تحریک آزادی کا علمی، ادبی اور صحافتی مرکز،مضمون نگار: محمد شاہد خان

August 10, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اگست2026:

الٰہ آباد (موجودہ پریاگ راج) برِّصغیر کے ان معدودے چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جنھیں قدرت نے جغرافیائی اہمیت، تاریخی عظمت، مذہبی تقدس، علمی روایت اور سیاسی مرکزیت جیسی متعدد خصوصیات سے نوازا ہے۔ گنگا، جمنا اور اساطیری روایت کے مطابق سرسوتی کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث یہ شہر صدیوں سے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ قدیم ہندو مذہبی متون میں اسے ’پریاگ‘ یعنی ’یگیہ کا سب سے مقدس مقام‘ قرار دیا گیا ہے، جب کہ مغل عہد میں شہنشاہ اکبر نے 1583 میں یہاں عظیم الشان قلعہ تعمیر کروا کر اس شہر کا نام ’الٰہ آباد‘ رکھا، جو بعد ازاں علمی، انتظامی اور سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
برطانوی اقتدار کے قیام کے بعد الٰہ آباد کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ انگریز حکومت نے اسے شمال مغربی صوبہ جات (North- Western Provinces) کا انتظامی مرکز بنایا، جہاں ہائی کورٹ، سرکاری دفاتر، ریلوے، ڈاک اور تعلیمی اداروں کا جال بچھایا گیا۔ اگرچہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد استعماری اقتدار کو مستحکم کرنا تھا، لیکن یہی ادارے آگے چل کر قومی بیداری اور تحریکِ آزادی کے مراکز میں تبدیل ہوگئے۔ خصوصاً عدالتوں، تعلیمی اداروں اور صحافتی مراکز نے ایک ایسے تعلیم یافتہ متوسط طبقے کو جنم دیا جس نے غلامی کے خلاف فکری مزاحمت کو منظم شکل دی۔
علمی اعتبار سے الٰہ آباد کو غیر معمولی امتیاز حاصل رہا۔ 1887 میں قائم ہونے والی الٰہ آباد یونیورسٹی نے بہت جلد برِّصغیر کے ممتاز علمی مراکز میں اپنی جگہ بنا لی۔ اعلیٰ معیارِ تعلیم، نامور اساتذہ اور آزاد فکری ماحول کے باعث اسے ’مشرق کا آکسفورڈ‘(Oxford of the East) کہا جانے لگا۔ اس جامعہ نے ایسے دانشور، ادیب، سیاست داں، قانون داں اور صحافی پیدا کیے جنھوں نے نہ صرف ہندوستان کی فکری زندگی کو متاثر کیا بلکہ تحریکِ آزادی کی نظریاتی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ یہاں علمی مباحث، ادبی نشستیں، طلبہ تنظیمیں اور سیاسی سرگرمیاں ایک دوسرے سے اس طرح مربوط تھیں کہ جامعہ محض ایک تدریسی ادارہ نہیں بلکہ قومی شعور کی آبیاری کا مرکز بن گئی۔ آلِ احمد سرور لکھتے ہیں:
’’الہ آباد یونیورسٹی صرف درس گاہ نہیں بلکہ ہندوستان کی فکری تربیت گاہ تھی۔‘‘ (ادبی مضامین آلٰہ آباد)
اسی طرح الٰہ آباد کی صحافتی روایت نے بھی اس شہر کی فکری شناخت کو مستحکم کیا۔ اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات و رسائل نے قومی افکار کی اشاعت، عوامی رائے عامہ کی تشکیل اور سامراجی مظالم کو بے نقاب کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی حکومت نے اس شہر کے اخبارات اور مطابع کو مسلسل نگرانی، سنسرشپ اور قانونی کارروائیوں کا نشانہ بنایا، لیکن اس کے باوجود صحافیوں اور اہلِ قلم نے اظہارِ حق سے دست بردار ہونا قبول نہ کیا۔
الٰہ آباد کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا کثیرالثقافتی اور ہمہ گیر ادبی ماحول تھا۔ یہاں اردو اور ہندی دونوں زبانیں نہ صرف فروغ پاتی رہیں بلکہ قومی تحریک کے دوران ایک مشترکہ فکری دھارے کی صورت اختیار کر گئیں۔ مشاعرے، کوی سمیلن، ادبی انجمنیں، مطالعاتی حلقے اور علمی مباحث اس شہر کی تہذیبی زندگی کا لازمی حصہ تھے۔ اس ماحول میں اکبر الٰہ آبادی، فراق گورکھپوری، نوح ناروی، اصغر گونڈوی، سوریا کانت ترپاٹھی نرالا، مہادیوی ورما، سمترا نندن پنت اور متعدد دیگر اہلِ قلم نے ادب کو قومی بیداری کا موثر ذریعہ بنایا۔
سیاسی اعتبار سے بھی الٰہ آباد کی حیثیت غیر معمولی تھی۔ یہی وہ شہر تھا جہاں بعد کے ادوار میں سوراج بھون اور آنند بھون جیسے تاریخی مراکز قائم ہوئے، جنھوں نے ہندوستان کی قومی سیاست کا رخ متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان عمارتوں میں نہ صرف کانگریس کی اعلیٰ سطحی نشستیں منعقد ہوئیں بلکہ آزادی کی جدوجہد سے متعلق اہم فیصلے بھی یہیں کیے گئے۔ پنڈت موتی لال نہرو، پنڈت جواہر لال نہرو، مدن موہن مالویہ، پرشوتم داس ٹنڈن، تیج بہادر سپرو، کیلاش ناتھ کاٹجو اور دیگر ممتاز قومی رہنما اسی شہر سے وابستہ رہے، جس کے باعث الٰہ آباد عملی طور پر ہندوستان کی قومی سیاست کا مرکز بنتا چلا گیا۔
ڈاکٹر راجندر کماری باجپئی اس حوالے سے لکھتی ہیں کہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں الٰہ آباد صرف ایک انتظامی یا تعلیمی شہر نہیں رہا، بلکہ وہ قومی سیاست، صحافت اور فکری بیداری کا ایسا مرکز بن چکا تھا جہاں سے تحریکِ آزادی کی متعدد اہم سرگرمیوں کو سمت ملتی تھی۔
(باجپئی، ڈاکٹر راجندر کماری، 1985 مضمون 1857سے 1942تک کے یوگ دان، ص1)
درحقیقت الٰہ آباد کی اصل قوت اس کے مختلف اداروں اور طبقات کے درمیان موجود فکری ہم آہنگی تھی۔ یہاں سیاست دانوں، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، اساتذہ، وکلا اور طلبہ نے آزادی کو ایک مشترکہ قومی مقصد کے طور پر قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر میں سیاسی تحریک، ادبی بیداری، صحافتی مزاحمت اور تعلیمی سرگرمیاں ایک دوسرے کی معاون ثابت ہوئیں اور ایک ایسا قومی ماحول تشکیل پایا جس نے آنے والے عشروں میں تحریکِ آزادی کو نئی قوت اور نئی سمت عطا کی۔
اسی تاریخی، علمی اور فکری پس منظر نے 1857 کی جنگِ آزادی کے دوران الٰہ آباد کو برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کا ایک اہم مرکز بنا دیا۔ مولوی لیاقت علی کی قیادت میں یہاں جو عوامی بغاوت برپا ہوئی، اس نے نہ صرف اس شہر بلکہ پورے شمالی ہندوستان میں آزادی کی تحریک کو ایک نئی جہت عطا کی۔
بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں تک الٰہ آباد قومی سیاست، صحافت، تعلیم اور زبان و ادب کا ایسا ہمہ جہت مرکز بن چکا تھا جہاں آزادی کی تحریک کے سیاسی، فکری اور ثقافتی پہلو باہم مربوط ہوکر آگے بڑھ رہے تھے۔ یہی فضا آگے چل کر ہوم رول تحریک، تحریکِ خلافت، عدم تعاون تحریک اور انقلابی سرگرمیوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوئی، جنھوں نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کو عوامی تحریک میں تبدیل کردیا۔
بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ہندوستان کی قومی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اگر ابتدائی دور میں آزادی کی جدوجہد زیادہ تر آئینی مطالبات اور سیاسی اصلاحات تک محدود تھی، تو اب اس کا دائرہ وسیع ہوکر عوامی مزاحمت، قومی بیداری اور ہمہ گیر عوامی شرکت تک پہنچ چکا تھا۔ اس تبدیلی میں جہاں قومی رہنماؤں کی بصیرت اور عوامی تحریکوں نے بنیادی کردار ادا کیا، وہیں صحافت نے بھی آزادی کے نظریات کو عام کرنے، برطانوی مظالم کو بے نقاب کرنے اور عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ اس پورے منظرنامے میں الٰہ آباد ایک بار پھر قومی تحریک کی فکری، سیاسی اور صحافتی سرگرمیوں کا مرکز بن کر سامنے آیا۔
1916 میں ڈاکٹر اینی بسنٹ اور لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک کی قیادت میں شروع ہونے والی ہوم رول تحریک نے ہندوستان کی قومی سیاست میں نئی روح پھونک دی۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد ہندوستان کو برطانوی سلطنت کے اندر رہتے ہوئے خود اختیاری (Home Rule) دلانا تھا، لیکن اس نے عوام میں سیاسی بیداری پیدا کرکے مکمل آزادی کی تحریک کے لیے بھی راہ ہموار کی۔ الٰہ آباد میں اس تحریک کو غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہاں طلبہ، وکلا، صحافیوں اور اہلِ قلم نے ہوم رول لیگ کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جب برطانوی حکومت نے اینی بسنٹ کو نظر بند کیا تو الٰہ آباد سمیت پورے ملک میں شدید احتجاج ہوا، اور رہائی کے بعد الٰہ آباد میں ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا، جو اس شہر کے سیاسی شعور اور قومی وابستگی کا واضح ثبوت تھا۔
ہوم رول تحریک کے بعد جب مہاتما گاندھی ہندوستانی سیاست کے افق پر ایک موثر قومی رہنما کے طور پر ابھرے تو الٰہ آباد ان کی سیاسی سرگرمیوں کا بھی ایک اہم مرکز بن گیا۔ رولٹ ایکٹ، جلیاں والا باغ کے المناک سانحے اور ترکِ موالات و خلافت کی تحریکوں نے پورے ملک میں انگریز حکومت کے خلاف شدید ردِّ عمل پیدا کیا۔ الٰہ آباد کے سیاسی کارکنوں، طلبہ، ادیبوں اور صحافیوں نے ان تحریکوں میں بھرپور حصہ لیا اور شہر کی فضا مکمل طور پر قومی رنگ میں رنگ گئی۔
1920 میں آل انڈیا خلافت کانفرنس کے الٰہ آباد اجلاس نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت اختیار کی۔ اس اجلاس میں عدم تعاون تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد یہ تحریک پورے ملک میں عوامی مزاحمت کی علامت بن گئی۔ اس فیصلے نے ہندو مسلم اتحاد کو بھی تقویت بخشی اور پہلی مرتبہ آزادی کی جدوجہد وسیع پیمانے پر عوامی تحریک کی صورت اختیار کرگئی۔
اسی دور میں پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی پہلی قید کاٹی، جب کہ پنڈت موتی لال نہرو نے اپنی ذاتی رہائش آنند بھون قوم کے نام وقف کرکے اسے تحریکِ آزادی کا مستقل مرکز بنا دیا۔ اس ایثار اور قومی جذبے نے ہندوستانی عوام کو یہ پیغام دیا کہ آزادی کی جدوجہد صرف تقاریر یا قراردادوں سے نہیں بلکہ عملی قربانیوں سے کامیاب ہوگی۔
اگر سیاسی تحریکوں نے عوام کو متحرک کیا تو صحافت نے ان تحریکوں کو فکری بنیاد فراہم کی۔ الٰہ آباد کی صحافت نے برطانوی اقتدار کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے، قومی شعور بیدار کرنے اور آزادی کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے میں بے مثال کردار ادا کیا۔ اس شہر سے شائع ہونے والے اخبارات محض اطلاعات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ وہ قومی مزاحمت کی آواز اور آزادی کے علمبردار تھے۔
نومبر 1907 میں شانتی نارائن بھٹناگر کی ادارت میں روزنامہ سوراج کا اجرا ہوا۔ اس اخبار کے قیام کا بنیادی مقصد لالہ لاجپت رائے اور سردار اجیت سنگھ کی نظربندی کے خلاف عوامی آواز بلند کرنا تھا، لیکن ابتدا ہی سے اس کا لہجہ برطانوی حکومت کے خلاف نہایت بیباک اور جارحانہ تھا۔ اس کے اداریوں اور مضامین نے ہندوستانیوں میں قومی غیرت اور آزادی کے جذبے کو مہمیز دی، جس کے نتیجے میں برطانوی حکومت نے اسے مسلسل مقدمات، جرمانوں اور سنسرشپ کا نشانہ بنایا۔
جب اس اخبار میں انقلابی نوجوان خدی رام بوس کے حق میں ایک مضمون شائع ہوا تو حکومت نے مدیر کو طویل مدت کی قید کی سزا سنائی۔
(سنہا، ہرندر پرتاپ، 1953کتاب ’بھارت کو پریاگ کی دین‘، ص 324)
لیکن حیرت انگیز امر یہ تھا کہ ایک مدیر کے گرفتار ہونے کے بعد دوسرا مدیر ذمہ داری سنبھال لیتا اور اخبار کی اشاعت جاری رہتی۔ یوں یکے بعد دیگرے آٹھ مدیر مقرر ہوئے اور ہر ایک نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر آزادی کی آواز کو خاموش نہ ہونے دیا۔
اس سلسلے میں شائع ہونے والا وہ تاریخی اشتہار ہندوستانی صحافت کی قربانی، جرأت اور بے مثال عزم کی ایک زندہ علامت بن گیا ؎
’’ضرورت ہے ایسے مدیر کی جو دو خشک روٹیاں، ایک گلاس پانی اور ہر اداریے کے عوض دس سال قید قبول کرنے پر آمادہ ہو۔‘‘
یہ اشتہار درحقیقت برطانوی استبداد کے خلاف ہندوستانی صحافت کے غیر متزلزل عزم کا اعلان تھا۔ بالآخر 1910 کے پریس ایکٹ کے تحت حکومت نے روزنامہ سوراج کو بند کردیا، لیکن اس کی صحافتی روایت آنے والی نسلوں کے لیے آزادیِ صحافت، حق گوئی اور قومی مزاحمت کی ایک روشن مثال بن گئی۔
اسی صحافتی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 1909 میں پنڈت سندر لال کی ادارت میں کرم یوگی جاری ہوا، جب کہ ابھیودے اور بھوشیہ جیسے اخبارات نے بھی قومی فکر، انقلابی شعور اور آزادی کے نظریات کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان تمام جرائد نے ہندوستانیوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے، سامراجی مظالم کو بے نقاب کرنے اور قومی تحریک کو نظریاتی استحکام فراہم کرنے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
(باجپئی، ڈاکٹر راجندر کماری، 1985)، مضمون 1857سے 1942تک کے یوگ دان، ص4)
الٰہ آباد کی صحافت کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس نے ادب، سیاست اور عوامی شعور کو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونے دیا۔ ادیب، شاعر، صحافی اور سیاسی کارکن ایک ہی قومی مقصد کے لیے سرگرم تھے۔ اخبارات میں شائع ہونے والی نظمیں، مضامین، طنزیہ تحریریں، اداریے اور تبصرے عوام کے دلوں میں آزادی کی ایسی تڑپ پیدا کرتے تھے جسے برطانوی حکومت اپنے تمام تر جبر کے باوجود ختم نہ کرسکی۔
اسی سیاسی اور صحافتی ماحول نے آگے چل کر اکبر الٰہ آبادی، فراق گورکھپوری، نرالا، مہادیوی ورما، ترقی پسند ادیبوں اور دیگر اہلِ قلم کو ایک ایسی فکری فضا فراہم کی جس میں ادب براہِ راست قومی تحریک کا ترجمان بن گیا۔ چنانچہ الٰہ آباد میں صحافت اور ادب دو الگ شعبے نہیں تھے بلکہ ایک ہی قومی شعور کے دو موثر اظہار تھے، جنھوں نے آزادی کی تحریک کو عوامی سطح پر مقبول، مضبوط اور پائیدار بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔
الٰہ آباد یونیورسٹی، آنند بھون، سوراج بھون، قومی اخبارات، ادبی انجمنیں، مشاعرے اور علمی مجالس نے مل کر ایک ایسا فکری ماحول تشکیل دیا جس میں اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے ادیبوں نے آزادی کو اپنی تخلیقی زندگی کا بنیادی موضوع بنا لیا۔ یہاں ادب محض حسن و عشق کی روایت تک محدود نہ رہا بلکہ قومی آزادی، سماجی انصاف، تہذیبی خودمختاری اور استعماری مزاحمت کا ترجمان بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ الٰہ آباد کی ادبی روایت ہندوستان کی قومی تحریک کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔
1857 کے بعد جب برطانوی حکومت نے ہندوستان میں سخت گیر پالیسیاں نافذ کیں اور سیاسی اظہار پر پابندیاں عائد کیں تو اہلِ قلم نے استعارے، علامت، طنز اور مزاح کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ اسی فضا میں لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کا ظہور ہوا، جنھوں نے اردو شاعری کو استعمار مخالف فکر کا ایک موثر ذریعہ بنا دیا۔
اکبر الٰہ آبادی کا کردار تحریکِ آزادی میں ایک منفرد ثقافتی محافظ کا تھا۔ وہ صرف برطانوی سیاسی اقتدار کے مخالف نہیں تھے بلکہ اس تہذیبی اور ذہنی غلامی کے بھی شدید ناقد تھے جسے انگریز ہندوستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ چونکہ وہ سیشن جج کے منصب پر فائز تھے، اس لیے براہِ راست سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا ان کے لیے ممکن نہ تھا، لیکن ان کے قلم نے وہ کام انجام دیا جو بہت سے سیاسی خطابات بھی نہ کرسکے۔ انھوں نے طنز و مزاح کو استعمار کے خلاف ایک موثر فکری ہتھیار میں تبدیل کردیا۔
مثلاً وہ کہتے ہیں ؎
غافل نہ ہو اصولِ ترقی سے ایک دم
غوغا ہے چار سو پٹ دی وال ان دی نیٹ کا
اکبر کو غرض فخر مآثر سے ہے اپنے
چرچا نہیں کچھ اس کو کمیٹی و بجٹ کا
ڈاکٹر محمد حسن اس حوالے سے لکھتے ہیں :
’’اکبر بظاہر ماضی پرست نظر آتے ہیں، لیکن ان کا شعور گہرا سیاسی تھا اور انھوں نے برطانوی سامراج کے ثقافتی حملے کو سب سے پہلے بھانپا تھا۔‘‘
(اردو ادب کی سماجیاتی تاریخ، ص20)
یہ وہی زمانہ تھا جب مہاتما گاندھی کی قیادت میں ہندوستان کی قومی تحریک نئی منزلوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اکبر الٰہ آبادی نے گاندھی جی کی شخصیت، قیادت اور عوامی مقبولیت کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ ان کی جدوجہد کو اپنی شاعری کا موضوع بھی بنایا۔ بعد میں ان کی اس نوعیت کی نظموں اور قطعات کو ’گاندھی نامہ‘ کے عنوان سے یکجا کیا گیا۔
اس سلسلے کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
انقلاب آیا نئی دنیا نیا ہنگامہ ہے
شاہ نامہ ہو چکا اب دور گاندھی نامہ ہے
طبع گاندھی گورمنٹ کو برہم نہ کرو
ہاتھ پائی ہے شب وصل کی کچھ غم نہ کرو
بدھو میاں بھی حضرت گاندھی کے ساتھ ہیں
گو مشتِ خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں
اکبر الٰہ آبادی کی شاعری نے عوام کو یہ احساس دلایا کہ آزادی کی جنگ صرف میدانِ کارزار میں نہیں بلکہ فکر، تہذیب اور زبان کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ اسی لیے ان کا یہ شعر آزادی کے متوالوں کی زبان پر رہتا تھا ؎
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
یہ شعر اس حقیقت کا مظہر ہے کہ الٰہ آباد کی صحافت اور ادب نے مل کر قومی تحریک کو نظریاتی استحکام بخشا۔
اسی ادبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری نے الٰہ آباد یونیورسٹی میں تدریس کے ساتھ ساتھ قومی شعور کی آبیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ خود تحریکِ عدم تعاون کے دوران 1920 میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے تھے۔ ان کی شاعری میں انسانی آزادی، وطن دوستی اور ظلم کے خلاف احتجاج نمایاں نظر آتا ہے۔ مثلاً ؎
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
میری صدا ہے گل شمع شام آزادی
سنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی
لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی
فراق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اعجاز حسین اور سید احتشام حسین نے بھی اپنی تنقیدی تحریروں کے ذریعے نوجوان نسل کے اندر آزادی، جمہوریت اور قومی خودمختاری کا شعور پیدا کیا۔ ان کی تحریریں محض ادبی تنقید نہیں بلکہ فکری بیداری کی دستاویزات تھیں۔
اسی ادبی ماحول میں داغ دہلوی کے ممتاز شاگرد نوح ناروی نے بھی الٰہ آباد کو اپنا مسکن بنایا۔ اگرچہ ان کی شاعری کلاسیکی روایت سے وابستہ تھی، لیکن ان کے کلام میں حب الوطنی اور قومی وقار کے جذبات بھی نمایاں تھے۔ اسی طرح اصغر گونڈوی نے اپنی شاعری کے ذریعے حوصلہ، استقلال اور آزادی کی آرزو کو آواز دی۔ ان کا یہ شعر اس قومی مزاج کی بہترین ترجمانی کرتا ہے ؎
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
اردو کے ساتھ ساتھ ہندی ادب نے بھی الٰہ آباد میں تحریکِ آزادی کی فکری تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ سوریا کانت ترپاٹھی نرالا، مہادیوی ورما اور سمترا نندن پنت اس ادبی فضا کے تین ایسے روشن مینار تھے جنھوں نے چھایا واد کی جمالیاتی روایت کو قومی آزادی اور انسانی وقار کے تصورات سے ہم آہنگ کردیا۔ ان کی شاعری میں رومانویت کے ساتھ ساتھ استعمار کے خلاف علامتی مزاحمت بھی پوری قوت سے جلوہ گر ہوتی ہے۔
نرالا کی نظموں نے برطانوی حکومت کے معاشی استحصال اور سماجی ناانصافی کو بے نقاب کیا۔ ان کی نظمیں ’بھیکشوک‘ اور ’بادل راگ‘ اسی مزاحمتی شعور کی نمائندہ تخلیقات ہیں۔ چندر شیکھر آزاد کی شہادت کے بعد نرالا نے نوجوانوں میں حریت اور خودداری کے جذبات بیدار کرنے کے لیے متعدد نظمیں لکھیں۔ ان کی مشہور نظم کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
जागो फिर एक बार
प्यार जगाते हुए हारे सब तारे तुम्हें
अरुण पंख तरुण किरण
खड़ी खोलती द्वार
जागो फिर एक बार

اسی ادبی روایت کو مہادیوی ورما نے ایک نئے فکری اور سماجی شعور سے ہم آہنگ کیا۔ وہ محض ہندی ادب کی ممتاز شاعرہ ہی نہیں بلکہ ایک فعال سماجی مصلح اور قومی تحریک کی ہمدرد بھی تھیں۔ الٰہ آباد میں پریاگ مہیلا ودیا پیٹھ کی پرنسپل کی حیثیت سے انھوں نے خواتین میں تعلیم، خود اعتمادی، قومی شعور اور سماجی خدمت کے جذبے کو فروغ دیا۔ ان کی شاعری میں آزادی، استقلال اور انسانی وقار کا تصور نہایت لطیف مگر موثر انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ ان کے یہ اشعار اس عزم و استقلال کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں:
पंथ होने दो अपरिचित,
प्राण रहने दो अकेला।
घेर ले छाया अमात्य, आज कज्जलं अश्रु झर
में
झुक न देगा दृग पलक में, स्वर्ण अभिलाषा का

लेख ।

اسی طرح ان کا یہ معروف گیت جدوجہد،استقلال اور مقصد سے وابستگی کا استعارہ بن گیا:
बांध लेंगे क्या तुझे ये मोम के बंधन सजीले
पंथ की बाधा बनेंगे तितलियों के पर रंगीले
विश्व का क्रंदन भुला देगी मधुप की मधुर
गुनगुन
जाग तुझको दूर जाना।

اسی سلسلے کی ایک اور اہم شخصیت سمترا نندن پنت تھے، جنھوں نے اپنی شاعری میں فطرت، انسان دوستی اور آزادی کے تصورات کو حسین امتزاج کے ساتھ پیش کیا۔ اگرچہ ان کی شناخت بنیادی طور پر چھایا وادی شاعر کی ہے، لیکن ان کے کلام میں قومی بیداری اور انسانی آزادی کی آرزو بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔ نرالا، مہادیوی ورما اور پنت نے مل کر الٰہ آباد کو ہندی ادب کا وہ مرکز بنا دیا جہاں شاعری قومی شعور کی تشکیل کا موثر وسیلہ بن گئی۔
اسی زمانے میں الٰہ آباد کی ادبی فضا ترقی پسند فکر سے بھی آشنا ہوئی۔ 1936 میں لکھنؤ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کے بعد الٰہ آباد اس تحریک کا مضبوط ترین مرکز بن کر ابھرا۔ چونکہ انجمن کا مرکزی دفتر الٰہ آباد منتقل ہوچکا تھا، اس لیے یہاں ادبی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آگئی۔
چنانچہ 1937 میں الٰہ آباد میں اردو اور ہندی ادیبوں کی ایک مشترکہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس کے انعقاد میں سودیشی انجمن نے اہم کردار ادا کیا۔ اس انجمن کی سیکرٹری محترمہ شیام کماری نہرو تھیں، جنھیں ترقی پسند ادب سے خصوصی دلچسپی تھی۔ یہ اجلاس سودیشی نمائش کے پنڈال میں منعقد ہوا، جب کہ اس کی مجلسِ صدارت میں مولوی عبدالحق، آچاریہ نریندر دیو اور پنڈت رام نریش ترپاٹھی شامل تھے۔ اس کانفرنس نے اردو اور ہندی کے ادیبوں کو ایک مشترکہ قومی پلیٹ فارم پر جمع کیا اور ادب کو قومی آزادی اور سماجی اصلاح کے وسیع تر مقاصد سے وابستہ کرنے کی راہ ہموار کی۔
اس کامیاب کانفرنس کے بعد مارچ 1938 میں انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایک اور عظیم الشان ادبی اجتماع الٰہ آباد میں منعقد کیا۔ اس مرتبہ کوشش کی گئی کہ صرف اتر پردیش ہی نہیں بلکہ دیگر صوبوں سے بھی ممتاز ادیب اور شاعر شرکت کریں۔ یہ کوشش کامیاب رہی اور بہار، پنجاب، گجرات، لاہور اور دوسرے علاقوں سے بڑی تعداد میں اہلِ قلم اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔
یہ اجلاس بھی سودیشی نمائش کے پنڈال میں منعقد ہوا، جب کہ اس کے مہتمم پنڈت بشمبھر ناتھ پانڈے تھے، جو اس زمانے میں انجمن کی الٰہ آباد شاخ کے جنرل سیکرٹری تھے۔
اس کانفرنس میں سجاد ظہیر پہلے ہی الٰہ آباد میں موجود تھے، جب کہ لاہور سے فیض احمد فیض، لکھنؤ سے ڈاکٹر عبد العلیم، حیات اللہ انصاری، جوش ملیح آبادی، آنند نارائن مُلا، اسرار الحق مجاز، علی سردار جعفری، علی گڑھ سے شاہد لطیف اور اشرف علی، بنارس سے امرت رائے، سریندر بالو پوری، گجرات سے کاکا کالیلکر اور مقامی اہلِ قلم میں اعجاز حسین، فراق گورکھپوری، سید احتشام حسین اور وقار عظیم نے شرکت کی۔
الٰہ آباد کی ادبی روایت کا ایک نہایت اہم باب چندر شیکھر آزاد کی شہادت سے بھی وابستہ ہے۔ 27فروری 1931کو الفریڈ پارک میں جب برطانوی پولیس نے انھیں چاروں طرف سے گھیر لیا تو انھوں نے طویل مقابلے کے بعد گرفتار ہونے کے بجائے اپنی آخری گولی خود پر چلا کر آزادی کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔ ان کی یہ قربانی ہندوستانی تحریکِ آزادی کی تاریخ میں حریت، خودداری اور ایثار کی لازوال علامت بن گئی۔
(گپتا، منمتھ ناتھ، 1985)
چندر شیکھر آزاد کی اس شہادت نے الٰہ آباد کے ادبی حلقوں پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے شاعروں اور ادیبوں نے انھیں قومی ہیرو کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ خصوصاً ہندی شاعروں نے انھیں آزادی، قربانی اور قومی غیرت کی علامت بنا کر اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا۔ اس طرح ادب نے اس تاریخی واقعے کو عوامی حافظے کا مستقل حصہ بنا دیا۔
تحریکِ آزادی کے آخری مرحلے میں 1942 کی بھارت چھوڑو تحریک نے پورے ملک کی طرح الٰہ آباد میں بھی زبردست عوامی بیداری پیدا کی۔ 8 اگست 1942 کو مہاتما گاندھی کی تاریخی اپیل کے فوراً بعد شہر میں احتجاجی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔ قومی رہنماؤں کی گرفتاریاں اس تحریک کو روک نہ سکیں بلکہ طلبہ، مزدور، کسان اور عام شہری خود میدانِ عمل میں آگئے۔
خصوصاً الٰہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ نے مسلسل جلوس نکالے، قومی پرچم لہرایا اور برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ سیدا آباد، کچہری اور دیگر مقامات پر پولیس کی فائرنگ سے متعدد طلبہ، کسان اور عام شہری شہید ہوئے، لیکن عوام کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ سرکاری دفاتر پر قبضہ کرنا، کانگریسی پرچم لہرانا اور مواصلاتی نظام کو مفلوج کرنا اس عوامی مزاحمت کی نمایاں صورتیں تھیں۔
اسی دوران سرکاری افسر امیر رضا نے پولیس کی بلااشتعال فائرنگ کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ ان کا یہ اقدام اس امر کا ثبوت تھا کہ برطانوی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں سے صرف عوام ہی نہیں بلکہ بعض سرکاری اہلکار بھی شدید اختلاف رکھتے تھے۔
ان تمام تاریخی شواہد سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ تحریکِ آزادی میں الٰہ آباد کی مرکزیت محض سیاسی یا انتظامی نوعیت کی نہ تھی، بلکہ اس کی اصل طاقت اس کی علمی، ادبی، صحافتی اور تہذیبی روایت میں مضمر تھی۔ یہاں کے ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، اساتذہ، طلبہ اور سیاسی رہنماؤں نے مشترکہ طور پر ایسا فکری ماحول پیدا کیا جس نے آزادی کی تحریک کو نظریاتی استحکام، اخلاقی جواز اور عوامی وسعت عطا کی۔
جملہ حقیقت کی طرف مورخ تارا چند نے اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’الہ آباد بیسویں صدی کے ہندوستان کی سیاسی اور فکری سرگرمیوں کا ایک مرکز تھا جہاں قومی تحریک کے بڑے فیصلے تشکیل پاتے تھے۔‘‘ (ترجمہ)(History of the Freedom Movement of India, Tarachand.)

Dr. Mohd Shahid Khan
Govt. Teacher, Govt Inter College
Fatehpur- 212601 (UP)
Mob.: 8545941850
Email: shahidonly8@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

دھرمیندر:انسانیت اوراداکاری کا سنگم،مضمون نگار: منتظر قائمی

اردودنیا،جنوری 2026: دھرمیندرکا فلمی سفر بھی سندباد جہازی کی داستانوں سے کم دلچسپ اور تجسس آمیز نہیں ہے۔کہاں پنجاب کا ایک دور افتادہ گاؤں سانہوال اور کہاں بمبئی کی چمک

اکنامکس: تعارف برائے عوام،مضمون نگار:سید اطہر رضا بلگرامی

اردودنیا،جون 2026: سماجی علوم میں اکنا مکس (اقتصادیات یا معاشیات) واحد ایسا مضمون ہے جو زبان، طرز بیان، انداز تشخیص و تشریح اور اصطلاحات کے استعمال کے اعتبار سے دیگر

اُردو ماس میڈیا کی تدریس اور پروفیسر محمد شاہد حسین ،مضمون نگار: شفیع ایوب

اردو دنیا، جولائی 2026: مئی 20سنہ 2026کو 77سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہونے والے پروفیسر محمد شاہد حسین کی شناخت کے کئی حوالے ہیں۔ بنیادی طور پر