری کی آرائش محفل میں حاتم طائی کی سات سیروں کا ذکر ہے اور اسی لیے عبدالغفور نسّاخ نے اپنے تذکرہ ’’سخن شعرا‘‘ میں حیدری کی اس کتاب کا نام ’’ہفت سیر حاتم ‘‘ لکھا ہے۔فورٹ ولیم کالج کے کاغذات میں اس کا ذکر اکثر و بیشتر’حاتم طائی‘ کے طور پرآیاہے، اسی لیے میں نے اس نسخے کا نام ْقصۂ حاتم طائی رکھا ہے۔ ‘‘2
نورالحسن نقوی نے بھی اس داستان کو’حاتم طائی کا قصہ ‘ کے عنوان سے 1976میں مرتب کیا تھا ۔حاتم طائی کا قصہ عوام میںاس قدر مقبول ہوا کہ اس پر متعدد فلمیں بنائی گئیں۔ بقول پریم پال اشک:
’’الف لیلیٰ کی داستانوں میں ایک اور مقبولِ عام قصہ حاتم طائی کا بھی ہے ۔ اس موضوع کے زیر عنوان 5 فلمیں پیش کی گئی ہیں۔ایک فلم خاموش دور میں آئی اور 4 فلمیں متکلم عہد میں پردۂ سیمیں کی زینت بنیں۔ 1934میں بھارت موبی ٹون نے فلم حاتم طائی 4 حصوں میں بنائی۔ یہ اب تک کی ہماری طویل ترین فلم ہے۔‘‘3
فلم حاتم طائی(1956) کی ہدایت ہومی واڈیا نے کی تھی۔ فلم کی کہانی، اسکرپٹ اور منظر نامہ جے، بی، ایچ، واڈیا نے لکھا تھا۔ بسنت پکچرز نے اس فلم کو پروڈیوس کیا تھا۔ حکیم لٹّا اور چاند پنڈت نے مکالمے لکھے تھے۔ گیت کاروں میں چاند پنڈت ، بی، ڈی، مشرا، اختر رومانی اور راجہ مہدی علی خان شامل تھے۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ یمن کا شہزادہ حاتم طائی ایک تاجر ،شاعر ،سخی اور مہربان انسان ہے، جو پتھر بن جانے والی ایک نوجوان پری کو بچانے کے لیے سات سوالوں کے جواب کی تلاش میں ایک خطرناک سفر پر نکل پڑتا ہے۔آخر میںتمام سوالوں کے جواب کئی مہم جوئی کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ گلنارپری پھر سے اپنی اصل شکل اختیار کر لیتی ہے۔حسنہ پری کے والد، حاتم طائی کو حسنہ سے شادی کی اجازت دے دیتے ہیں۔ منیر اور حسن بانو کی بھی شادی ہو جاتی ہے۔
فلم حاتم طائی(1956)کو تامل زبان میں فلم ’مایا موہنی‘ کے عنوان سے ڈب کیا گیا تھا۔ یہ فلم 1956 میں ریلیز ہوئی تھی۔ تھنجائی این- رمیّاداس نے تامل ورژن کے مکالمے اور بول لکھے۔ T. Chalapathi Rao نے تامل گانوں کی موسیقی ترتیب دی۔
فلم حاتم طائی(1990)، کی ہدایت کاری بابو بھائی مستری کے ذمے تھی۔ رتن موہن نے آر، ایم، آرٹ پروڈکشنزکے تحت اس فلم کو پروڈیوس کیا تھا۔
فلم علی بابا اور چالیس چور 1954) ( بھی عربی داستان ’الف لیلہ و لیلہ ‘ سے ماخوذ ہے۔اس فلم کی ہدایت ہومی واڈیا نے کی تھی۔ یہ فلم واڈیا برادرز پروڈکشن کے بینر تلے بسنت اسٹوڈیوز کی پیش کش تھی۔
علی بابا اور چالیس چور کی کہانی بہت دلچسپ ہے، جس میں، علی بابا ایک ایماندار غریب لکڑہارا ہے۔ ایک دفعہ جنگل میں لکڑی کاٹتے ہوئے اس نے ڈاکوؤں کو ایک خفیہ غار میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا، جس میں ان کا خزانہ چھپا ہوا تھا ۔جب ڈاکو غار سے واپس ہوگئے تو وہ جادوئی جملہ ’کھل جا سم سم‘ کے ذریعے غارمیں داخل ہو جاتا ہے اور بہت سے ہیرے جواہرات اپنے ساتھ لے آتا ہے۔جب علی باباکے لالچی بھائی قاسم کو خزانے کاعلم ہوا تووہ بھی خزانہ حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے اور چوروں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ اس فلم میں عرب معاشرے ، قبیلوں کی زندگی ، محنت کش لکڑہارے کی زندگی، دو بھائیوں کے مابین رقابت، معاشرے میں ڈاکوؤ ں کاعمل دخل، ڈاکوؤں کا خزانہ، دروازہ کھولنے کے لیے جادوئی الفاظ کااستعمال، قاسم کی لالچ، علی بابا کی ایمانداری ، مرجینا کی حکمت عملی اور درزی کی مہارت وغیرہ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے مذکورہ معاشرے کی تہذیب وثقافت اور عادات و اطوار پر گہری روشنی پڑتی ہے۔
علی بابا اور چالیس چور کی داستان پر مبنی مذکورہ فلم کے علاوہ متعدد فلمیں بنا ئی گئیں، جن میں فلم علی بابا اور چالیس چور(1966) علی بابا اور چالیس چور (1980)، ایک ہند سوویت فلم ہے، جس کی ہدایت اُزبک ہدایت کار لطیف فیض یوف(Latif Faiziev) اور ہندستانی ہدایت کار اُمیش مہرا نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ جسے آشا بھونسلے نے گایا ہے۔ ہندستانی سوویت مشترکہ پروڈکشن کی یہ سب سے کامیاب فلم تھی۔ علاوہ ازیں محبوب خان کی فلم علی بابا(1940)اور محمد حسین کی علی بابا (1976) بھی قابل ذکر ہیں۔
فلم علاء الدین اور جادوئی چراغ(1952) کی کہانی الف لیلہ و لیلہ کی کہانیوں میں سے ایک ہے ، جو علاء الدین کی مہم جوئی اور غار میں جادوئی چراغ کی تلاش اور شہزادی بدر سے محبت پر مبنی ہے۔ اس فلم کی ہدایت اور فلم سازی، ہومی واڈیا نے کی تھی ۔یہ فلم، بسنت پکچرز کے بینر تلے بنائی گئی تھی۔
ہومی واڈیا نے بسنت اسٹو ڈیو کے تحت اس موضوع پر دوبارہ 1978میں ’علاؤالدین کے کارنامے‘ کے عنوان سے فلم بنائی تھی ۔اس فلم میں نقش اور کفیل آزر نے گیت لکھے اور ظفر راہی نے مکالمے فلم کے گلو کاروں میں آشا بھونسلے، محمد رفیع،انورادھا پوڈوال اور منّا ڈے شامل تھے ۔حمیر سُرتی نے فلم کااسکرین پلے لکھا تھا۔چترا گپتا نے فلم کی موسیقی تیار کی تھی۔ اس فلم میں سچن، نازنین، جے شری ، رضا مراد،پینٹل، سدھیر، کنچن مٹّو، اور پریما نارائن نے ادا کاری کی ہے۔
فلم لیلیٰ مجنوں(1976)کی داستان بھی دنیا کی متعدد زبانوں میں انتہائی مقبولیت رکھتی ہے ۔ یہ عربی زبان کی ایک مشہور داستان ہے۔ اس داستان کے متعلق خیال ہے کہ یہ ایک حقیقی عشقیہ داستان ہے۔
لیلیٰ مجنوں کی داستان کو عربی سے فارسی میں سب سے پہلے رودکی نے ترجمہ کیا تھا ۔ اس کے بعدشیخ نظامی گنجوی نے’لیلیٰ مجنوں‘ (1188) کے نام سے فارسی میں ایک مثنوی لکھی۔اس مثنوی کے کئی نسخے دستیاب ہیں۔ اس کا ایک نسخہ ’’لیلیٰ مجنوں نظامی ‘‘ کے عنوان سے منشی نول کشور نے 1904 میں شائع کیا تھا۔امیر خسرو نے بھی لیلیٰ مجنوں کی داستان پرایک مثنوی’’مجنوں لیلیٰ‘‘ لکھی تھی، جسے مولانا حبیب الرحمن نے تصحیح وتنقید کے ساتھ اردو میں 1917 میں شائع کیا تھا۔ حیدر بخش حیدری نے ’’قصۂ لیلیٰ مجنوں‘‘ کے نام سے ایک داستان 1801 میں لکھی تھی، جو امیر خسرو کی فارسی مثنوی ’’مجنوں لیلیٰ‘‘ کا اردو میں نثری ترجمہ ہے۔ سترہویں صدی کے دکنی شاعر عاجز نے ’’لیلیٰ مجنوں ‘‘کے عنوان سے اردو میں ایک مثنوی 1636 میں لکھی تھی، جسے ڈاکٹر غلام عمر خاں، استاد ،عثمانیہ یونیورسٹی نے1967 میں مرتب کیا گیا۔ مرزا ہادی رسو ا نے ’’مرقع لیلیٰ مجنوں‘‘ کے عنوان سے ایک منظوم ڈراما لکھا تھا، جسے ترتیب دے کر عشرت رحمانی نے 1963 میں شائع کیا تھا۔علاوہ ازیں لیلیٰ مجنوں کی داستانوں میں نظیر اکبرآبادی کی منظوم ’’قصہ لیلیٰ مجنوں‘‘، سید وصی حیدرکی ’’ قصہ لیلیٰ مجنوں‘‘ اورمحمد شفیع کی ’’قصہ لیلیٰ و مجنوں ‘‘ بھی اہم ہیں۔ ہندوستان میں قصّہ لیلیٰ مجنوں کی مقبولیت کے پیش نظر اس پر متعدد فلمیں بنائی جا چکی ہیں۔بقول پریم پال اشک:
’’مدن تھیٹر کی فلم لیلیٰ مجنوں نے بھی بے پناہ کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد اب تک 18 مرتبہ فلمایا جاچکا ہے۔ دو فلمیں خاموش دور میں آئیں اور 16متکلم دور میں۔ ان میں سے 8 فلمیں ہندی میں اور ایک ایک فلم پنجابی، بنگلہ ، تامل ، تیلگو، ملیالم اور پشتو میں۔‘‘4
لیلیٰ مجنوں پر بنائی گئی فلموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ ان میں چند کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ جیسے جے، جے، مدان کی ’لیلیٰ مجنوں‘ (1922)، منی لال جوشی کی لیلیٰ مجنوں (1927)، کانجی بھائی راتھوڈ کی لیلیٰ مجنوں (1931)، بی ایس راج ہنس کی لیلیٰ مجنوں (1933)، روشن لال شوری کی مجنوں (1936)، عبدالحسین سپنتا کی لیلیٰ ومجنوں (1937)، نذیر احمد خان کی لیلیٰ مجنوں (1945)، کے، امرناتھ کی لیلیٰ مجنوں (1953)، نسیم صدیقی کی لیلیٰ مجنوں(1954)، آر، ایل، دیسائی کی داستانِ لیلیٰ مجنوں (1974)، ہرنام سنگھ راویل کی لیلیٰ مجنوں (1976، چندر ایچ بہل کی ’سن میری لیلیٰ‘ (1983) اور ساون کمار ٹاک کی لیلیٰ(1984)وغیرہ ۔
فلم لیلیٰ مجنوں کی داستان پر مبنی تمام فلموں میں سب سے مقبول اور کامیاب فلم ہرنام سنگھ راویل کی ہدایت میں بننے والی فلم’ لیلیٰ مجنوں‘ تھی، جو 11 نومبر، 1976 کو ریلیز ہوئی تھی۔فلم کی کہانی، اسکرپٹ اور مکالمے کو ابرار علوی، انجنا راویل اور ہرنام سنگھ نے مشترکہ طور پر لکھا تھا۔ فلم کی موسیقی ساحر لدھیانوی کے نغموں کے ساتھ مدن موہن اور جے دیو نے ترتیب دی تھی۔
اس فلم کے تمام نغمے بہت مقبول ہوئے اور آج بھی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ فلم کے نغموں میں ’حسن حاضر ہے‘ (لتا منگیشکر)، تیرے درپہ آیا ہوں ( محمد رفیع)، اس ریشمی پازیب کی جھنکار (محمد رفیع، لتا منگیشکر)، اب اگر ہم سے خدائی بھی( محمد رفیع، لتا منگیشکر)، لکھ کر تیرا نام زمیں پر( محمد رفیع، لتا منگیشکر)، ’’ہوکے مایوس تیرے در سے( محمد رفیع، عزیز نازاں، شنکر شمبھو، امبر کمار اور کورس)، یہ دیوانے کی ضد ہے اپنے( محمد رفیع)، لیلیٰ مجنوں دو بدن ایک جان تھے (استاد راجکمار رضوی، انورادھا پوڈوال، پریتی ساگر) اور کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو( لتا منگیشکر) شامل ہیں۔ اس فلم کو لازوال محبت اور قربانی کی موثر تصویر کشی کے لیے وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی۔اس فلم میں رشی کپور اور رنجیتا کی جذبات سے لبریز اداکاری کو خوب سراہا گیا۔ فلم کی کامیابی نے ہندی سنیما میں نہ صرف اپنی جگہ مضبوط کی بلکہ لیلیٰ مجنوں کی داستان کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
گل بکاؤلی کا قصہ بھی اکثر اردو کی منظوم یا نثری داستانوں کا حصہ رہا ہے۔ دیا شنکر نسیم کی مثنوی گلزار نسیم کا قصہ بھی گل بکاولی پر مبنی ہے ۔ نہال چند لاہوری کی نثری داستان’ مذہبِ عشق‘ (1804) ہے، جو تاج الملوک اور بکاؤلی کی داستان پر مبنی ہے۔ نہال چند کی یہ داستان، شیخ عزت اللہ بنگالی کی فارسی تصنیف تاج الملوک وگل بکاولی (1722)کا اردو ترجمہ ہے۔ غرض یہ کہ گل بکاؤلی کی داستان بھی ہندستانی سنیما کا موضوع رہی ہے۔
خاموش فلم گل بکاؤلی (1924)، کوہ نور فلم کمپنی کے بینر تلے کانجی بھائی راتھوڑ کی ہدایت میں بنی تھی۔ اس کی کہانی موہن لال دیو نے گجراتی میں لکھی تھی۔ فلم میں زبیدہ (بکاولی) اور خلیل (تاج الملوک) نے اداکاری کی ہے۔ گل بکاولی (1932)، ساگر موبی ٹون کے پروڈکشن میں اے، پی، کپور کی ہدایت میں بنی تھی۔ علاوہ ازیں ہندوستان کی دوسری زبانوں میں بھی اس موضوع پر فلمیں بنائی گئیں۔ برکات مہرا کی ہدایت میں ایک پنجابی فلم ’گل بکاولی‘ کے نام سے 1938 میں بھی بنی تھی، جسے ڈی ایم پانچولی نے پروڈیوس کیا تھا۔ان میں ایک فلم’’گل بکاؤلی‘‘ تامل زبان میں 1955 میں بنی، جس کے ہدایت کار اور فلم ساز ٹی، آر، رمنّا تھے۔فلم کا اسکرین پلے تھنجائی این، رمیّہ داس نے لکھا ہے۔ان کے علاوہ ایک پاکستانی فلم گل بکاولی (1961) ، زمان آرٹ پروڈکشنز کے تحت منشی دل کی ہدایت میں بنی تھی۔ فلم گل بکاؤلی (1963) کی ہدایت اور فلم سازی جگل کشور نے کی تھی۔اس فلم کے مرکزی کرداروں میں نیشی، جے راج، سَپرو، سلوچنا چٹرجی وغیرہ شامل تھے۔
گل صنوبر کا قصہ بھی کافی مقبول رہا ہے۔یہ قصہ پہلے فارسی سے اردو میں منتقل ہوا۔ اب تک اس کے اردو نظم ونثر میں کئی ترجمے ہو چکے ہیں،لیکن سب سے مقبول ترجمہ بعنوان ’’قصہ گل وصنوبر‘‘،منشی نیم چند کھتری کا ہے، جسے رفیق مارہروی نے مرتب کر کے1962 میں شائع کیا تھا۔ منشی نیم چند کھتری کے مطابق گل وصنوبر کی داستان کچھ اس طرح ہے :
’’قیوس شاہ ترکستان کی ریاست چین ما چین کا بادشاہ تھا، اس کی لڑکی مہر انگیز نہایت حسین وجمیل تھی، وہ جب جوان ہوئی تو اس کی شادی کا سوال پیدا ہوا، مہر انگیز نے اپنی شادی کی یہ شرط رکھی کہ میں اسی شخص سے شادی کروں گی جو میرے اس سوال کا صحیح جواب دے گا کہ ’’گل نے صنوبر کے ساتھ کیاکیا؟‘‘
صنوبر کوہ قاف کا بادشاہ تھا اور گل اس کی بیوی تھی، بہت سے امیدوار مہر انگیز کی طلب میں اس کے سوال کا جواب دینے کے لیے پہنچے لیکن ناکام رہے۔ مہر انگیز نے یہ بھی شرط لگا رکھی تھی کہ جو شخص میرے سوال کا جواب نہ دے سکے گا، اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ بہت سے سرفروش شاہزادے کشتۂ ستم ہوئے،مگر کسی سے اس کا سوال حل نہ ہو سکا۔شمشاد لال پوش نام کا ایک بادشاہ تھا، اس کے لڑکے الماس روح بخش نے بھی مہر انگیز کے سوال کی جواب دہی کے لیے اپنے سر کی بازی لگائی اور بڑی کد وکاوش اور جدو جہد کے بعداس نے مہر انگیز کے سوال کا بالکل صحیح جواب دے دیا۔اس سوال کے حل کرنے میں اسے کتنی پریشانی اورکتنے خطرات کامقابلہ کرنا پڑا،اس کی تفصیل بڑی حیرت ناک ہے۔شاہزادہ الماس کو کہا ںکہاں کی خاک چھاننی پڑی اور اس پر کیا کچھ گزی ،اس کا ذکر بڑا دلچسپ ہے۔‘‘5
گل وصنوبر کے موضوع پر اردو میں متعددمنثور و منظوم داستانیں لکھی جا چکی ہیں ۔ ان میں میر تقی لکھنوی کی ’’مثنوی گل و صنوبر‘‘ (1881)، مرزا خدا داد بیگ کا ’’قصۂ گل و صنوبر‘‘(منظوم) اور پریم چند کا نثری قصہ ’’قصۂ گل وصنوبر ‘‘(1914) قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ بھی قصہ گل وصنوبر کے اردو میں کئی ترجمے ہوئے ہیں۔ ہندستانی سنیما میں بھی دیگر داستانوں کی طرح قصہ گل و صنوبر کو خصوصی جگہ دی گئی۔اس موضوع پر متعدد فلمیں بنائی گئی ہیں، جن میں فلم گل صنوبر (1934)، کی ہدایت ہومی ماسٹر نے کی تھی۔ اس فلم کے اداکاروں میں روبی میٔر ، زبیدہ، زِلّو، لکشمی، اور دِ نشا بلی موریہ وغیرہ شامل تھے۔ فلم گل صنوبر(1953) کی ہدایت اَسپی ایرانی نے کی تھی۔ اس فلم میں آغا، حبیب، جگدیش کنول، شمی کپور اور شیاما نے اداکاری کی تھی۔ فلم گل صنوبر (1963) کی ہدایت اور فلم سازی جگل کشور نے کی تھی۔ اس کے مرکزی اداکاروں میں نیشی، جے راج، سَپرو، سلوچنا چٹرجی جیسے ممتاز ستارے شامل تھے۔قصہ گل صنوبر کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ فلم ساز دھیرو بھائی گوہل نے ’’گل صنوبر‘‘ کے نام سے 52 اپیسوڈ میں ڈی ڈی نیشنل کے لیے ایک سیریل بنایا تھا ۔ جو 1999-2000 کے درمیان ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ ہوا۔گل صنوبر کا قصہ بھی قصہ الف لیلہ و لیلہ سے ماخوذ ہے۔
ہندستانی فلموں میں بڑی تعداد میں ہندو دیومالائی قصوں کہانیوں کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ ہندستانی لوک کتھاؤں میں وشنو شرما کی پنچ تنتر، نارائن پنڈت کی ہتو پدیش، بیتال بھٹ راؤ کی بیتال پچیسی، گوڑاڈھیہ کی برہت کتھا، سوم دیو بھٹ راؤ کی کتھا سرِت ساگر کو بہت مقبولیت حاصل رہی ہے۔اردو میں مظہر علی ولا کی ایک داستان ’’بیتال پچیسی ‘‘ ہے ، جسے فورٹ ولیم کالج کے تحت1803 میں آسان اردو میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ بیتال پچیسی کے موضوع پر ایک فلم ’’وکرم بیتال ‘‘1986 میںبنی تھی ،جس کی ہدایت شانتی لال سونی نے کی تھی۔ اس فلم کو فیروز ناڈیاوالا نے پروڈیوس کیا تھا۔موسیقی ندیم شرون کی تھی اور اداکاروں میں وکرم گوکھلے، رجنی بالا، موہن شری، انجنا ممتاز، ستیش شاہ اور دیپیکا چیخالیا وغیرہ شامل تھے۔
مختصر یہ کہ حکایتوں، قصوں، کہانیوں، اساطیری و دیومالائی داستانوں میں سامعین کی دلچسپی ہمیشہ سے رہی ہے۔ ہندوستان میں سنیما کا آغاز ہواتو ایسی داستانوں اور کہانیوں کو خصوصی توجہ دی گئی ۔ اردو ایک ایسی زبان ہے جس میں قصوں ،کہانیوں اور داستانوں کا ایک بڑا سرمایہ موجود ہے۔ داستانیں، اکثر لوک روایت کے ذریعے پروان چڑھتی رہی ہیں۔ حکائی ادب میں لوک کہانیوں کا کوئی ایک خالق نہیں ہوتا ، بلکہ پورا معاشرہ ہوتا ہے۔ انھیں سینہ بہ سینہ اور نسل در نسل منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنیما میں بہت سی داستانوں کے مصنفین کو کریڈٹ نہیں دیا گیا۔ ان میں صرف اسکرپٹ نگار اور اسکرین پلے رائٹر کے نام درج ہیں۔ اگرچہ وہ داستانوں کے اصل خالق نہیں لیکن تقاضائے سنیما کا خیال رکھتے ہوئے انھوں نے داستانوں کو فلموں میں انتہائی دلچسپ انداز میں پیش کیاہے۔ سنیما کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں اردو داستانوں کی نہ صرف بازیافت کی گئی ہے بلکہ زبانی روایت کو انتہائی فنکاری کے ساتھ پردۂ سیمیں پر محفوظ کیا گیاہے۔
حوالہ جات
1۔ ہندستانی سنیما کے پچاس سال، پریم پال اشک،موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی،2000،ص۔ 157
2۔ قصۂ حاتم طائی موسوم بہ آرائش محفل، حیدر بخش حیدری، تصحیح و ترتیب ، اطہر پرویز، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی،1972، ص۔5
3۔ ہندستانی سنیما کے پچاس سال، پریم پال اشک، موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی،2000،ص۔ 157
4۔ ہندستانی سنیما کے پچاس سال، پریم پال اشک، موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی،2000،ص۔142
5۔ قصہ گل و صنوبر، منشی نیم چند کھتری، مرتبہ رفیق مارہروی، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ ،1962 ،ص۔3-4
Prof. Ahamad Khan
Department of Urdu
Maulana Azad National Urdu University
Hyderabad-500032 (Telangana)
Email: ahmadk71@yahoo.co.in
Mob: 9000138271