اردو زبان اور شاعری کے تہذیبی روابط،مضمون نگار:معاذ احمد

August 5, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اگست 2026:

زبان سے نہ صرف انسان کے شعور کی تربیت ہوتی ہے بلکہ تہذیب کا بھی ارتقا ہوتا ہے۔ زبان، فرد اور سماج کے درمیان رابطے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ ہر زبان کے استعمال کرنے والوں میں ایک مخصوص ذہنی فضا ہوتی ہے جو انھیں اپنے ملک وقوم کے مخصوص رنگ سے جوڑے رکھتی ہے۔ اس لیے زبان صرف شاعری ہی نہیں بلکہ دنیامیں جتنے بھی علوم وفنون ہیں سب کے اظہار کاایک موثر ذریعہ ہے۔ انسان اپنے ارتقا کے ابتدائی دور میں اشاروں کنایوں سے کام لیتا تھا لیکن جیسے جیسے اس کے اندر زندگی کا شعور بڑھتا گیا، اس کے ذہن میں وسعت بھی پیدا ہوتی گئی۔ ضروریات زندگی کی تلاش بھی بڑھی، کائنات کو مسخرکرنے کے لیے اس نے مختلف علوم وفنون بھی ایجا دکیے۔ علوم وفنون کی یہ مختلف شکلیں بنیادی طور پر انسانی زندگی کے تنوعات ہیں جن کے ذریعے زندگی کے بھی مختلف شعبۂ حیات قائم ہوتے گئے۔ پھر یہ کہ انسانی فکر نے یہ تقسیم اپنی آسانی کے لیے کی ہے کیونکہ انسانی زندگی بے کراں تصورہے جس کی گرفت اس کے لیے کبھی آسان نہیں رہی۔ انسان نے اس کا حل یہ نکالا کہ فکر کے ذریعے ان علوم کی کثرت کارشتہ زندگی کی وحدت کے تصور سے قائم کردیا۔ اس طرح اس نے اپنی ضرورت کے لحاظ سے علوم کی تقسیم کی اور زندگی کے رازکو سمجھنے کی کوشش کی۔
زبان کے معرض وجود میں آنے سے انسان کی اجتماعی زندگی کا آغاز ہوا۔ اجتماعی زندگی سے پہلے گمان یہی ہے کہ وہ وحشیانہ زندگی بسر کرتا رہا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بغیر زبان کے زندگی گزارنے والے انسان کو وحشی کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اگر اس کی زندگی وحشیانہ تھی توآج وہ ترقی کی جس منزل پر پہنچاہے وہ اسی راستے سے گذرکر آیاہے۔ زبان کی ایجاد اور اس کی تخلیق خود اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ جسے کوئی وحشی انسان انجام نہیں دے سکتا۔ ہماری روزمر ہ کی زندگی،طرز معاشرت، ہماری وضع قطع، ہمارا ثقافتی معیار، رسم ورواج جسے ہم تہذیب کہتے ہیں، اس تہذیب کی چمک دمک میں ہم نے اس ابتدائی انسان کو بھلا دیا جو صدیوں کے مصائب برداشت کرتا ہوا اور اظہار ذات کے شدید ترین کرب سے گزرکر اکیسویں صدی تک پہنچا ہے۔ جہاں پہنچ کر اس نے زبان کو اپنی فکر کاوسیلہ بنایا۔
زبان کے ارتقا ئی عمل میں اگر لسانیاتی مفروضوں پر نگاہ ڈالی جائے تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ زبان جن علامتوں سے معرض وجود میں آئی وہ محض (Gestalten) تھیں۔ یعنی ایک شکل یا نمونے کے طورپر جو انسان کے حواس میں پیدائشی طورپر موجود ہوتاہے۔ گویا اس گروہ کایہ خیال ہے کہ ابتدائی انسان میں خوشی اور غم کے مواقع کی ترسیل کے لیے فطری رجحان زبان کے اولین مظاہر تھے۔ اس طرح زبان کا ظہور ایک ایسے معاشرے کا پروردہ نظرآتاہے جس میں علامتی تفکر کی معمولی صورتیں ترقی کر چکی تھیں۔ پھر آگے چل کر اس سماج اور معاشرے میں اظہارکی سرگرمیاں مثلاً راگ رنگ، ناچ، کھیل کود وغیرہ کا رواج بڑھاہوگا۔ ان قیاسی باتوں سے قطع نظر زبان اپنے ارتقائی مدارج سے گزرکر آج ایک رسمی معنویت تک پہنچ چکی ہے۔ اپنے دائرہ مضامین کے وسیع تناظر میں زبان ایک پوری تہذیب کا احاطہ کرتی ہے۔ جس طرح زندگی ایک بے کنارتصور ہے۔ اور ہر شے کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت سے متصف ہوتی ہے۔ اسی طرح زبان بھی فکر وعمل کے ہر سلسلے کواپنے مخصوص مزاج میں ڈھالتی چلی جاتی ہے۔
جہاں تک شاعری کی زبان کا تعلق ہے تو وہ اپنی مخصوص لفظیات اور طریق استعمال میںعام بول چال کی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی طرح جب ہم قدیم شاعری اور اس کے کلاسیکی اجزا کا جائزہ لیتے ہیں تو یہاں بھی ہمیں قدیم شعری لوازمات اور جدید شعری لفظیات میں ایک تفریق کی صورت نظرآتی ہے۔ شاعری فی نفسہ انسان کے جذبات واحساسات کے اظہا ر کا ایک وسیلہ ہے۔ شاعری،مواد، ہیئت، موضوع اور صورت کے متوازن امتزاج کا نام ہے اور یہی اس کے بنیادی عناصر ہیں۔ لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ ان کے تحت نہ جانے کتنے اور ذیلی عناصر ہوتے ہیں جن سے خودان عناصر کی تشکیل ہوتی ہے اس میں احساسات، جذبات اور تخیل کی آمیزش ہوتی ہے۔ شاعری کوالہامی بھی کہاگیا۔ الہامی کہنے کے پس پشت جو عوامل کارفرما تھے وہ یہی کہ شاعری اظہار کی بلیغ ترین اورمؤثر ترین صورتوں میں سے ایک تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نثر کے مقابلے میں شعر انسان کے ذہن پر جلداثر انداز ہوتا ہے۔ شاعری کی اپنی زبان تو ہوتی ہے لیکن کیا شاعری صرف زبان، الفاظ اور موزونیت کا نام ہے۔ شاعری زبان کے تحفظ کا کام بھی کرتی ہے۔ اس میں ہماری تہذیب سانس لیتی ہے۔ نثر میں جن خیالات وجذبات کے اظہار کے لیے ایک پورامضمون درکارہوتاہے شاعری کی زبان میں وہ بسا اوقات ایک شعر میں ہی ادا ہوجاتے ہیں۔ شاعری کی اس وسعت پذیری کے تعلق سے شمیم حنفی ’اقبال اور عصر حاضر کے خرابہ‘ میں لکھتے ہیں:
’’شاعری کے مفاہیم صرف اپنی تعمیر میں صرف ہونے والے لفظوں کے یا زبان کے پابند نہیں ہوتے۔ بحر، وزن، آہنگ واصوات، متعلقہ زبان اور متعلقہ شاعرکے مخصوص ذخیرہ ٔ الفاظ اس کے علامتی اور استعاراتی نظام میں بھی معنی کے بہت سے مضمرات چھپے ہوتے ہیں۔‘‘1
گویا شاعری کی زبان صرف شاعری کی ہی زبان نہیں ہوتی ہے۔ اس میں بحر، وزن، اصوات اور متعلقہ زبان شاعری کے مخصوص ذخیرۂ الفاظ کے ساتھ اس کے علامتی اور استعاراتی نظام میں بھی معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ زبان کے نقطۂ نظر سے اگر اٹھارہویں صدی کی شاعری پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو نہ صرف شاعری کی زبان کا پتہ چلتا ہے بلکہ ہماری شاعری کی پوری تہذیبی روایت بھی سامنے آتی ہے۔ کیوں کہ یہ عہد زبان اور شاعری دونوں کا تشکیلی دورتھا۔اس عہد کی اہمیت شاعری کی زبان کے حوالے سے اس لیے بھی ہے کیونکہ اس سے پہلے ہمارے یہاں شاعری کا کوئی مکمل ضابطہ یا پیمانہ نہیں تھا جس سے شاعری یا زبان کا کوئی معیار قائم کیا جائے۔ زبان تشکیلی مراحل کے دورسے گزر رہی تھی لیکن پھر بھی ہمارے اساتذہ شعرا اپنے احساسات کو انفرادی تجربات کی روشنی میں پیش کررہے تھے۔ یہاں اس بات کاخیال رکھنا ضروری ہے کہ شاعری اس عہد میں انفرادی ضرور تھی لیکن شاعری کی آواز اجتماعی حیثیت رکھتی تھی۔ شمالی ہند میں پہلی انفرادی آواز ولی دکنی کی تھی اور ولی کی آواز میں پہلی بار فرد شاعری سے علاحدہ بھی نظرآتا ہے۔ لیکن ولی کی آواز میں بھی اجتماعی آہنگ تھا۔ ولی نے معاشرے کی قبول کردہ اقدار کی روشنی میں پورے معاشرے کو روشنی دینے والی تشبیہوں اور استعاروں سے محبوب کا پیکر سجا کر ہمارے سامنے پیش کیا۔ ولی سے پہلے بھی ہمارے یہاں معاشرہ ہی شاعری کا محور تھا۔ آبرو، ناجی، مضمون،فغاں اور حاتم سب کی شاعری معاشرے کی ہی شاعری ہے۔ غرض اس عہد میں شاعری کے اصول وضوابط، لفظیات حتی کہ خیالات تک میں فارسیت غالب تھی۔ دوسری زبانوں سے الفاظ کے اکتسابات کا عمل ریختے کی شکل میں بتدریج جاری رہا لیکن باقاعدہ اس کی کوئی صورت ابھی تک طے نہیں ہوسکی تھی۔اس لیے جب ہم اٹھارہویں صدی کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ زبان اس وقت اپنے تشکیلی مراحل سے گزررہی تھی۔ شاعری کی لفظیات، تراکیب، استعارے، تشبیہات غرض شاعری کی جملہ اصطلاحات شکست وریخت کے عالم میں تھیں۔ ایک طرف زبان کےFormationکا عمل تھا تو دوسری طرف زبان اور شاعری دونوں کی تعمیرکا کام بھی شعوری اور غیر شعوری طورپر جاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری اپنے ابتدائی دور میں کسی بندھے ٹکے ضابطے کی پابند نہیں تھی۔ آج کی ترقی یافتہ زبان کے مقابلے میں زبان وقواعد کی غلطیاں بھی اس میں مل جاتی ہیں لیکن سادگی اور خلوص کی جو تاثیر اس میں ہے اس سے بہر صورت انکار ممکن نہیں، اٹھارہویں صدی کی شاعری اور زبان کے حوالے سے محمد حسین آزاد نے ’آب حیات‘ میںبڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے وہ لکھتے ہیں:
’’ان بزرگوں کے کلام میں تکلف نہیں جو کچھ سامنے آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اس سے دل میں جو خیالات گزرتے ہیں وہی زبان سے کہہ دیتے ہیں۔ ایچ پیچ کے خیال دور دور کی تشبیہیں، نازک استعارے نہیں بولتے۔ اسی واسطے اشعار بھی صاف اور بے تکلف ہیں اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ہر ایک زبان اور اس کی شاعری جب تک عالم طفولیت میں ہوتی ہے تب تک بے تکلف، عام فہم اور اکثر حسب حال ہوتی ہے۔ 2
یہ اقتباس ’آب حیات ‘ کے پہلے دور کی تمہید سے ماخوذ ہے۔ اس میں ولی، آبرو، مضمون،ناجی، محمد احسن احسن، مصطفی خاں یک رنگ جیسے مشاہیر شعرا شامل ہیں۔ دوسرے دور کی تمہید میں لکھتے ہیں:
’’مگر اس خوبی کا وصف کسی زبان سے ادا نہیں ہوتا کہ جو کچھ دل میں ہوتا ہے جوں کا توں ادا کردیتے ہیں۔ خیالی رنگوں کا طوطا مینا نہیں بناتے۔ہاں طوطی وبلبل کی طرح صاف زبان اور قدرتی الحان لاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے نغموں میں گٹکری، ایچ، پلٹی تان کسی گوےے سے لے کر نہیں ڈالی۔ تم دیکھنابے تکلف بولی اور سیدھی سادی باتوں سے جو کچھ دل میں آئے گا بے ساختہ کہہ دیں گے کہ سامنے تصویر کھڑی کردیں گے اور جب تک سننے والے سنیں گے کلیجے پکڑ کر رہ جائیں گے۔ اس کا سبب کیا؟ وہی بے ساختہ پن جس کے سادہ پن پر ہزار بانکپن قربان ہوتے ہیں۔‘‘ 3
آب حیات کا تیسرا دور جو اردو شاعری میں عہد زریں کے طورپر مشہور ہے۔ اس میں وہ باکمال شعرا ہیں جنھوں نے اردو شاعری کی نہ صرف نوک پلک درست کی بلکہ زبان اور شاعری کی ہر سطح پر اپنی جودت طبع سے گہرے نقوش قائم کیے۔ ان شعرا میں، مظہر جان جاناں، سودا، میر ضاحک، میر درد، میر سوز، میر محمد تقی میر کے نام شامل ہیں۔ اس عہد میں مضامین کی بلندی، بندش کی چستی پر خاص زور صرف کیاگیا۔ محمد حسین آزاد کا خیال ہے کہ انھوں نے’’ اپنے قدردانوں سے فقط داد نہ لی بلکہ پرستش کرائی۔‘‘شاعری کی زبان کی شناخت قائم کرنے میں جن شعرا کی خاص اہمیت ہے ان میں مرزا مظہر جان جاناں، سودا، میراور خواجہ میر درد کے نام شامل ہیں۔ چوتھے دور میں جرأت، میر حسن، انشا، مصحفی تھے۔ اس عہد کی شاعری کی زبان اپنے ماقبل عہد سے قدرے مختلف نظرآتی ہے۔ یہ تبدیلی انشا اور جرأت کے فطری میلانات کے سبب تھی۔ عشق وعاشقی کے مضامین کے ساتھ شاعری میںاستہزا کی کیفیت پیدا ہوئی۔ پھر اردو شاعری کا وہ دورآتاہے جس نے شاعری کی زبان میںخیال بندی، نازک خیالی، بلند پروازی، تعقل پسندی،تشکک پسندی، تہہ داری، بلاغت وفصاحت، استعاراتی نظام، مرکب تراکیب، ہیئت واسلوب کی نئی راہیں تلاش کیں۔ شاعری میں فکری عنصر داخل کرنے کے ساتھ شاعری کی زبان کو اوج کمال پر پہنچا دیا۔ ان شعرا میں ناسخ، خلیق، آتش، شاہ نصیر، مومن، ذوق، غالب، دبیر اور انیس کے نام سر فہرست ہیں۔ اصلاح زبان کے تعلق سے ناسخ وآتش کی اپنی حیثیت مسلم ہے تاہم یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ ناسخ نے شاعری کی جو طرز اپنائی اس میں قافیہ پیمائی، رعایت لفظی اور مشکل سے مشکل قافیہ باندھنا رواج عام ٹھہرا۔ شاعری میں خارجیت کا تعلق صرف لکھنؤ کی شاعری سے نہیں ہے بلکہ دہلی کی شاعری میں بھی خارجیت موجود ہے۔ داخلیت اور خارجیت کے خانوںمیں شاعری کی تقسیم، نمایاں رویے یا رجحان کی روشنی میں تو کی جاسکتی ہے لیکن مجموعی طور پراگر دہلی کی شاعری میں خارجیت موجود ہے تواسی طرح لکھنؤ کی شاعری میں داخلیت بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ غرض اردو شاعری اپنے تشکیلی دور میں سادہ ضرورتھی لیکن جذبات کی تاثیر اس میں بھی تھی۔ ولی کی شاعری کے زیر اثر دہلی کی شاعری میں دکنی لفظیات کا جو چلن عام ہواا سے شاہ حاتم نے دہلی کی زبان میں اوربہتر صورت میں ڈھال کر شاعری کی زبان میں سلاست وروانی پیدا کی۔ انشا، رنگین اور جرأت نے ریختی کے طرز کو فروغ دیا۔ اس کے ذریعے شاعری میں محاورات، عورتوں کے مخصوص الفاظ اور روز مرہ کا وہ ذخیرہ بھی سامنے آیا جو محلات اور گھر کے آنگن تک محدود تھا۔یہ زبان شاعر کے احساسات وجذبات، افکار وخیالات، واردات وکیفیات اور اس کے ادراک وشعور سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ یہ شاعر کی جذباتی اور روحانی واردات ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے اجتماعی تجربات، نظام اقدار، تصورات اور عام انسانی رواج پذیر معتقدات کی بھی عکاس ہے۔ یوں تو شاعری کی زبان دراصل تشبیہ، استعارہ، تمثیل، ابہام، کنایہ اور علامت کی ہوتی ہے لیکن اس کی مخصوص علامتیں جمالیاتی علامتیں ہوتی ہیں۔ جمالیاتی اصطلاحوں میں استعارہ کو مرکزیت حاصل ہے۔ گویا استعارہ ایک معنی میں شعری زبان کی اساس ہے۔ استعارہ ہی سے کام لے کر تخیل زبان اور شاعری کو وجود میں لاتا ہے۔ یوں تو استعارہ زبان کے ہر طریق استعمال میں ملتا ہے لیکن شاعری کی زبان میں اس کی ایک ناگزیر حیثیت ہے۔ شاعری کی زبان میں استعارہ کیفیت اور کمیت دونوں لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔گویا استعارہ وہ علامت ہے جس کے بغیر اگر شاعر کچھ کہنا چاہے تو نہیں کہہ سکتاہے۔ اس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ شاعری کی زبان میں استعارہ کا تصور ایک جدا معنویت کو تو ذہن میں لاتا ہی ہے ساتھ ہی جمالیاتی لذت کا حامل بھی ہوتاہے۔ جو دراصل شاعر کی زبان نہیں ہوتی بلکہ شاعری کی شعریات ہوتی ہے۔ وہی دوسرے لفظوں میں شاعری کی زبان کہلاتی ہے۔
زبان انسان کا دوسرا وجود بھی کہلاتی ہے کیونکہ اس میں انسان کے ہزاروں رشتے پنہا ں ہوتے ہیں۔ اور پھر شاعر اسی معاشرے کا پروردہ ایک فر د ہوتاہے جس میں زبان کی تخلیق ہوئی ہے وہ عام انسان کے مقابلے میں زیادہ حساس اور باشعور ہوتاہے۔ بسا اوقات بڑے بڑے مفکر اور مدبر جس نتیجے تک بڑے ہی غور وفکر اور مشاہدے کے بعد پہنچتے ہیں شاعر اپنے تخیل سے ان دنیائوں تک پہنچ جاتاہے۔ پھر وہ بھلا کیسے ان ثقافتی رویوں، رجحانوں اور علامتوں سے علاحدہ رہ سکتا ہے جو اس کے عہد میں انسانی ذہن وفکر میں ایک ارتعاش پیدا کررہی ہوتی ہیں۔ شاعری بنیادی طور پر اگر کسی چیز کی محتاج ہوتی ہے تو وہ طبع شاعرانہ ہے۔ اس لیے کہ شاعری اپنی ماہیت کے لحاظ سے صرف موزونیٔ طبع کی محتاج ہوتی ہے۔ گرچہ شاعری کا ملکہ بنیادی طورپر فطری اور وہبی ہوتاہے مگر اس احساس اورجذبے کو بھی صیقل کر نا پڑتاہے کیوں کہ قوت اظہار کی تکمیل کے لیے فطری صلاحیت کا پختہ ہونا ضروری ہے۔ شاعر کے اندر قوت اظہار کی تحریک بیش تر صورت میں جذبے یا احساس کی شدت کے ذریعے پیدا ہوتی ہے جب کہ اس کی تکمیل اور تشکیل کے لیے بعض خارجی ذرائع بھی کام میں لانے پڑتے ہیں۔ بقول سید احتشا م حسین:
’’ہر زبان کی طرح اردو کو بھی سماجی ضروریات نے جنم دیا جس میں آہستہ آہستہ تہذیبی خیالات اور تخیلات کے لیے جگہ بنتی گئی۔ ‘‘ 4
شاعری کی زبان اور تہذیبی روابط کے سلسلے میں یہ بات بڑی اہم ہے کہ اردو زبان کو سماجی ضروریات نے جنم دیا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ کا آغاز بھی اردو زبان کی تاریخ سے ہی مشروط ہے۔ شاعر کے وجودمیں جو تحریک کام کرتی ہے وہ انفرادی ہوتی ہے لیکن درحقیقت یہ خارجی حالات واسباب کا اشاریہ ہے جس کو مجموعی طورپر ہم تمدن یا دوسرے لفظوںمیں ہیئت اجتماعی کہہ سکتے ہیں۔
شاعری اور تہذیب پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس میں نہ جانے کتنے ہندایرانی، اور ہند المانی تہذیب کے عناصر باہم آمیز ہوگئے ہیں۔ ہیئت اور مواد پر نظرڈالتے ہیں تو ہیئت کبھی ایک تہذیب کی عکاسی کرتی نظرآتی ہے مثلاً دکن میں مثنوی، دہلی میں غزل اور مرثیہ تو باضابطہ لکھنؤ کی میراث ہی نظرآنے لگتاہے اور توا ور کبھی موضوع اور مواد بھی ایک خاص تہذیب کی ترجمانی کرتے نظرآتے ہیں۔ مثلاً ترقی پسند تحریک کو دیکھیے تو اس میں غلامی سے نجات اور آزادی کی جدوجہد کا شور نظرآتا ہے۔ تصوف کی صورت میں انسان دوستی اور ایثار نفس کی ایک خاص روحانی اور اخلاقی فضا ہماری شاعری اور تہذیبی روایت کے بعض ادوار کی شناخت بن گئی تھی۔ایسی صورت میں گویا شاعری کا ہی صرف تہذیبی تناظر نہیں ہوتا ہے بلکہ تہذیب کا بھی ایک سماجی تناظر ہوتاہے۔پروفیسر عتیق اللہ لکھتے ہیں:
’’اگر تہذیب اپنا کوئی سماجی تناظر رکھتی ہے یاسماج کاکوئی تہذیبی تناظر ہوتاہے اور ان تناظرات کی تشکیل میں تاریخ، اقتصادیات، اخلاقی، مذہبی،تعلیمی اور سیاسی نظامات بھی کہیں انتہائی واضح اور کہیں غیر واضح اور بہ باطن کوئی کردار انجام دیتے ہیں تواس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ…ہم اسے بھی ایک بین النظام ہائے عمل مطالعے کے نام سے موسوم کرسکتے ہیں۔‘‘ 5
تہذیبی مطالعہ ایک وسیع ترطریق نقد ہے۔ گویا اس کے تہذیبی روابط اور تشکیلی امور میں تاریخ، اقتصادیات، اخلاقیات، مذہبیات اور سیاسیات، جغرافیہ، نسل، طبقہ، نظریہ، عمل اور جنسیات جیسے مسائل وموضوعات سے اس کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ربط ہوتاہے اور یہی وجہ ہے کہ تنقید کے بعض نظریوں کی طرح اسے بھی بین النظام ہائے عمل مطالعے کا نام دیاگیاہے۔ اور پھر اردو تہذیب تواپنی بنیاد کے لحاظ سے ہی مخلوط،لوچ اور مشترک اقدار کی حامل رہی ہے۔ اس کے تہذیبی روابط کی داستان ہندوستانی تہذیب کی ہزارسالہ تاریخ پر محیط ہے۔ اس کے ابتدائی اور ارتقائی مدارج کا سفر ویدک تہذیب سے ہوتا ہوا آریائی تہذیب، ہندوتہذیب یا ہندوستانی تہذیب کی صورت میں نظرآتاہے۔ اور پھر آگے چل کر بدھ ازم کا آغازہوتاہے۔ بعدازاں ایک اور تہذیبی دھارا جو اسلامی تہذیب کا ہے وہ بھی ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا حصہ بنتاہے۔ یہ تینوں تہذیبی وثقافتی روایتیں اور دھارے اس قدر آپس میں مربوط ہوتے ہیں کہ ان کے ذریعے ہندوستان میں قومی یکجہتی اور رواداری کی ایک پوری فضا قائم ہوئی۔ سید عابد حسین نے اپنی کتاب ’قومی تہذیب کا مسئلہ‘ میں تہذیبی اختلاط، بین ثقافتی رویے، تہذیبی ومعاشرتی ہم آہنگی، کثرت میں وحدت اور اتحاد واتفاق کے مسائل کا معروضی تجزیہ کر نے کے بعد زبان کی تعمیر وتشکیل کا جوخاکہ پیش کیاہے ملاحظہ کیجیے:
’’مشترکہ زبان کی حیثیت کسی زبان کی تہذیب میں صرف اتنی ہی نہیں کہ وہ اس کے افراد کے درمیان مبادلہ خیالات اور اشتراک عمل کا ذریعہ ہے بلکہ وہ اس تہذیبی روایت کے نشرونقل کے وسیلے کے طورپر بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی طلسمی شراب ہے جس کے اندر جماعت کے مشترک احساسات، جذبات، مزاج، روایات و دستور کی روح کھینچ کر آگئی ہے اور جس کو پی کر جماعت کے افراد ایک ہی کیف میں ڈوب جاتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کسی ملک میں صحیح معنوں میں قومی تہذیب اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سارے ملک کی زبان ایک ہوگئی ہو یا کم سے کم مقامی زبانوں کے ساتھ ایک مشترک زبان بھی پیدا ہوچکی ہے۔‘‘ 6
اردو زبان کو ہندوستان کی 22آئینی زبانوں میں قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے معاشرتی اور لسانی پس منظر میں کھڑی بولی، برج، اودھی، بھوجپوری، پنجابی اور دکنی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اور پھر اٹھارہویں صدی کی پوری ادبی وشعری روایت جس کے ذریعے اس مخلوط زبان کا مزاج اور اس کی فکری روایت کا خاکہ مرتب ہوا۔ مذکورہ بولیوں کا ادب ہو یا پھر ہنداسلامی تہذیب کا اختلاط اور ان سب سے علیحدہ بھکتی تحریک اور تصوف کی انسان دوستی اورروحانی بنیادیں سب اردو کے تہذیبی روابط کی داستانیں ہیں۔ اردو اور اس کے تہذیبی روابط سے جس کلچر اور تہذیب کا فروغ ہوااسے یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس میں نظریاتی یا مسلکی اختلاف، لسانی عصبیت اور فرقہ وارانہ گروہ بندی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اردوکے تہذیبی روابط میں متعدد زبانیں اور مختلف لسانی وادبی روایات اور شعریاتی سلسلے ہیں جو باہم ایک دوسرے سے مربوط بھی ہیں اور کسی قدرمختلف بھی۔ تاہم ملک وقوم کے ذہن ومزاج اور ان کی تاریخ وتہذیب سے ہی کسی قوم وملک کے ادب کا ہیولیٰ تیار ہوتاہے۔ اس میں آفاقی اصول بھی بروئے کار لائے جاتے ہیں مگر ادب کی اختصاصی نوعیت اور شناخت اس کی مقامیت سے ہی قائم ہوتی ہے۔ گوپی چند نارنگ نے اپنی کتاب ’اردو غزل اور ہندوستانی ذہن وتہذیب‘ میں لکھا ہے:
’’تہذیبی رشتے براہ راست اورسادہ نہیں ہوتے۔ نوعیت کے اعتبار سے تہذیبی رشتے خاصے پیچیدہ اور جدلیاتی ہوتے ہیں ا ور ذہن ومزاج اورتاریخ عمرانیات میں گتھے ہوئے ہوتے ہیں… فردوسی ورومی وسعدی وحافظ ہر چند کہ اپنی تہذیب کے بطن سے پیدا ہوئے۔ لیکن یہ اسی تہذیب کے معمار اور اس کے نقش گر بھی ہیں۔ بعینہ والمیکی ہوں، ویاس یا کالیداس، یہ ہندوستانی ذہن ومزاج یا تہذیب وشعریات کے پروردہ یا تشکیل کردہ بھی ہیں اور اس کے تشکیل کنندہ بھی۔ یہی معاملہ جدید ہندوستانی ادبی روایتوں اور کلچر کا بھی ہے۔ اردو ملی جلی ادبی اور تہذیبی روایتوں کے بطن سے ابھری ہے اور اپنی نقش گری خود بھی کرتی ہے۔ ‘‘7
کوئی بھی ادبی وتہذیبی روایت سادہ نہیں ہوتی۔ پیچیدگیاں ہونے کے باوجود اس میں مختلف ادبی وتہذیبی، تاریخی وثقافتی، قومی اور بین الاقوامی دھاروں کا انضمام ہوتاہے۔ زبان تو معاشرتی زندگی کی بنیاد پر ہی بنتی ہے اس لیے اس کا کوئی مذہب بھی نہیں ہوتا۔ اردو کے تہذیبی روابط بھی اسی ہیئت اجتماعی کے پروردہ ہیں جس پر اس زبان کی تاریخ استوار ہوئی ہے۔ تہذیبی وثقافتی روایتیں چاہے جتنی بھی غیر متوقع اور انقلاب آفریں کیوں نہ ہوں ان کے اندر صدیوں کی تہذیبی تاریخ ایک خاموش آواز کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ اردو تہذیب میں نظم ونثر کی جتنی اصناف ہیں ان میں عمومیت کے باوجود ایک مشترکہ تصور،کثرت میں وحدت اور اختصاص کا ایک عنصر بہر حال موجود ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس میں اپنی مقامیت کے باوجود آفاقیت بھی نظرآتی ہے۔ ہندوستانی تہذیب اردو زبان اور اس کے ادب سے بنیادی طورپر باہم آمیز ہے اس کی نظم ونثر کے ابتدائی نمونے، کتابوں کے موضوعات، تصوف، اخلاقیات، وید مقدس اور وطن عزیز کی مختلف تہذیبی ومعاشرتی بساط اپنے تہذیبی روابط کی عکاس ہیں۔ امیر خسرو، خواجہ بندہ نواز گیسو دراز، دکنی تہذیب کی مقامیت،محمد قلی قطب شاہ کی شاعری، ابراہیم عادل شاہ ثانی کی کتاب ’نورس‘ ولی دکنی کی غزلوں میں محبت کے عناصر کے ساتھ ہندوستانی زندگی کی تصویر یں گنگا جمنا، کرشن، رام، سرسوتی، اور لکشمی کے نام کا باربار آنا تہذیبی وحدت کی جانب بڑھتے ہوئے اس زبان کے قدم انہی تصورات کا اشاریہ ہیں۔ ولی، سراج سے لے کر افضل جھنجھانوی، میر تقی میر، نظیر، غالب اقبال اور فراق گورکھپوری تک سب نے اپنی اسی مشترکہ تہذیبی وراثت کی پاسداری کی ہے اور اسی ذمہ داری کو سنبھالا ہے جس پر اردو تہذیب کی بنیاد استوار ہوئی تھی۔ بقول شمیم حنفی:
’’جس تہذیب کی تعمیر میں حاکم اوررعایا، صوفی سنتوں، درویشوں اور دنیاداروں نے خانقاہوں، درباروں اور بازاروں نے برابر کا حصہ لیا ہو، اس کا مجموعی مزاج یہی کچھ ہونا بھی چاہیے تھا۔ ‘‘ 8
اردو کی شاعری ہو یا اس کے تہذیبی روابط دونوں کی کوئی متعین صورت نہیں ہے۔ شاعری میں جہاں قومی اور بین الاقوامی تجربات کے اثرات نظرآتے ہیں،وہیں اس کے تہذیبی روابط بھی صرف مقامی حد تک محدود نہیں ہیں۔ اس میں بھی مختلف زبانوں، تہذیبوں اور ادبی روایات کا انضمام ہوتارہاہے۔ اس لیے اس کی تہذیب وثقافت اورتہذیبی روابط کی کوئی مخصوص اور متعین شکل نہیں ہے۔
حواشی
1. جاوید نامہ اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ ،اقبال ریویو، اپریل 2008،ص 23
2. آب حیات: محمد حسین آزاد،کتابی دنیا، دہلی، ایڈیشن، 2014ص83
3. ایضاً،ص 10
4. اردو ادب کی تنقیدی تاریخ: سید احتشام حسین، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، 2016، ص7
5. تعصبات:عتیق اللہ، ایم آر پبلی کیشنز، نئی دہلی، 2005ص 50
6. قومی تہذیب کامسئلہ،ترقی اردو بیورو، 1980، ص204-5
7. اردو غزل اور ہندوستانی ذہن وتہذیب: گوپی چند نارنگ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی 2002، ص19-20
8. اردو کلچر اور تقسیم کی وراثت: شمیم حنفی،تخلیق کار، پبلی کیشنز، دہلی، 2011،ص44

Maaz Ahmad

Email: maaz.ahmad691@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اس سمندر میں بہت لعل وگہر،مضمون نگار:غضنفر

اردو دنیا،جون 2026: جو لوگ زبانوں کو قریب سے دیکھتے ہیں اور ان کی ساخت اور ماہیت کو سمجھتے ہیں وہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ زبانیں

اردو زبان کا فروغ اور مصنوعی ذہانت،مضمون نگار:اختر آزاد

اردو دنیا،اپریل 2026: اردوزبان ہماری تہذیبی وراثت کی امین ہے۔ اس کے اندر جو شعری لطافت، فکری شگفتگی ، نثری شائستگی اور فکری وسعت ہے اس نے مجموعی طور پر

گروکل کا تعلیمی نظام اور جدید تعلیم ،مضمون نگار: آفتاب عالم

اردو دنیا،نومبر 2025 ہندوستان کاقدیم تعلیمی نظام ہزارسالوں کا سفر طے کرنے کے بعد معرض وجود میں آیاہے جو علم کے ایک وسیع اور کثیر شعبہ جاتی نظام پر مشتمل